• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

خدا كي بارگاہ ميں مناجات كا فلسفہ

3 شهریور, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

خدا كي بارگاہ ميں مناجات كا كيا فلسفہ ہے؟

دعا اور مناجات بہت ہي قيمتي سرمايہ اور اسلام اورقرآن كے مسلم حقائق ميں سے ہے كہ جس كے صحيح طريقے سے استفادہ كرنے سے روح و جسم كي پرورش ہوتي ہے- الكسيس كارل (مشہور انسان شناس) كہتا ہے: “”كوئي بھي اور قوم نابود نہيں ہوئي مگر اس نے دعا كو ترك كيا ہواور اپنے آپ كو موت كيلئے تيار كيا ہو”” (يعني جس قوم نے بھي دعا كو ترك كيا ہو اس كا زوال اور نابودي قطعي اور يقيني ہے) دعا انسان كي روح اور فطرت پر بہت ہي عميق اور گہرے آثار مترتب كرتي ہے اور اس كي اس طرح تربيت كرتي ہے كہ اس معاشرے، ماحول اور وراثت كو وہ اپنے لئے محدود سمجھتا ہے- ايسا لگتا ہے كہ اگر دعا ومناجات كرنے والا تمام شرائط كے ساتھ دعا مانگے تو وہ جو كچھ بھي طلب كرے اسے مل سكتا ہے اور جس دروازے كو بھي كھٹكھٹائے وہ اس پر كھل جاتاہے”” 1

مناجات، كمال، سعادت، مقام اور حيثيت كيلئے درخواست ہے بلكہ يہ ايك ايسي چيز ہے جو دعا كرنے والے كي لياقت اور شائستگي سے حاصل ہوتي ہے اور دعا ومناجات كي تكرار ايسا شيوہ اور فرياد ہے كہ جس سے انسان كے روح پہ اثر ہوتا ہے اور اس كے وجود ميں اميد، عشق اور محبت كي قوت و طاقت پيدا ہوتي ہے جو اسے ہدف كو پانے اور اس تك پہنچانے كيلئے حركت ميں لاتي ہے-

جو انسان يہ درك كرلے اور جان لے كہ جو كچھ اس كے پاس ہے، اس كيلئے كافي نہيں ہے اور اسے قانع نہيں كرسكتا، دعا كرتا ہے تا كہ جو اس كچھ اس كے پاس ہونا چاہيے اسے مل جائے اور جيسا اسے ہونا چاہيے، اس مقام تك پہنچ جائے- ايسا ہي انسان ہميشہ ايك بہتر مستقبل اور آئيڈيل كيلئے تمنا كرتا ہے اور اس تك پہنچنے كيلئے دعا كرتا ہے- يہ ہے دعا اور اس كے فلفسہ كے بارے ميں مختصر سا خلاصہ، اب ہم تفصيل سے اس كے بارے ميں گفتگو كريں گے-

دعا كا مفہوم

لغت ميں دعا، بلانے، سوال كرنے، كسي كو پكارنے اور كسي چيز كو كسي چاہنے يا مانگنے كو كہا جاتا ہے- 2

اصطلاح ميں دعا يعني خدا وند متعال سے اس كے فضل وعنايت كي درخواست اور اسي سے مدد مانگنا اور سرانجام اس كي بارگاہ ميں نيازمندي اور عجز وانكساري كا اظہار كرنا اور انسان كے خالق كائنات سے معنوي رابطہ اور مناجات كا نام دعا ہے-

قرآن اور مناجات

قرآن بعض آيات ميں صريح طور پہ دعا اور مناجات كي دعوت ديتا ہے اور اجابت كا وعدہ بھي كرتا ہے- خدا وند متعال فرماتا ہے: “”واذا سئالك عبادي عني فاني قريب اجيب دعوۃ الداع اذا دعان فليستجيبوا لي—“” (بقرۃ:186) اور جب ميرا بندہ تجھ سے ميري دوري اور نزديكي كے بارے ميں سوال كرے تو جان ليں كہ ميں ان سے نزديك ہوں جو بھي مجھے پكارے ميں اس كي دعا كو مستجاب كروں گا-

دوسري جگہ دعا كے بارے ميں امر كرتے ہوئے فرماتا ہے: “”ادعوني اسستجب لكم ان الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جھنم داخرين”” (غافر:62) تمھارے پروردگار نے فرمايا كہ مجھے پكارو تاكہ ميں تمھاري دعا مستجاب كروں اور وہ لوگ جو مجھ سے دعا اور ميري عبادت سے منہ موڑتے ہيں اور بغاوت كرتے ہيں بہت ہي جلد ذلت كے ساتھ جہنم ميں ہوں گے-

روايات اور مناجات

1- امام باقر(ع) سے پوچھا گيا: كون سي عبادت افضل ہے؟ حضرت نے فرمايا: كوئي بھي چيز خدا كے نزديك اس سے بڑھ كر نہيں ہے كہ اس كي ذات پاك سے مانگا جائے اور دعا كي جائے اور جو كچھ اس كے پاس ہے طلب كيا جائے، اور جوانسان اس كي عبادت ودعا ميں تكبر كرے اور نہ مانگے تو اس سے بڑھ كر كوئي بھي چيز اس كے پاس مبغوض نہيں ہے- 3

2- پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا: عاجز ترين انسان وہ لوگ ہيں جو دعا نہ كرتے ہوں اور اس سے محروم ہوں- 4

3- امام علي (ع) فرماتے ہيں: خدا كے نزديك سب سے محبوب اور پسنديدہ عمل دعا اور مناجات ہے- 5

حوالہ جات:

1. الكسيس كارل: نيايش.

2. قاموس المحيط، مادہ دعا.

3. كافي: ج2، ص267.

4. عدۃ الداعي: ص24.

5. كافي: ج2، ص267.

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

روزہ کا فلسفہ اہلبيت (ع) کي نگاہ ميں

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

آیت‌الله احمد مبلغی برگزیده نخستین جایزه جهانی دیپلماسی فرهنگی و عمومی شد

17 شهریور, 1405
خبرگزاری ایکنا:نقش امام رضا(ع) در تمدن‌سازی و مبارزه با فرقه‌های انحرافی/دبیرکل مجمع جهانی شیعه‌شناسی

گفتگویِ تخصصی پایگاه « مطالعات شیعی » با دکتر آیت پیمان

17 شهریور, 1405
کنفرانس دوحه و شکاف‌های سیاسی جهان اسلام

پیام تشکر و قدرشناسی مجمع جهانی شیعه‌شناسی خطاب به آیت‌الله حاج سیدجواد شهرستانی

17 شهریور, 1405
هم‌افزایی راهبردی مراکز علمی قم و کربلا برای بسط دکترین نوین مهدویت

هم‌افزایی راهبردی مراکز علمی قم و کربلا برای بسط دکترین نوین مهدویت

17 شهریور, 1405
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpazhoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpazhoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.

بدون نتیجه
مشاهده تمام نتایج
  • Homepages
    • Home Page 1
    • Home Page 2

© 2026 JNews - Premium WordPress news & magazine theme by Jegtheme.