• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رمضان المبارک میں مصر کے ٹی وی چینل سے نشر شدہ شیخ الازہر کی گفتگو میں شیعوں پر لگائے جانے والی ناروا تہمتوں پر ایران کے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر احمد الطیب کے نام ایک خط لکھا جس میں انہیں شیعہ سنی علماء کی ایک مشترکہ علمی کانفرنس کے انعقاد کی دعوت دی۔
یہ خط جو ماہ مبارک رمضان کی ۲۹ ویں تاریخ کو لکھا گیا اس کا مکمل ترجمہ حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شیخ الازہر جناب ڈاکٹر احمد الطیب صاحب
سلام علیکم و رحمۃ ا۔۔۔
عید سعید فطر کی مناسبت سے مبارک باد پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔
سب سے پہلے آپ کا اس بات پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس سال ماہ مبارک رمضان میں ’’حدیث شیخ الازہر‘‘ کے عنوان سے امامت اور صحابہ کے موضوع پر شیعہ سنی اختلافات کے بارے میں ٹیلیویزن پر مسلسل گفتگو کی۔ مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے آپ کی تلاش و کوشش قابل قدر ہے۔
ہم آپ کی بعض باتوں پر بہت خوش ہیں جو آپ نے ان پروگراموں میں بیان کیں جیسے’’ شیعہ سنی، امت مسلمہ کے دو پر ہیں اور اس وقت جو شیعوں اور سنیوں کے درمیان ہو رہا ہے یہ مذہب کے نام پر مسلمانوں کو نابود کرنے کی سازش ہے‘‘، ’’ جب تک شیعہ و سنی شہادتین پر ایمان رکھتے ہوں تو الازہر شیعہ و سنی کے درمیان کسی طرح کے فرق کی قائل نہیں ہے‘‘۔ یہ آپ کی وہ باتیں ہیں جو فکری اور اعتقادی میدان میں الازہر کے اعتدال پسندانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن اجازت دیں آپ کے ان پروگراموں میں بیان کی گئیں کچھ دیگر باتوں کی طرف بھی اشارہ کریں:
پہلی بات یہ کہ صحابہ کو گالیاں دینے اور لعن طعن کرنے کا مسئلہ جو آپ نے بعض شیعہ افاضل کی طرف منسوب کیا اس کے بارے میں کہا جائے کہ تمام شیعہ مراجع اس کام ( صحابہ کو گالیاں دینا) سے طلب برائت کرتے ہیں۔ صرف بعض شیعہ عوام جو قابل توجہ بھی نہیں ہیں اس طرح کے کاموں میں سبقت اختیار کرتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ شیعہ عقائد کے بارے میں جو باتیں آپ نے ان پروگراموں میں بیان کیں وہ قابل بحث و تنقید ہیں۔
ہم اس احترام کے ساتھ جو آپ کی نسبت قائل ہیں یہ کہنا چاہیں گے کہ اس طرح کی باتیں میڈیا کے راستے سے بیان کرنا شیعوں اور سنیوں کے درمیان اختلافات کو مزید ہوا دینے کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں رکھتیں اور بہت سارے اسلام دشمن ان باتوں کو اپنے مقاصد کے لیے ہھتکنڈہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
اے کاش کہ یہ مسائل، علمی اور خصوصی جلسوں اور شیعہ سنی علماء کی موجودگی میں بیان کئے جاتے نہ میڈیا پر۔
بنابرایں، ہم یہاں پر ایک تجویز پیش کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی دونوں مذاہب کے بزرگ علماء کی موجودگی میں ایک علمی کانفرنس منعقد کی جائے تاکہ اس میں اسلامی اتحاد کی راہ میں پائی جانے والی اہم ترین رکاوٹوں کی چھان بین کی جائے اور دوسری جانب سے اسلامی وحدت کو تقویت پہنچانے والے اہم ترین اقدامات عمل میں لائے جائیں اور آخر میں اس علمی کانفرنس کے نتائج کو لازم الاجرا ہونے کے طور پر تمام امت مسلمہ کے لیے بیان کئے جائیں۔
ہمیں امید ہے کہ آپ ہماری اس تجویر کو قبول کریں گے تاکہ شیعہ حضرات مجبور نہ ہوں آپ کی جانب سے شیعوں پر لگائے گئے اتہامات کا میڈیا اور سیٹلائٹ چینلز کے ذریعے جواب دیں۔
آخر میں ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرنے میں اپنی کوشش جاری رکھیں گے۔ خداوند عالم سے آپ کے لیے مزید توفیقات کے خواہاں ہیں۔
                                                                       قم ــ ناصر مکارم شيرازی
                                                                      29 رمضان المبارک 1436

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

عثت نبوی اوراس کے لئے ماحول سازی

27 اردیبهشت, 1394
نوشته‌ی بعدی

قاریان باید پیام قرآن را به همه جهان برسانند

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.