• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
در موجودہ پروگرام
0

حضرت امام محمد تقی کی وفات فطری طورپر نہیں ہوئی بلکہ آپ کو اس معتصم عباسی نے زہر دغا سے شہید کیا ،جس کے دل میں امام محمد تقی سے بغض کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔جب وہ مسلمانوں سے امام محمد تقی کے فضائل سنتاتھا تو اس کے نتھنے پھول جاتے تھے، اس نے اپنا حسد اس ظلم کے ار تکاب سے کیا، امام محمد تقی ؑ کو شہید کر نے کا ایک دوسرا سبب ابو داؤد کی شکایت بتایا جاتا ہے ،جب ایک فقہی مسئلہ میں معتصم نے امام محمد تقی ؑ کا حکم تسلیم کیا اور بقیہ فقہا ء کی رائے تسلیم نہیں کی اوروہ مسئلہ یہ تھا کہ ایک چور نے بذات خود اپنی چوری کا اقرار کیا ،معتصم نے اس پر حد جاری کر کے معاشر ہ کو پاک کرنا چاہا، اس نے فقہا اور امام محمد تقی ؑ کو اپنے دربار میں بلاکر ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا تو ابو داؤد سحبتانی نے کہا : تیمم کے سلسلہ میں خدا کے اس فرمان : (فامسحوا بوجوھکم وَاَید یکم) کے مطابق اس کا گٹے سے ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ دوسرے فقہاء نے کہا چور کا کہنی سے ہاتھ کا ٹنا واجب ہے جس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان :(وایدیکم الی المرافق ) ہے ۔  
معتصم نے امام محمد تقی کی طرف متوجہ ہو کر کہا :اے ابو جعفر آپ کا اس بارے میں کیا فرمان ہے ؟ ’’ قوم کے علما ء اس مسئلہ میں گفتگو کر چکے ہیں ‘‘۔جو کچھ انھوں نے کہا ہے اسکی وجہ سے مجھے میرے ہی حال پر رہنے دیجئے۔۔۔ معتصم نے امام محمدتقی ؑ کو خدا کی قسم دے کر کہا آپ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں بیان کیجئے ۔’’جب تو نے مجھے خدا کی قسم دیدی ہے تو میں بھی تجھے بتاتا ہوں ان سب نے سنت میں غلطی کی ہے چور کے ہاتھ کی چاروں انگلیا ں کاٹ دیجئے اور ہتھیلی کو چھوڑ دیجئے ‘‘۔
معتصم نے کہا :کیوں ؟امام ؑ نے فرمایا: کیونکہ رسول اللہ (ص) فرماتے ہیں اعضا ء سجدہ سات ہیں، پیشانی دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اور دونوں پیر اگر اس کا ہاتھ گٹے سے یا کہنی سے کاٹ دیا جائے گا تو اس کے سجدہ کر نے کیلئے ہاتھ ہی نہیں رہے گا اور خدا فر ما تا ہے:( وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ ) ،یعنی یہی سات اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اللہ کیلئے ہیں ۔اور جو چیز اللہ کیلئے ہو تی ہے اسے قطع نہیں کیا جاتا ہے۔امام محمد تقی ؑ کے فتوے اور استد لال سے معتصم ہکا بکارہ گیا اس نے چو ر کی ہتھیلی کو چھو ڑکر بقیہ انگلیاں کاٹنے کا حکم دیدیا اور بقیہ فقہاء کی رائے تسلیم نہیں کی ابو داؤ د غیظ و غضب میں بھر گیا، اس نے تین دن کے بعد معتصم سے آکر کہا :مجھ پر امیر المو منین کو نصیحت کر نا واجب ہے اور میں ایسی بات کر تا ہو ں جسکے ذریعہ مجھے معلوم ہے کہ جہنم میں جا ؤ نگا۔معتصم نے جلدی سے کہا :وہ کیا ہے ؟امیر المومنین نے ایک مجلس میں اپنی رعیت کے تمام فقہاء اورعلماء کو جمع کیا اور ان سے دینی امر کے متعلق سوال کیا تو وہ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے انھوں نے اس کو بتایا ،اس مجلس میں اس کے اہل بیت وزیر وزرا اور نامہ نگار موجود تھے اور دروازہ کے پیچھے سے لوگ اس کی بات سن رہے تھے پھر اس نے ایک شخص کی وجہ سے تمام فقہا کی بات رد کر تے ہو ئے اس کا قول قبول کر لیا جس کو اس امت کا امام بتایا جا تا ہے اور یہ ادعاکیاجاتا ہے کہ ان کامقام ومنصب سب سے اولیٰ ہے پھر امیر فقہاء کے حکم کو چھوڑتے ہوئے اسی امام کے حکم کو نافذ کرتا ہے ؟معتصم کا رنگ متغیر ہوگیا ،اس نے اس کی بات کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:خداتجھے اس نصیحت کے عوض خیر عطا کرے۔
معتصم بادشاہوں کونصیحت کرنے والے اسی نام نہاد فقیہ کو امام ؑ کو قتل کرنے کیلئے بھیجا،وائے ہواس پر جو عظیم گناہ کامرتکب ہوااوران ائمہ اہل بیت ؑ میں سے ایک امام کوقتل کرنے میں شریک ہواجن کی محبت کواللہ نے ہرمسلمان مرداورعورت پرواجب قراردیاہے۔راویوں میں اس شخص کے بارے میں اختلاف پایاجاتاہے جس کو معتصم نے امام ؑ کو قتل کرنے کیلئے بھیجاتھا۔ بعض راویوں نے نقل کیاہے کہ اس نے اپنے بعض زیروں کے بعض کاتبوں کو امام ؑ کے قتل کرنے کے لئے روانہ کیاتھا۔ایک کاتب نے امام ؑ کی اپنے گھر میں زیارت کی غرض سے دعوت کی تو امام ؑ نے انکارفرمادیا،لیکن جب اس نے بہت زیادہ اصرارکیااور امام ؑ کے پاس اس کی دعوت قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔امام ؑ اس کے گھر تشریف لے گئے جب کھانا تناول کیاتو آپ ؑ نے زہر کا احساس کیا آپ اپنی سواری پر سوارہوکراس کے گھرسے نکل آئے، دوسرے راویوں نے یوں بیان کیاہے کہ معتصم نے امام ؑ کی زوجہ اور اپنی بھتیجی ام الفضل کو بہکایاکہ اگر وہ امام ؑ کوزہر دیدے گی تومیں اس کواتنامال دونگا۔بہرحال زہراپناکام کرگیا۔امام کوسخت تکلیف ہونے لگی،آنتیں کٹ گئیں،عباسی حکومت کے عہدیداروں نے صبح کے وقت بیماری کی وجہ معلوم کرنے کی غرض سے احمد بن عیسیٰ کو بھیجا موت امام ؑ کے قریب ہورہی تھی حالانکہ ابھی آپ نے عنفوان شباب میں ہی قدم رکھاتھا۔جب آپ کو بالکل موت کے قریب ہونے کایقین ہوگیاتوآپ ؑ نے قرآن کریم کے سوروں کی تلاوت کرنا شروع کردیا اور آخری دم تک تلاوت کرتے رہے،آپ کی موت سے دنیائے اسلام کے قائدوامام کا نور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔امام ؑ کی موت سے رسالت اسلامیہ کاوہ صفحہ بند ہوگیا جس نے فکرکوروشنی بخشی اور علم وفضل کی زمین کوبلندی عطا کرکے اسے منورکیا۔
آپ کی تجہیزوتکفین
امام محمدتقی ؑ کو غسل وکفن دیاگیااوریہ تمام امورامام علی نقی علیہ السلام نے انجام دئے نماز جنازہ پڑھائی اس کے بعدآپ کے جنازہ کو بڑی ہی شان وشوکت سے قریش کے مقبرہ تک لایاگیاآپ ؑ کے جنازہ میں جم غفیرنے شرکت کی جس میں وزراء ،کُتّاب اورعباسی وعلوی خاندان کے بڑے بڑے عہدیدارپیش پیش تھے ،وہ بڑے حزن والم سے کہہ رہے تھے کہ عالم اسلام خسارہ میں ہے آپ کاجسداطہر مقابرقریش تک پہنچااورآپ ؑ کے جدبزرگوارامام موسیٰ بن جعفر کی قبر مطہرکے پہلومیں دفن کردیاگیاآپ کے ساتھ ہی انسانی اقدار کاقوام اوربلندوبالااسوہ حسنہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔
امام ؑ کی عمر
آپ ؑ کی عمر ۲۵ برس تھی،آپ سن کے اعتبار سے تمام ائمہ میں سب سے کم عمر تھے ، اور آپ نے اپنی یہ چھوٹی سی عمر لوگوں کے درمیان علم وفضل اور ایمان کو نشرکرنے میں صرف کردی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام رضا(ع) اور فضائل و کمالات

4 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

دو کرامت از امام محمد بن علی التقی(ع)

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.