• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

امامت ديني مرجعيت کے معني ميں

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

ہم عرض کر چکے ہيں کہ پيغمبر وحي الٰہي کي تبليغ کرنے والے اور اس کا پيغام پہونچانے والے تھے – لوگ جب متن اسلامي کے بارے ميں جاننا چاہتے تھے يا قرآن ميں مطلب نہ پاتے تھے پيغمبر سے سوال کرتے تھے مسئلہ يہ ہے کہ اسلام جو کچھ معارف احکام اور قوانين بيان کرنا چاہتا تھا کيا وہ سب کے سب وہي ہے جو قرآن ميں آ گئے ہيں اور پيغمبر نے عام طور سے لوگوں کے سامنے بيان کر ديا ہے ؟ يانہيں بلکہ قہري طور سے زمانہ اس کي اجازت نہيں ديتا تھا کہ پيغمبر تمام قوانينوں احکام عام طور سے لوگوں ميں بيان کر ديں علي پيغمبر کے وصي و جانشين تھے اور پيغمبر اسلام نے اسلام کي تمام چھوٹي بڑي باتيں يا کم از کم اسلام کے تمام کليات علي سے بيان کردئےاور انہيں ايک بے مثال عالم غير معلم اپنے اصحاب ميں سے سب سے ممتاز انہيں کي طرح اپنء باتوں ميں خطا و لغزش سے ميري اور خدا کي جانب سے نازل ہونے والي تمام باتوں سے واقف شخصيت کے عنوان سے لوگوں کےسامنے پيش کيا اور فرمايا اے لوگوں ميرے بعد ديني مسائل ميں جو کچھ پوچھنا ہو ميرے اس وصي و جانشين اور اس کے بعد تما م آنے والے اوصياء سے سوال کرنا در حقيقت يہاں امامت ايک کامل اسلام شناس کي حيثيت سے سامنے آتي ہے ليکن يہ اسلام شناس ايک مجتہد کي حد سے کہيں بالا تر ہے اس کي اسلام شناسي منجانب اللہ ہے اور اءمہ عليہ السلام يعني واقعي اسلام شناس البتہ يہ وہ افراد نہيں ہے جنھوں نے اپني عقل اور فکر کے ذريعے اسلام کو پہچانا ہوجن کے يہاں قہري طور پر خطا اور اشتباہ کا امکان بھي پايا جاتا ہو بلکہ انھوں نے ان غيبي اور مرموز ذرائع سے اسلامي علوم پيغمبر سے حاصل کئے ہيں جو ہم پر پوشيدہ پے او ر يہ علم پيغمبر سے علي عليہ السلام تک اور علي سے بعد کے اءمہ تک پہونچا ہے اور اءمہ عليہ السلام کے پورے دور ميں يہ علم خطاوں سے بري معصوم علم کي صورت ميں ايک امام سے دوسرے امام تک پہونچتا رہا ہے –

اہل سنت کسي شخص کے لئےاس منزلت و مقام کےقائلنہيں ہيں لہٰذا وہ سرے سے اس طرح کي امامت کے حامل کسي بھي امام کے وجود کو تسليم نہيں کرتے – يعني وہ امامت کے ہي قائل نہيں ہيں، نہ يہ کہ امامت کے توقائل ہوں اور کہيں کہ علي امام نہيں ہيں، ابوبکر اس کے اہل ہيں، نہيں بلکہ وہ لوگ ابوبکر، عمر عثمان بلکہ کلي طور پر کسي ايک صحابي کے لئےبھي اس منصب يا مقام کو تسليم نہيں کرتے -يہي سبب ہےکہ خود اپني کتابوں ميں ابوبکرعمر سے ديني مسائل ميں ھزاروں اشتباہات اورغلطياں نقل کرتے ہيں ليکن شيعہ اپنے اماموں کوخطائوں سے معصوم جانتے ہيں اور امام سے کسي خطا کےسرزدہ ونےکو محال سمجھتے ہيں (مثال کے طور پر اہل سنت کي کتابوں ميں مذکور ہے کہ) ابوبکرنے فلاں مقام پراشتباہ کيا اوربعد ميں خود ہي کہا کہ “ان لي شيطاناً نعتريني” بلاشبہ ايک شيطان ہےجو اکثر ميرے اوپر مسلط ہوجاتا ہےاور ميں غلطياں کربيٹھتا ہوں،يا عمر نےفلاں مقام پرخطااورغلطي کي اوربعدميں کہاکہ:يہ عورتيں بھي عمر سےزيادہ عالم وفاضل ہيں- کہتے ہيں کي جب ابوبکر کاانتقال ہواتو ان کےاہل خاندان منجملہ ابوبکرکي صاحبزادي اورزوجہء رسول عائشہ بھي گريہ وآہ زاري کرنےلگيں-يہ صداے گرياجب ابوبکر کے گھرسے بلند ہوئي توعمر نے پيغام کہلوايا کي جاکر عورتوںسے کہ دوکہ خاموش رہيں-وہ خاموش نہ ہوئيںدوسري مرتبہ کہلايا کہ اگرخاموش نہ ہوئيں تو ميں تازيا نہ ليکر آتا ہوں يوں ہي پيغام کے بعد پيغام جاتے رہےلوگوں نے عائشہ سے کہا کہ عمر گريا کرنے پر بگڑ رہے ہيں دھمکياں دے رہے ہيں او ررونےسےمنع کرتے ہيں ۔آپ نے کہاابن خطاب کو بلاؤ،ديکھيں وہ کيا کہ رہا ہے-عمرعائشہ کے احترام ميں خود آئے،عائشہ نے پوچھا کيا بات ہے يہ بار بار پيغام کييوں کہلا رہےتھے؟کہنےلگے ميں نے پيغمبرص سے سنا ہےکہ اگر کوئي شخص مرجائے اور لوگ اس پر روءيں تو جس قدر وہ گريہ کريں گے اتنا ہي مرنے والا عذاب ميں گرفتار ہوتا جائے گا، لوگوں کا گريہ اس کےلئےعذاب ہے – عائشہ نے کہا : تم سمجھتے نہيں، تمہيں اشتباہ ہوا ہے – مسئلہ کچھ اور ہے، ميں جانتي ہوں اصل قصہ کيا ہے – ايک مرتبہ ايک خبيث يہودي مر گيا تھا، اس کے اعزا اس پر رورہے تھے – پيغمبر نے فرمايا :يہ لوگ رورہے ہيں، جبکہ اس پر عذاب ہو ريا ہے – يہ نہيں فرمايا تھا کہ ان لوگوں کو رونا عذاب کا سبب بن رہا ہے – بلکہ فرمايا تھا کہ يہ لوگ اس پر رورہے ہيں اور يہ نہيں جانتے کہ اس پر عذاب کيا جا رہا ہے – آخر اس واقعہ کا اس مسئلہ سے تعلق ہے ؟!اس کے علاوہ اگر ميت پر رونا حرام ہے تو ہم گناہ کر رہے ہيں خدا ايک بے گناہ پر عذاب کيوں کر رہا ہے ؟!اس کا اس ميں کيا گناہ ہے کہ گريہ ہم کريں اور عذاب ميں وہ مبتلا کيا جائے ؟! اگر عورتيں نہ ہوتيں تو عمر ہلاک ہو گيا ہوتا – ( جاري ہے )

 

کتاب کا نام : امامت و رهبري

تاءليف : آيۃ اللہ شہيد مطہّري(رہ)

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

توحید و شرک کی حدود

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.