• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام حسين (عليہ السلام) کيوں فراموش نہيں ہوتے؟

20 مرداد, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

1- قوم پرستي کا مسئلہ جس کو اسلام نے ختم کر ديا تھا ، بعض خلفاء کے ذريعہ دوبارہ زندہ ہو گيا اورعرب قوم کي غير عرب کے اوپر ايک خاص برتري قائم کردي گئي-

2- مختلف طرح کي اونچ نيچ : روح اسلام کبھي بھي اونچ نيچ کو پسند نہيں کرتي ، ليکن بعض خلفاء نے اس کو دوبارہ آشکار کر ديا اور ”‌بيت المال“ جو پيغمبر اکرم(صلي اللہ عليہ و آلہ) کے زمانے ميں مسلمانوں کے درميان مساوي طور سے تقسيم ہوتا تھا اس کو ايک دوسري شکل ديدي اور بہت سے امتيازات بغير کسي وجہ کے کچھ لوگوں کو ديدئيے اور طبقاتي امتياز دوبارہ ايجاد ہو گئے-

3- پوسٹ اور مقام جو پيغمبر اکرم(صلي اللہ عليہ و آلہ) کے زمانے ميں علمي ، اخلاقي لياقت اور معنوي اہميت کي بنياد پر تقسيم کيا جاتا تھا ، اس کو قوم و قبيلہ ميں بانٹ ديا گيا ، اور خلفاء کے خاندان و قبيلہ والوں ميں تقسيم کر ديا-

اسي زمانے ميںابو سفيان کا بيٹا ”‌معاويہ“ بھي حکومت اسلامي ميں آ گيا اور اسلامي علاقہ کي حساس ترين پوسٹ(شام) کي گورنري اس کو ديدي اور اس طرح جاہليت کے باقي ماندہ افراد ، حکومت اسلامي پر قبضہ کرنے اور جاہليت کي سنتوں کوقائم و دائم کرنے کيلئے تيار ہو گئے-

يہ کا م اس تيزي کے ساتھ ہوا کہ پاک و مطہر شخصيتوں جيسے حضرت علي(عليہ السلام) کو خلافت کے دوران مشغول کر ديا-

اسلام کے خلاف اس حرکت کا چہرہ اس قدر آشکار و واضح تھا کہ اس کي رہبري کرنے والے بھي اس کو چھپا نہ سکے-

جس وقت خلافت بني اميہ اور بني مروان ميں منتقل ہورہي تھي اس وقت ابوسفيان نے ايک عجيب تاريخي جملہ کہا تھا:

اے بني اميہ! کوشش کرو اس ميدان کي باگ ڈور کو سنبھال لو(اور ايک دوسرے کو ديتے رہو)قسم اس چيز کي جس کي ميں قسم کھاتا ہوں بہشت و دوزخ کوئي چيز نہيں ہيں!(اور محمد کا قيام ايک سياسي قيام تھا)-

يا يہ کہ معاويہ عراق پر مسلط ہونے کے بعد کوفہ ميں اپنے خطبہ ميں کہتا ہے :

ميں يہاں پر اس لئے نہيں آيا ہوں کہ تم سے يہ کہوں کہ نماز پڑھو يا روزہ رکھو بلکہ ميں اس لئے آيا ہوں کہ تمہارے اوپر حکومت کروں جو بھي ميري مخالفت کرے گا ميں اس کو نابود کردوںگا- ( جاري ہے )

 

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

اھل بيت (ع) کے متعلق نازل ھونے والي آيات

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.