• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home مذہب خبر کے مطالعہ

رمضان خود شناسی کا مہینہ

30 خرداد, 1394
در مذہب خبر کے مطالعہ
0

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم: افتخار علی جعفری
ماہ رمضان خود شناسی کا مہینہ ہے البتہ خود شناسی اور معرفت نفس ایک ایسا عمل ہے جو دائمی اور ہمیشگی ہے ماہ رمضان سے مخصوص نہیں ہے۔ کبھی بھی انسان کو خود شناسی سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ معرفت نفس کا مدرسہ ایک مدرسہ ہے جس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
خود شناسی کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ پر یقین پیدا کریں کہ ہم انسان ہیں حیوان نہیں ہیں نبات نہیں ہیں جماد نہیں ہیں۔ لیکن ان تمام عوالم کے خواص ہمارے اندر موجود ہیں۔ اور انسان گزشتہ عوالم کی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔
اتزعم انک جرم صغیر      وفیک انطویٰ العالم الاکبر
کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم ایک چھوٹا سا موجود ہو جبکہ تمہارے اندر ایک عالم اکبر رکھ دیا گیا ہے۔
قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں انسان کا وجود چار مراتب؛ الہی، عقلی، مثالی اور مادی کا مالک ہے۔( تفسیر انسان بہ انسان، ص ۱۶۵)
’’تویی کہ مظھر ذات و صفات الھی
                      بہ ملک صورت و بہ معنی، تو عرش رحمانی
کتاب جامع آیات کائنات تویی
                       از آن کہ نسخہ لاریب فیہ را جانی
اگر بہ کنہ کمال حقیقت برسی
                       زخویشتن شنوی آن صدای سبحانی‘‘
ترجمہ: ’’تم وہ ہو جو اللہ کی ذات و صفات کا مظہر ہو، صورت میں تم فرشتہ اور حقیقت میں عرش رحمانی ہو۔ تم کائنات کی آیتوں کی جامع کتاب ہو اور یہ کہ تم لاریب فیہ کا نسخہ ہو۔
اگر تم اپنی حقیقت کی کنہ اور گہرائی تک پہنچ جاو تو تم اپنے باطن سے اللہ سبحانہ کی آواز سنو گے‘‘۔
روح الہی جو انسان کی انسانیت کا معیار ہے، علوم و معارف کی جامع کتاب اور ایسی بے پناہ صلاحیتوں کا منبع ہے کہ اگر انسان کے لیے وہ صلاحیتیں بالقوہ سے بالفعل میں تبدیل ہو جائیں اور ان علوم و معارف کا دروازہ اس پر کھل جائے تو انسان مادی و معنوی کمالات کے مراتب و مدارج  کو طے کرتا ہوا عرش رحمانی تک پہنچ جائے گا اور اس کی زبان کن فیکون کا کام کرے گی۔
اللہ نے اس اشرف المخلوقات میں اپنی روح قرار دے کر تمام کمالات اور خوبیوں کو حاصل کرنے کا مستعد بنا دیا۔ اور اس کے بعد ارادے کی عظیم نعمت سے نواز کر انتخاب کا اختیار دے دیا۔ جب انتخاب کا اختیار دیا تو اچھے اور برے کی پہچان بھی دے دی، سیدھا اور غلط راستہ بھی دکھلا دیا اور دونوں راستوں کا انجام بھی واضح کر دیا۔
اب یہ وہ منزل ہے جہاں سے خود سازی اور تکامل کی بات شروع ہوتی ہے۔ خودسازی کی پہلی منزل یہ ہے کہ انسان اس راستے کا انتخاب کرے جو رضائے الہی کی طرف جا رہا ہے نہ غضب الہی کی طرف، جو بہشت و جنت کا راستہ ہے نہ دوزخ و جہنم کا۔ یا دوسرے لفظوں میں جو اس کی فطرت کا راستہ ہے یا شیطنت کا۔
خودسازی کے لیے سب سے پہلے انسان کو یہ دیکھنا ہو گا کہ اس نے کون سا راستہ اختیار کیا ہے فطرت کا یا شیطنت کا۔  اگر فطرت کے راستے پر ہے تو پھر اسے اس راہ میں مزید ترقی حاصل کرنے اور کمال کے مدارج طے کرنے کے لیے دین اور دینی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ لیکن اگر خلاف فطرت شیطنت کے راستے پر چل رہا ہے تو پھر اس سے ہماری کوئی بحث نہیں ہے۔
ماہ رمضان اس انسان کے لیے خود سازی، معنوی کمالات میں ترقی اور دسترخوان الہی پر مہمانی کا مہینہ ہے جو راہ حق پر گامزن ہے۔ لیکن جس شخص نے ابھی تک اس راستے کا انتخاب ہی نہیں کیا ہے جس پر چل کر نیکیوں کا ثواب ملتا ہے نمازیں روزے اور دیگر اعمال خیر اس میں ایندھن کا کام کرتے ہیں اور اس کی گاڑی کو منزل مقصود تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو ایسے شخص کے لیے روزہ صرف فاقہ اور نمازیں صرف ورزش کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لہذا ماہ مبارک کے پہلے دن خود کو پہنچانا ضروری ہے کہ ہم کس منزل پر ہیں؟ کس راستے پرگامزن ہیں؟ کس سمت جا رہے ہیں؟ جب یہ معرفت اور خودشناسی حاصل ہوجائے گی تو اس وقت یہ نمازیں اور روزے ہمارے لیے مفید فائدہ ہوں گے اور ان سے ہماری زندگی میں تبدیلی واقع ہو گی اور ہمارا آج گزرے کل سے بہتر ہو گا۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

مذہب خبر کے مطالعہ

ولایت

28 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

امام ھادی علیہ السلام کی عجیب کرامت اور تدبیر

27 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

آیت اللہ سیستانی کی جانب سے عراق کے بے گھر سنی مسلمانوں کے درمیان امداد تقسیم

27 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

ماہ رمضان، ماہ فضیلت و تربیت

10 تیر, 1394
مذہب خبر کے مطالعہ

ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات

27 خرداد, 1394
مذہب خبر کے مطالعہ

یمن کے جارحین اسلام اور انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں رکھتے/ عالمی برادری یوں خاموش ہے گویا مر چکی ہے!

1 اردیبهشت, 1394
نوشته‌ی بعدی

خبرگزاری ایرنا: ادیان الهی برای تقویت معنویت و اخلاق در بشریت تلاش کنند

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.