• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home منتخب تحقیق اور محققین

سورہ یوسف ۔ع ۔ (43) ویں آیت کی تفسیر

20 مرداد, 1393
در منتخب تحقیق اور محققین
0

سورۂ یوسف (ع) کی 43 آیت میں خدا فرماتا ہے :

و قال الملک انّی اریٰ سبع بقرات سمان یّاکلہنّ سبع عجاف وّسبع سنبلات خضر وّ اخر یبسات یا ایّہا الملا افتونی فی رؤیای ان کنتم للرّءیا تعبرون “

 


 

( یعنی) ( بادشاہ نے ) کہا : میں نے خواب دیکھا ہے موٹی تازی سات گائیں ہیں جن کو کمزور و لاغر سات گائیں کھا رہی ہیں اور (کھیت میں) سات بالیاں بالکل سبز و تازہ ہیں اور بقیہ خشک ہوچکی ہیں ۔اے میرے امیرو! اگر تم لوگ تعبیر بیان کرتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں اپنی نظر بیان کرو ۔

عزیزان محترم ! سورۂ یوسف (ع) میں جہاں سے یہ داستان شروع ہوئی ہے تین مقامات پر خواب کا ذکر آیا ہے سب سے پہلے خود حضرت یوسف (ع) کے خواب کا ذکر ہے اس کے بعد جناب یوسف (ع) سے قید خانہ میں ملنے والے دو قیدیوں کے خوابوں کا ذکر ہے اور اب شاہ مصر کے خواب کی بات ہے جس میں شاہ نے سات موٹی تازی گائیں اس حال میں دیکھیں کہ ان کو سات دبلی پتلی کمزور و لاغر گائیں کھا رہی تھیں اور خشک بالیوں کے درمیان سات بالیاں دیکھیں جوہری اور تازہ تھیں ۔اس خواب نے شاہ کو فکرمند کردیا لہذا اس کو خواب کی حقیقت جاننے کی فکر ہوئی اور اس نے دربار میں موجود کرسی نشینوں سے اپنا خواب بیان کرکے اعلان کردیا کہ جو خواب کی تعبیر دینا جانتا ہو میرے خواب کی تعبیر بیان کرے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یوسف (ع) نے قیدخانے کے مصاحبوں کے خواب کی تعبیر بتادی مگر علی الظاہر خود یوسف (ع) کے خواب کی تعبیر کے سلسلے میں ابھی تک قرآن نے کوئی بات نہیں کی ہے البتہ بادشاہ کے خواب کی تعبیر خود حضرت یوسف (ع) کی زبانی آئندہ سامنے آئے گی۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

منتخب تحقیق اور محققین

علماء کی تحقیق اور سب سے اوپر محققین آٹھویں جشن.

26 شهریور, 1393
نوشته‌ی بعدی

محسوس فطریات

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.