دینی محقّقین کی چوتھی مجلس کا عنوان تھا( مذہب اور عالمگیریت، مواقع اور چنوتیاں) یہ کانفرنس شمسی مہینے اردیبہشت کی 18 کو کثیر تعداد میں تشریف لاۓ ہوۓعلماء، دانشوروں اور محقّقین، مذہبی مدارس اور یونیورسٹیز کے اساتذہ کے حضور میں مدرسۂ امام خمینی(رح) کے قدس نامی حال میں منعقد ہوئی جس میں جمہوری اسلامی ایران کے پردھان منتری حجّت الاسلام والمسلمین جناب خاتمی صاحب کے پیغام کو حاضرین مجلس کے سامنے پڑھا گیا۔
پردھان منتری کے پیغام کو انکے مشاور جناب ڈاکٹر خانکی نے پڑھ کر سنایا اس پیغام میں بیان کیا گیا ہے کہ: دین کے جہانی ہونے اور اس کے اندر پائی جانے والی تاثیرات میں کوئی شک نہی ہے لہذا ضرورت ہے کہ حوزہ و یونیورسٹیز کے محقّقین اور متفکّرین مجدّدانہ سعی و تلاش کریں اور نۓ نظریات کو ایجاد کریں اور مسئلہ کو درست انداز میں سمجھیں اور تمام مواقوں اور مستقبل میں آنے والی چنوتیوں سے نمٹنے کے لۓ آگے بڑھیں مجھے امّید ہے کہ محقّقین اور متفکّرین ان تمام مسائل کو مدّ نظر رکھتے ہوۓ قدم آگے بڑھائیںگے۔
ثقافت اسلامی کیمجلس عالیہ کے صدر نے تذکر دیا کہ: دینِ ثابت و ماندگار کے اندر اتنی ظرفیت پائی جاتی ہے کہ وہ خود ثابت رہتے ہوۓ بھی (چونکہ انسان کا وجود ایک ایسا امر ثابت ہے لہذا اسی مناسبت سے دین بھی ثابت ہے) انسان کے متغیّر پہلو کے ساتھ شراکت کا فعل انجام دے سکتا ہے اور انسان کو درپیش آنے والے تمام مسائل کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دین اس طرح کے تمام جنگ و جدال سے مقابلہ کی صلاحیت رکھتا ہے وہ چاہے اندرونی جنگ ہو یا باہر سے حملہ، اسلام کے پاس سبکا جواب موجود ہے مثلا باہر سے نازل ہونے والی آفتیں، دنیادار اور طالبین قدرت کا اسلام کی حقیقت سے جنگ و جدال کرنا اور اس سے بڑی مصیبت خود اسلام کے لبادے میں زندگی بسر کرنے والوں کی تاریک اور غلیظ ذہنیت ہے۔
حجّت الاسلام والمسلمین نے صراحت کے ساتھ بیان کیا کہ: دین کی تقدیس و اطلاق کا، رسومات اور آداب اجتماعی میں سرایت کر جانے کے باوجود یہ نہیں ہو سکتا کہ زمانے کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جاۓ یا انسان کے درپیش تازہ ترین ضرورتوں کو بھلا دیا جاۓ۔ درحالیکہ ان ضرورتوں کو پورا کرنا اور جدید سوالات کا جواب دینا اس زمانہ میں بھی ممکن ہے، چونکہ دین اسلام، ہمیشہ رہنے والا دین ہے اور اسمیں اتنی قدرت ہے کہ ہر زمانے میں انسان کو درپیش آنے والی تمام مشکلات کو حل کر سکے، جونکہ دین اسلام کے تمام منابع “وحی” ہیں، اسلام کے تمام مسائل کا حل “وحی” کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور وحی عین عقل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کوصحیح طریقہ سے سمجھا جاۓ ، ہمیں اس خوبی کو بھی جاننا چاہہیے کہ دین جہانی ہے اور یہ بھی جاننا چاہیۓ کہ اسکی داخلی اور خارجی مشکلات کیا ہیں۔
اس طرح کے موضوعات کو مطرح کرنے کی صحیح جگہ اسی طرح کے جلسات ہیں تاکہ دینی محقّقین زمانے کی ضروریات کو پہچانتے ہوۓ مسائل کے موضوع کو واضح اور مدلّل بیان کرنے کے لۓ کوشش کریں۔
ان کے بعد انجمن کے سکریٹری جناب محمد جواد صاحبی نےتقریر کی انہوں نے اپنی تقریر میں ہم گرائی، ہم فکری اور محقّقین دینی کے درمیان میں تقابل ایجاد کرنے پر زور دیا اور بیان کیا کہ تمام نظریات کی دقّت کے ساتھ جانچ پڑتال کرنا اورجدید موضوعات کو واضح کرنا اس مجلس کا اصلی ہدف ہے انہوں نے مزید کہا: کہ ہماری پوری کوشش یہ ہے کہ سیاسی و فکری تمام رجحانات کو کنار رکھ کر صاجبان نظر ایک ساتھ ملکر کسی ایک نقطۂ نظر تک پہونچائیں۔
انہوں نےیہ بھی کہا کہ: دین کا جہانی ہونا اگرچہ ہماری ادبیات میں ایک نیا لفظ ہے لیکن اسکا آغاز صنعت کاری کے انقلاب سے ہوا ہے مگر اس وقت اس میں شدّت آگئی ہے اور اس نے تمام حدّ و حدود کو پار کر دیا ہے۔ اور یہ لفظ گھروں تک پہونچا گیا ہے۔ اس لفظ کے موجد اس کے ذریعہ سے اپنی ثقافت حتّی سیاست کو مسلّط کرنا چاہتے ہیں۔ اور ان کے پاس چونکہ پیشرفتہ وسائل موجود ہیں لہذا وہ اس میں اور ترقی کریں گے۔
صاحبی نے بیان کیا کہ: اس کانفرنس میں ۱۰۳ مقالہ موصول ہوے۔ لیکن ان میں سے انجمن علمی نے فقط ۱۵ مقالوں کو منتخب کیا ہے جنہیں آج اس جلسہ میں حاضرین جلسہ کے سامنے پڑھ کر سنایا جائے گا اور باقی مقالہ تصحیح کے بعد منتشر کئے جائیں گے۔
مجلس مشاورت کی گزارش کے بعد پردھان منتری کے مشاور اور استراٹیزک کے صدر جناب ڈاکٹر محمد رضا تاجیک نے اپنے مقالہ کو پڑھا انکے مقالہ کا عنوان تھا ((دین اور عالمگیریت، سیکولر بنا یا مقدس بنا)) یعنی دین، عالمگیر ہونا اور اپنے آپ کو سیکولرازم کے سانچہ میں ڈھالا جائے یا قدسی سانچہ میں؟ انہوں نے اس مقالہ میں مندرجہ ذیل چند سوالات بھی اٹھائے۔
· معرفتی اور شکلی دائرے سے خارج ہونا کس طرح ممکن ہے تاکہ فکر عالمی ہو سکے؟
· کیا ممکن ہے، اس بت شکن اور حصاروں کو توڑ دینے والی دنیا میں، اپنی جان کی حفاظت اور دین کا دوسرے ادیان پر بر تری کی طرف سے مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں؟
· کیا دین و دنیا کے درمیان ایک نقشہ کے ماتحت، ممکن ہے کہ دونوں کے مابین ایک خاص رابطہ اور مسالمت آمیز تامل منطقی ایجاد کیا جاسکے؟
انہو نے دوسری تین اور چیزوں کی طرف اشارہ کیا۔ امتناعی یعنی رکاوٹیں، تخریبی یعنی اتحاد، ہم پوشانی یعنی ایک دوسرے کی خامیوں پر پردہ ڈالنا۔
ان تینو کے ذریعہ ممکن ہے کے دین اور علمی ہونے میں رابطہ برقرار کیا جاسکے ان تینوں چیزوں کو بیان کر نے کے بعد انہوں نے اس سے نتیجہ اخذ کیاکہ:
کسی مخلوق یا لفظ کے جہانی ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ مخلوق دو چہروں کی ہو جاتی ہے یعنی اس مخلوق میں موقع بھی ہوتا ہے اور چنوتی بھی، وہ مخلوق زہر قاتل بھی رکھتی ہے اور شکم پری کا ساز و سامان بھی، یہ نگاہوں کا فرق ہے کہ کس انداز سے اسے دیکھا جاۓ جس انداز سے اسے دیکھیں گے ویسی ہی معلوم ہوگی۔ اگر ہم چنوتیوں کو قابو میں کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مخلوق کی چنوتیوں سے ٹکّر لینا پڑےگی۔ ہر ملک قدرت رکھتا ہے کہ وہ بہت زیادہ اہمیت ارزش والی اشیاء کو ایجاد کرے اور ان کو صادر کرے۔ پوری دنیا میں عالمگیری کے مد مقابل بہت زیادہ قدرت کی مالک ہو۔
اس مجلس میں مفید یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے نائب حجّت الاسلام ڈاکر ناصر الہادی نے بھی اپنے مقالے کو حضّار محترم کے سامنے قرائت کیا جس کا موضوع تھا (( ختم نبوّت اور جھانی ہونا، اورنومنالسٹی و ذات گرائیکا رجحان)) انہوں نے سبسے پہلے بیان کیا کہ ان دو نظریوں کے بیان سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں ان میں سے کسی ایک نظریہ پر اعتقاد رکھتا ہوں نہیں ایسا نہی ہے میں اس میں سے کسی ایک نظریہ پر بھی ایمان نہی رکھتا انہوں نے صراحتا بیان کیا کہ موضوع خاتمیت ہمارے افعال میں ان نظریوں کے مدّ مقابل یقینا مؤثّر ہوگا۔
اسکے بعد ڈاکٹر الہادی نے شہید مطہّری اور علّامہ اقبال لاہوری کے کلام کے متعلق، بحث خاتمیت کے دو رجحارن کو اپنی بحث کا مرکز قرار دیا اور ان دونوں کے متعلق فرمایا کہ یہ دونوں نظریہ جہانی ہونے کا ہی لازمہ ہیں۔
ایک روایت جو جہانی ہونے کے مقولہ کو سیایت اور اقتصاد کے میدان میں محدود کر رہی ہے اسی ایک روایت کیوجہہے کہ اس کے نتیجہ میں ایک شیوہ انسان کی زندگی میں جریان پیدہ کر لے گا یا یہ ایک قسم کے آئیڈیل کا ادراک ہے یعنی وہی جہانی ہونا اور ہمارے افعال ان افکار کے مدّ مقابل حتما تاثیر گزار ہوں گے۔
دوسری روایت تہذیب و تمدّن کے متعلق ہے وہ روایت مسئلہ کو سیاست کی با نسبت زیادہ گہرائی سے بیان کر رہی ہے اور یہ روایتاس نظریہ کا رد کر رہی ہے جسمیں کہا گیا ہے کہ جہانی ہونے کا مطلب ہے غربی ہونا۔
اگر پہلے نظریہ کی طرف توجہ کی جاۓ تو جہانی ہونے کے مسئلہ پر پافشاری کی جاۓ گی۔ یا پھر پوری دنیا سے کنارا کشی اختیار کی جاۓ لیکن اگر دوسرے نظریہ کی طرف توجہ کی جاۓ تو اسکے متعلق بہت ہی زیادہ گفت و شنید کی ضرورت ہے اور اس نظریہ کو انتخاب کرنے کی صورت میں ہمارے سامنے تین راہیں کھلتی ہیں۔
پہلا نقطۂ نظر:- حداقل مسئلہ کی صورت یا سیاسی ہے یا اقتصادی۔
دوسرا نقطۂ نظر:- کلّی گرائی ہے جو جہانی ہونے کے مسئلہ کو پیچیدہ کر دیتی ہے۔
تیسرا نقطۂ نظر:- نیٹورکنگ چینل کی صورت ہے جو پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ کو سادہ بنا دیتی ہے۔
وزارت ٹیکنالوجی کے ڈپٹی نے مسئلہ کی شکل کے متعلق سماجی نقطۂ نگاہ سے جانچ پڑتال کی اور کہا کہ: سماجی نقطۂ نظر میں، شناخت اور مذہب کے میدان میں خودی کا اظہار ایک رینج کے اندر اندر ہے جس کا ایک پہلو میں وحدت کی طرف رجحان ہے جو تمام مذاھب کے اندر ایک مشترک چیز ہے اور دوسری طرف بنیاد پرستی یا مسلّط ہونا جو مختلف مذاہب کے بنیادی اصول ہیں۔ ہم نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف پہلوؤںکو دیکھا ہے مذہبیت اور روحانیت کے پہلوؤں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ نہی ہو سکتا کہ ایسا اتّفاق رونما ہو کہ عالمی رجحان کی یہ تیز رفتاری مذہب کی قدرت یا طاقت تمام ہونے یا سماجی اور فردی ترقّی کے رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ رجحان بھی متوقّف ہو جاۓگا۔
حجّت الاسلام مصطفی جمالی جو علوم اسلامی کے ایک محقّق اور عالم ہیں جنہوں نے فلسفہ میں M.A کی ڈگری حاصل کی انہوں نے بھی اس کانفرنس میں اپنا مقالہ سامعین کے سامنے قرائت کیا ان کے مقالے کا موضوع تھا ((سرمایہ داری نظام اور عالمگیریت اور سیکولرازم )) انہوں نے مقدقہ کے طور پر بیان کرتے ہوۓ کہا کہ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام جدیدیت کے اصولوں پر مبتنی ہے لہذا ضروری ہے کہ وہ عالمگیر ہو اور اپنے آپ کو عالمی بناتے ہوۓ اپنی وسعت رفتاری سے بھی متّفق ہو انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے عالمگیر ہونے کی اہم رکاوٹوں میں سے مذہبی ثقافت کو ایک رکاوٹ مانا ہے اور انہوں نے غربی سماج کو عیسائی مذہب ،سیکولر سے تعارف کروایا۔
جحّت الاسلام جمالی نے تاکید کی کہ یہ ایران کا اسلامی انقلاب تھا کہ جس نے اس وقت کہ جب پوری دنیا پر سرمایا داری کا نظام راج کر رہا تھا انکے راہنماوں کے سامنے انقلاب اسلامی واقع ہوکر رہا اور سرمایہ داری نظام اور اسکے عالمگیر ہونے کی راہ کا پتھر بن گیا انہوں نے اپنی گفتگو آگے بڑھاتے ہوۓ کہا کہ دین اسلام اپنی ان خاص صفات کی بنیاد پر کہ جو منحصر بہ فرد ہیں کبھی بھی اپنے آپ کو عیسائی مذہب کی طرح سیکولر نہے بننے دے گا بلکہ اسلام کی خواہش یہ ہے کہ وہ الہی سماج کو متحقّق کرے اور اسکو عالمگیر بناۓ۔
جحّت الاسلام جمالی نے جہان کی مدیریت اور ثقافت اسلامی کو رواجبخشنے اور سیکولر کو مقدّس بنانے اور دین کو انسان کی (فردی) شخصی اور سماجی زندگی میں جریان دینے کی حکمت عملی کو پیش کیا اور کہا کہ: اس طرح کے بلند و بالا مقصد کو متحقّقق کرنے کے لۓ مدارس کو چاہۓ کہ صرف ایک شخص کی حکمت عملی پر تکیہ نہ کریں اپنے روشمند اجتہاد کے ذریعہ فقہ میں وسعت دیں اور دوسری جانب اسلامی یونیورسٹیز میں بھی انسانی علوم کی تخلیق و جستجو، علوم اسلامی کی بنیاد (جہان بینی، جامع شناسی اور انسان شناسی)بنیاد پر ہو یعنی جس کو دین سے اخذ کیا گیا ہو اور آخر میں بیان کیا کہ: ان کے اجراء کرنے کا نظام بھی اسلامی کمیونٹی پر مبتنی ہوں بعنوان نمونہ: علوم اسلامی، سیاسی، اقتصادی وغیرہ ان کا محور بھی اسلام ہو تاکہ جب یہ عالمی مالیاتی نظام سے مقابلہ کریں تو اس وقت یہ عالمی نظام پر غلبہ حاصل کر جائیں۔
اس علوم اسلامی کے عالم نے اختتام تقریر پر (عرفی شدن) کے سیکولرازم کےترجمہ کو غلط بتایا اور(عرفی شدن) کو فقہ شیعہ کی بحث عرف کے مساوی تصوّر کیا اور کہا کہ یہ ایک کھلی ہوئی غلطی یے۔ آپ نے فرمایا کہ ((عرفی شدن)) کا صحیح ترجمہ دنیوی ہونا ہے اور انہوں نے خبردار کیا کہ: اگر اسلامی کمیونٹی کے یہ تینوں ادارہ اپنی ذمّہ داری پر پوری طرح سے عمل نہ کریں تو اسلامی معماری کا تعمیریفن،اور قدرت اسلام، سماج سے ختم ہو جائیگی اور اسلامی حکومت حوادث اور دیگر واقعات میں عالمی قیادت سے اپنے مقام سے نیچے آجاۓگی۔ جس کے نتیجہ میں حس دین، سماجی زندگی، یا سیکولرازم میں معوّل ہو جاۓگی۔
اس کانفرنس میں بورڈ کے ایک رکن حجّت الاسلام و المسلمین سیّد محسن موسوی نے سامعین کے لۓ کچھ توضیحات دیں انہوں نے قرآن مجید کی چند آیتوں کے ذریعہ مذہب اسلام کو تمام مذاہب کے برخلاف عالمگیر ہونے کا مدّعی جانا ہے اور انہوں نے ادّعا کیا کہ میرا اعتقاد ہے کہ قرآن مجید کی 80٪ آیتیں عالمگیر ہیں یعنی اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان بھی نہ ہو تو وہ بھی ان آیتوں پر عمل پیرا ہو سکتا ہے اور ان آیتوں پر عمل کرکے سعیدبن سکتا ہے انہوں نے عالمگیر ہونے کے متعلق کہا کہ عالمگیر ہونے کا مطلب سیکولر ہونا نہی ہے اور انہوں نے خبر دار بھی کیا کہ عالمگیر ہونے کا لازمہ سیکولر ہونا نہی ہے اور اگر کوئی اس عقیدہ کا مالک ہے تو اسکے عقیدہ کو عقیدہمنحرفہ کہا جائے گا جسمیں یہ کہا گیا ہے کہ اسلام اپنے زمانے کے سیکولرازم کو قبول کرتا ہے۔
اس کانفرنس میں ڈاکٹر علی رضا شجاعی زند تربیت مدرّس یونیورسٹی کی انجمن علمی کے رکن نے بھی مختصر سے وقت میں مذہب اور عالمگیریت، عالمگیر ہونا، عالمگیر بنانا اور عالمگیری کی طرف تمایل پیدا کرنے کے عنوان پر تقریر کی۔
انہوں نے اس نکتہ کی طرف توجّہ دلاتے ہوۓ خبردار کیا کہ متون نظری کے ترجمہ میں کاہلی اور دوسری زبان کے الفاظ کے انتخاب میں دقّت نہ کرنا جو زبان مبدا کے ہم معنی نہ ہو غلط فھمی اور مسائل میں پیچیدگی کا باعث بنتی ہے لہذا انہوں نے اپنی تقریر میں چند الفاظ کی وضاحت کی جیسا کہ عالمگیریت، عالمگیر ہونا، عالمگیر بننا، عالمگیر بنانا اور عالمگیری کی طرف تمایل پیدا کرنا۔
ڈاکٹر شجاعیی زند نے عالمگیریت کو دنیا کی حقیقت شمار کیا اور وہ چیزیں جو اسکے اجزاء کے درمیان ارتبط برقرار کرنے میں اضافہ کا سبب ہوتی ہیںوہ بغیر کسی خاص ذہنیت کے ہیں جو جدید اوضاع کے متعلق ہوتی ہیں۔ اور عالمگیر ہونے کو نظری ادبیات میں ایک عام عنوان سے جانا جاتا ہے یعنی یہ علل و عوامل کو واضح کرنے کے لۓ ایجاد کیا گیا ہے اورانہوں نے اس لفظ کو نو مولود بتایا ہے اور عالمگیر ہونے کو حال میں واقع ہونے والے نتیجہ سے تعبیر کیا اور دنیا گرائی کو ایک دفاعی نظریہ کے طور پر اس عمل کا نتیجہ بتایا۔ یونیورسٹی کے اس پروفیسر نے آخر تقریر میں متنبّہ کیا کہ: عالمگیر ہونا اور مذہب کے متعلّق صحیح جواب دریافت کرنے کے لۓ ضروری ہے جن شکلوں کو بیان کیا گیا ہے ان میں سے ہر شکل کےمتعلق جستجو کی جاۓ، لفظِ جہانی کے کلّی مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ دین نے اسکی مختلف قسموں میں تفسیر کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مہم ترین تصادم، جہان اسلام کے متعلق اس وقت یا اس جگہ سے متشکل ہوگا کہ جس وقت یہ لفظ ایک حکمت عملی کے ساتھ خاص سمتوں میں ظاہر ہو۔
ڈاکٹر حسین کچوئیاں بھی اس کانفرنس کے ایک مقرّر تھے انہوں نے دین کے عالمگیر ہونے کے متعلق گفتگو کی۔ انہوں نے اس رفتار کو تین مرحلوں میں تقسیم کیا، البتہ اس تقسیم کی بنیاد نظریہ پیش کرنے والوں کی تقسیم پر توجّہ رکھتے ہوۓ کی گئی ہے اور ان تین مرحلوں سے حاصل ہوۓ نتیجہ کا نام سیکولرازم رکھا گیا ہے، اس نظریہ میں حقیقتا اسلام کے لۓ کوئی جگہ نہی ہے اوراس طرح کی تحریکوں کو ڈاکٹر نے بزدلانہ تحریک جاننا ہے اور انکے مستقبل کی پیشن گوئی نہی کی گئی ہے۔
ڈاکٹر محمد حسین مشرّف جوادی: اصفہان یونیورسٹی کے علوم اداری و اقتصادی بخش کے پروفیسر نے اپنے مقالے کی تشریح کرتے ہوۓ ((کہ جس کا عنوان تھا: ((عالمگیریت اور نظر دین)) انہوں نے سب سے پہلے اس نکتہ پر کافی زور دیا کہ اخیر کے سالوں میں اگرچہ عالمگیر ہونے کا سبب ایک جیسی ثقافت، زبان، سیاست، انتظامیہ ہونے اور مذہب اور ملکوں کی اہمیت ایک ہی وقت میں پیش نظر ہونے کی وجہ سے ہے مگر پھر بھی ان میں سب سے واضح اور روشن علّت مذہب کےعالمگیری ہونے میں اقتصادی اور تجاری پہلو ہے۔ ڈاکٹر مشرّف جوّاد نے چند ماہر و صاجبان نظر افراد کی اعداد و شمارش بھی کی اور کہا: عالمگیر ہونا سرحدوں کو ختم یا کم کرنے کے علاوہ باعث ہوتا ہے کہ قومیت اور ملی گرائی کی سرکوبی کی جاۓ اور مذہب حقیقت میں آذاد ہو اور دین کی حقیقتکابا لوگوں کے اعتقادات پر گہرا اثر پڑے اور قوموں کی اہمیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہو در واقع عالمگیر ہونے کا مطلب امریکائی ہونے کے مترادف ہے۔
اگرچہ اسلام اور عیسائیت وحدت کے منادی ہیں اور دین کے عالمگیر ہونے کے خواہاں ہیں لیکن دانشوروں کا اعتقاد ہے کہ ملک اس سے زیادہ دین اور اخلاقی اقدار کی حفاظت رکھنے پر قادر نہے ہیں اور اسلامی ملکوں سے جو چیزیں بیرون ممالک جاتی ہیں انکی اعداد و شمارش بھر اس بات کی اطّلاع دے رہی ہے کہ (( جہانی ہونے کی رفتار)) ترقّی یافتہ ممالک کے لۓ فائدہ بخش ہے لیکن اسلامی ممالک کے حق میں ضرر کے سوا کچھ نہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: مذہبی علماء کی ذمّہداری ہے دین سے آگاہی کے ساتھ اور دوسرے سماجوں کا علم حاصل کرنے کے بعد، انسانوں کی انسانیت اور دوسرے مذاہب کا احترام کرکے دنیا پر اثر انداز ہوں اور اس طرح سے جہانی ہوں اور دین کی تبلیغ کریں۔
محمد حسین مشرّف جوادی کے بعد ڈاکٹر سید عبدالقیوم سجادی نے تقریر کی اور اپنے مقالے کو اس عنوان(( اسلام اور عالمگیریت، عالمی نظام حکومت)) مرقوم فرمایا۔ اور اس مقالہ میں مندرجہ ذیل سوالات اٹھاۓ:
– جہانی ہونے اور عالمی نظام حکومت کے اسلامی ہونے کے درمیان کیا تناسب ہے؟
– کیا یہ کہنا کہ جہانی ہونا، عقیدۂ عالمی نظام کے متضاد اور منافی ہے؟ یا یہ خود زمینہ فراہم
کرتا ہے کہ اس نظریہ دینی کو خوبصورت انداز میں درک اور واضح کیا جاۓ؟
ڈاکٹر سجّادی نے مسئلہ عالمی ہونے اور عالمی نظام اسلامی ہونے کی جانچ و پڑتال کی اور عقیدۂ عالمگیریت کو عقیدۂ عالمگیری اسلام کے خلاف قرار دیا اور ٹیکنالوجی کے رویّوں کے عالمگیر ہونے کو عالمی نظام حکومت اسلام کے عقیدہ کے سمجھنے اور واضح ہونے کے لۓ ریشہ قرار دیا اور اس بات کا اضافہ کیا کہ: عالمگیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کے معقول خواہشات کو لباس عافیت پہنا یا جائےبلکہ انسان کا اس ماڈل سے مسلسل سعی و تلاش اور سر ٹکرانے کا نتیجہ ہے جوعلّامہ اقبال کے نظریہ کا مقدّمہ قرار پاۓ گا جس میں انہوں نے اپنی نظر ظاہر کی ہے کہ ایک دن پوری دنیا پر اسلام کی حکومت ہوگی۔
ڈاکٹر سجادی نے خبردار کیا: کہ عالمی حکومت کی خصوصیات پر توجہ کرتے ہوئے، ان کو صحیح تحلیل کے ساتھ سمجھنے میں استفادہ کیا جاے انہوں نے آخر میں کہا: اگر چہ عالمی ہونے کا عقیدہ حکومت اسلامی کی نفی کر رہا ہے مگر ٹیکنالوجی کے اس رویّہ سے ممکن ہے بہترین اوزار بنائیں جائیں جو سماجی عقیدہ اور حکومت اسلامی کو نشر کرنے میں مفید ثابت ہوں اور یہ عقیدہاسلام کے نشر ہونے کا زمینہ قرار پاۓ ۔
ان کے بعد اس کانفرنس کے مقرّر جناب ڈاکٹر سیّد محمّد حسین حجازی تھے کہ جنہوں نے اپنے مقالے کو با عنوان (( اسلام اور عالمگیریت کیچنوتیاں)) مرقوم فرمایا انہوں نے اپنے مقالہ میں کہا کہ: عالمی ہونے کا اصلی پہلو زمان و مکان کا متراکم ہونا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ نظری نقطۂ نظر سے عالمگیر ہونے کا مطلب مواقع اور چنوتیاں دونوں برابر ہیں اور یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اسے کس طرح کا تصوّر کرتے ہیں بالکل جس طرح سے مواقع کے زمانے میں عالمکیر ہونے کا مطلب دینی شکل کی شکوفائی اور گشادگی کا سبب ہوتا ہے اور اسی طرح سماج کے تمام طبقوں کو ایک پہچان عطا کرتا ہے اور اس میں اتنی قدرت ہوتی ہے کہ اسکی ایک نئی تفسیر کی جا سکے، یہی عالمگیر ہونے کے معنی ہیں، اور اسی کے مقابل بحرانی شکل بھی ایجاد کر سکتا ہے یا مذہبی یا دینی جنگ کا روپ بھی مختلف مناطق میں دھار سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سماج دین کی پستی کا باعث بن جاۓ، اسی وجہ سے شیعہ مذہب تعریف کے لحاظ سے بالا ذکر کۓ گۓ عناصر کے ساتھ جہانی ہونے کی قدرت رکھتا ہےلیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیۓ کہ جہانی ہونے میں ہر مذہب کی بقاء کی شرط ہے بالخصوص سیاسی نظام، قانونی ہونے اور اس کیکارکردگی کے وقت حقیقی ہونا ہے۔
حجّت الاسلام عبدالحمید کوچائیان، علوم اسلامی کے محقّق۔ انہوں نے بھی اس کانفرنس میں اپنے مقالہ کو قرائت کیا انکے مقالہ کا عنوان تھا ((اسلام کاعالمگیر ہونا)) انہوں نے اپنے اس مقالہ میں مزید فرمایا: ایرانیوں کے ثقافتی کردار و افعال عالمگیریت کی سمت ہیں، اور یہ امر باعث ہوتا ہے کہ وہ دوسری ثقافتوں کو قبول و جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یعنی ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ لوگ اپنے مدّ مقابل کے اثر کو قبول کر سکتے ہیں اور اس پر اپنا اثر چھوڑ بھی سکتے ہیں۔
حقیقتا وہ چیز جو ایرانیوں کو اسلام کی طرف کھینچتی ہے جہانی ثقافت اور اس سے باہمی رشتہ ہے ہمیں چاہئے کہ ہم عالمگیر اور جھانی ہونے کو از سر نو سمجھیں اور اس کو ایک جداگانہ موقع قرار دیں، خاتمیت کے متعلق اور موعود کی حکوت کو متحقّق کرنے کے لۓ:
– اس کانفرانس میں ڈاکٹر جلیل مسعود فر نے بھی اپنے مقالے کو قرائت کیا انکے مقالے کا عنوان تھا (( عالمگیریت کے عمل میں ایران اور اسلامی ثقافت کا تحفّظ)) ماضی میں عالمگیر اور جھانی ہونے کا مرکز و محور سیاسی اور اقتصادی مسائل تھے لیکن حالیہ دہائیوں میں ثقافتی رویّہ زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
– مشھد کی یونیورسٹی، پیام نور کی انجمن علمی کے ایک رکن نے اس جلسہ کو آگے بڑھاتے ہوۓ فرمایا کہ عالمگیر ہونا ایک موقع بھی ہے اور چیلنج بھی، موقع ہے محکم اور مضبوط ثقافتوں کے لۓ اور چنوتی ہے کمزور اور ضعیف ثقافتوں کے لۓ لہذا ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے اسکی صحیح معرفت حاصل کریں اور اسکو اچّھے طریقہ سے دوسروں کے سامنے پیش کریں اور جس چیز کی ضرورت ہے اسکو عاقلانہ قبول کریں۔
– انکے بعد اس سیمینار میں ڈاکٹر مجید موحدی نے تقریر کی اور اپنے مقالہ کو اس موضوع پر قرائت کیا (( عالمگیریت کے دور میں سیکوازم کے عمل کے لۓ سماجی نقطۂ نظر)) انہوں نے کہا ثقافتی جہت میں جہانی ہونا اس بات کی طرف سعی ہے کہ روایتی ثقافتوں اور قومی اور مقامی ثقافتوں پر دنیاوی ثقافتوں کو مسلّط اور فروغ دیا جائے، لہذا اس تناظر میں دین کا ثقافتی تشخّص جو ہر معاشرے کا بنیادی عنصر ہوتا ہےحملہ کا مورد قرار پاۓ گا۔
– شیراز کی شاعری کو سوشل سائنس کی یونیورسٹیکے فکلٹی آف ثقافتی علوم کے پروفیسر نے مزید کہا کہ: یہ تصادم سیکولرازم کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ مقامی و محلّی ثقافت کا ایک جزء ہو جائیگی اور یہ ایک قسم کا دباؤ ہے تاکہ مذہب تبدیل ہو جاۓ اس عنوان کے ساتھ کچھ سنّتی اور روایتی تبدیلیاں ہونگی، یہی وجہ ہے کہ عالمی ہونے کے مقابلے میں اکثر مذاہب نے پافشاری کی ہے یعنی انہوں نے عالمی یا ثقافتی ہونے سے جنگ کی ہے، کہ وہ جہانی نہیں ہونگے اور انہوں نے اس کو بہت ہی زیادہ غور و فکر کے ساتھ ، مغربی سکولرازم کو عالمی ہونے کا منصوبہ قرار دیا کہ یہ مغرب کا ایک منصوبہ ہے کہ وہ اپنے سکولرازم کو پوری دنیا میں رواج دینا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر موحّد نے متنبہ کیا کہ: عالمگیر ہونا مذہبی انفرادیت کی قابل ذکر ترقّی ہے جسکو دنیاوی سطح پر دیکھا جا سکتا ہے اور بین الملل کی میڈیا نے عالمگیر سکولرازم کو متحقّق کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے
– ڈاکٹر سید کاظم باقری نے انکے بعد اس کانفرنس میں تقریر کی اور اپنے مقالے کو قرائت کیا جسکا عنوان تھا (( عالمگیر ہونا اور دین کے تحرّک سے توقعات)) انہوں نے اپنے اس مقالے میں اس سوال کے جواب کو دینے کی کوشش کی کہ جس میں کہا گیا ہے کہ: کیا تمام مذاہب از جملہ اسلام، اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وہ عالمگیر ہو اور اپنی ضروری حرکت کی بنیاد پر جدید زمانہ کے لوگوں کی توقعات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
– انہوں نے اس سوال کے جواب میں سب سے پہلے اسلام کے جھانی ہونے اوراس کی حرکات و توقعات کے متعلق توضیح دی اور خصوصا انہوں نے اسلام اور اسکے جھانی ہونے کے متعلق تین نظریوں کو بیان کیا اور مزید فرمایا کہ: ایک گروہ اسلام کے جہانی ہونےکے متعلق اچھی نظر نہی رکھتا، اور دوسرا گروپ آنکھ بند کرکے اسکو تسلیم کرتا ہے اور تیسرا گروپ عقلمندی اور میانہ روی کے نظریہ و رویّہ کا معتقد ہے۔ دینی مفاہیم کو عقلی اور متحرک نقطۂ نظر سے اگر دیکھا جاۓ تو ممکن ہے کہ ان کو جہانی اور تیز رفتار ایّام کے لۓ آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں بعض مفاھیم پر گفتگو کی جیسا کہ: فطرت، اجتہاد اور عقلی لچکدار عقائد، اور انہوں نے مزید کہا کہ: مذہب اسلام ان متحرک مفاہیم کو شامل ہوتا ہے جن کے ذریعہ بہت زیادہ امّید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس وسیع و عریض دنیا کے آفاقی اور نئی تفھیم اور نئی سوچ کا جواب دے سکتے ہوں۔
کانفرنس کا آخری مقرّرامام صادق یونیورسٹی کی انجمن علمی کے منبر حجّت الاسلام ڈاکٹر حسام الدّین آشنا تھے انہوں نے اپنی تقریر میں اپنے مقالے کو پڑھا جسکا موضوع تھا (( مذہب اور انٹرنیٹ اور اسکا عالمگیر ہونے میں متحرّک ہونا)) اور انہوں نے کہا : ہم جس خلائی سپیس (Space) میں گفتگو کرتے ہیں وہ ایک نئی فضا ہے جسکا نام سائبر(cyber) ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے کمپیوٹروں کے کنکشن کے ذریعہ جو ایک نیٹورک میں ہے، جگہ پیدا کر لی ہے حقیقت میں ہم اس دنیا کے ذریعہ بات کرتے ہیں جسمیں میلیونوں کمپیوٹروں کا ایک دوسرے سے کنکشن ہے ہم چار مرکز کی بنیاد پر خلائی سپیس میں گفتگو کرتے ہیں کہ وہ چار مرکز یہ ہیں :- ٹیلی کمنیکیشن، علوم کمپیوٹر یا کمپیوٹر سائنس، معلومات رسانی اور مواصولات۔
انہوں نے اس کے بعد ہر ایک مرکز کے متعلق وضاحت دی اور مزید فرمایا: کہ مواصلات نے ہمارے لۓ دو علامتوں کو اکٹھا کیا، پہلے جلب توجہ اور اثر بخشی کے کام کو اجراء کیا اور اسکے بعد تاثیر گذاری کو اندازہ گیری کر کے ہمارے لۓ بیان کیا اس طرح سے ہم ایک نۓ میڈیا کے مفہوم سے آشنا ہوۓ جس کی بدولت آج ہم کام کر رہے ہیں۔
اسکے بعد ڈاکٹر آشنا نے مزید کہا کہ: ٹیلیویژن، سیٹالائٹ، الیکٹرانک کی فشردہ ڈیسک اور انٹرنیٹ یہ اس زمانے سے تعلق رکھنے والے چار ابلاغ کے ذرایع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: کہ ہم اس وقت ان چاروں زرایع سے بحث نہی کرنا چاہتے بلکہ ہمارا اس وقتمقصود صرف و صرف آخیر کے اطلاع رسانی کے ذریعہ یعنی انٹرنیٹ سے ہے کہ جس نے ایک نۓ معاشرے کو تخلیق کیا ہے اور یہ نیا معاشرہ ان لوگوں کے تعلقات پر مبتنی ہے جو معلومات یا ڈیٹا کی جستجو میں ہیں یا معلومات یا ڈیٹا کو تخلیق کرتے ہیں۔
حجّۃ السلام آشنا نے مزید فرمایا کہ:معاشرتی معلومات ان لوگوں کے لۓ جو امیر علاقوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ایک شہری ارمان ہے۔لیکن اہل تنقید انٹرنیٹ کو اضافت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں مثآل کے طور پر کہتے ہیں کہ ایرانی انٹرنیٹ، آفریقائی انٹرنیٹ، غریبوں کا انٹرنیٹ، امیروں کا انٹرنیٹ و۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس صورت میں لفظ انٹرنیٹ کو دوسری چیزوں مثلا اسلامی انٹرنیٹ، یہودی انٹرنیٹ یا لفظ انٹرنیٹ کواس وقت دوسرے مذاہب کے نام کے ساتھ اضافہ کیا جاۓ جس وقت انٹرنیٹ کو سماجوں کے ساتھ جوڑا جاۓ اور ہمارا مقصد اسلامی انٹرنیٹ سے اسلام پسندوں کا انٹرنیٹ خلا میں موجود ہونا ہو۔
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ چونکہ مسلمان 80 کی دہائی کے آغاز میں ڈیحیٹال کے زمانے میں وارد ہوۓ لہذا مکتوب میراث کی ایک عظیم سرمایہ اور مسلمان کا تحریری زمینہ میں بہت زیادہ قوی ہونے نے جو اسی دور میں منصۂ شہود پر آئی تھیں یہ تمام چیزیں مقدمہ قرار پائیں کہ مسلمان بہت جلدی ڈیجیٹال کی دنیا سے منسلک ہو گیا۔
انہوں نے آخر میں نمونہ کے طور پر اسلائڈ کو عیسائیوں کی ایک تعلیمی سائٹ سے پیش کیا جو ان لوگوں سے متعلق تھی جو چاہتے میں کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ سے تبلیغ کا کام انجام دیں اور اسکے آڈرس کو بھی پیش کیا جس کے ذریعہ معلوم ہوا کہ اسلامی انٹرنیٹ کے متعلق جتنے بھی تحقیقی کام انجام دۓ گۓ ہیں واشنگٹن میں امریکا کی کیتھولک یونیورسٹی کے توسط سے انجام دۓ گۓ ہیں، اور انہوں نے یہ بھی کہا: کہ اس زمانے میں مسلۂ یہ ہے کہ اٹر نیٹ کے ذریعہ اس جدید دنیا میں جدید زندگی کو کس طرح دینی بنایا جاۓ۔
حجّت الاسلام محمّد مسجد جامعی نے بھی پریس کانفرینس کے آخر میں کہا کہ: یہ عالمگیر ہونے کے متعلق یہ تمام کی تمام گفتگو بہت زیادہ مفید اور کارساز تھیں اگرچہ اس زمانہ میں بھی مختلف دینی حکّامموجود ہیں جو اس طرح کے بحث و مباحثہ کو مفید نہی سمحھتے اور وہ اس طرح کی کانفرانس پر تنقید کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اگر اس طرح کی گفتگو نہ ہوتی تو یقیینا ہم اس سے بدترین اور نامناسب شرائط میں زندگی بسر کر رہے ہوتے۔
علوم اسلامی کے اس عالم نے مزید کہا اگرچہ عالمگیر ہونا دین کے اختیار میں بہت سے مواقع کو پیش کرتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہایتا یہ لفظ دین کے لۓ مھم ترین چیلنج رہا ہے وہ چیلنج جن کا آغاز آخیر میں ہوا ہے اور آگے چلکروہ اور بھی زیادہ ہو جائیں گےلہذا ا ن کو بہت زیادہ جدّی ہونا چاہیۓ اور اس کی صحیح شکل کو مختلف پہلوؤں میں درک کرنا اور اس سے کس طرح مقابلہ کیا جاۓ اس کے متعلق سوچ وچار اور ایک دوسرے کی مدد کی جاۓ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام مذاہب کے درمیان مذہبی مکالمے اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، عالمگیر ہونے کی سبسے بہتر خصوصیت اسلام کے اندر ہے کہ جو احتمالا دین کے ساتھ زیادہ اصطکاک رکھتا ہے یعنی اسکے معنی یہ ہیں کہ مدد مقابل سے دین تاثیر گزاری اور تاثیر پزیری کی صلاحیت زیادو اکھتا ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ایک ایسی تفسیر اخذ کی جاۓ جس میں جہانی ہونے اور اسکی ضرورتوں اور تقاضوں کا بھی لحاظ رکھا گیا ہو۔
حجّت الاسلام مسجد جامعی نے مزید فرمایا: ہم اپنے دین کے تحفظ کے لۓ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح نہی سوچ سکتے یا دوسرے الفاظ میں اپنے قوانین کی حفاظت کے لۓ مجبور ہیں کہ جہانی ہونے کی فکر کریں کہ اسکے اندر ہر مذہب کا ماننے والا اپنے مذہب پر عمل پیرا رہے اور یہی عالمی و جہانی ہونا مطلوب ہے جس میں رہنے والے وہ چاہے کسی بھی مذہب اور دھرم کے ماننے والے ہوں اپنے مذہب کے اصولوں کے پابند رہیں حقیقت میں دین کی تفسیر ضرورتوں اوراس کےاثرات کا عالمگیری کے زمانے میںمتّفق ہونا چاہئیے اور یہ کام بہت دقیق و دشوار ہے کہ اس زمانہ میں تمام لوگ اس میں مبتلا ہیں وہ چاہے صنعتی اور امیر ممالک کے باشندے ہوں یا مفلوس اور غریب ممالک کے جو دور حاضر میں ترقّی کی راہ پر گامزن ہو رہے ہیں انہوں نے اس بات کا بھی اضافہ کیا کہ تمام بڑے مذاہب اپنی تعمیر کے لۓ ظرفیت، اصول اور اوزاروں سے مالامال ہیں کہ جدید شرائط کی روشنی میں اپنی تعمیر کر سکیں اور یقینا یہی خصوصیت ہے جس کی بنیاد پر یہ ممالک ترقّی کر گۓ ہیں۔
حجّت الاسلام مسجد جامعی نے آخر میں تذکّر دیا یہ نۓ چیلنج پوری دنیا اور سب کے لۓ ہیں اسی وجہ سے اس طرح کی اتّفاق راۓ تمام لوگوں کے لۓ بھی کارگر ثابت ہو سکتی ہے اس لحاظ سے کہ علمی اور عملی تعاون کی غرض سے قابل حس زمینہ کو آمادہ کیا جاۓ جس کے نتیجہ میں شناخت اور تفھیم کے میدان کو زیادہ ترقّی دی جا سکتی ہے اور اس لحاظ سے بھی دہمکیوں کے مقابلے میں کوشش کرنا ضروری ہے تاکہ قانونی اتھرٹی کی پوزیشن برقرار رکھی جاۓ اور وہ اسکی روکتھام کر لے جو خلا میں پیش رفتہ قانون کے مانع ہو۔
اس کانفرنس کے آخر میں دینی محقّقین کی چوتھی مجلس کے مقالات جو ((عالمگیریت اور مذہب، مواقع اور چنوتیاں)) کے عنوان سے رقم کۓ گۓ تھے اور صوبہ کی کانفرنس کے جلسہ کے ابتدائی مباحث کو جو (( عالمگیر ہونا اور دین اور جہان گرائی اور جہان سازی)) کے عنوان پر منصۂ شہود پر آۓ تھے انکو دو جلد کتاب کی صورت میں حاضرین جلسہ کو ھدیۃ پیش کیا گیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں 110 مقالہ موصول ہوۓ ان میں سے 15 مقالوں نے ممتازین کا درجہ حاصل کیا اور ان 15 مقالوں کو مجموعہ کی شکل میں ((عالمگیریت اور دین، موقع اور چنوتیاں)) کے نام سے 500 صفحہ پر مشتمل کتاب کا یہ مجموعہ چاپ کرایا گیا۔








