• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

فتح خيبر

20 مرداد, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

جب اللہ تعاليٰ نے اپنے نبي کو عزت بخشي اور قريش ذليل و رسوا ھوئے تو نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے يہ مشاھدہ فرمايا کہ مسلمانوں کے امور اس وقت تک درست نھيں ھوں گے اور نہ ھي حکومت برقرارھوگي جب تک يھوديوں کا نظام مو جود ھے جو ھميشہ سے اسلام کے سخت دشمن تھے اور ان (يھوديوں) کي پوري طاقت وقوت خيبر کے قلعہ ميں محصور تھي جو اس زمانہ کے رائج اسلحوں کا کارخانہ تھا، منجملہ وھاں ايسے ايسے ٹينک نما توپ خانے تھے جو گرم پاني اور آگ ميں تپا ھوا سيسہ پھينکتے تھے اور يھود ي اسلام دشمن طاقتوں کو ھر طرح کي مسلح فوجي مدد پھنچاتے تھے –

نبي نے قلعہ خيبر پر حملہ کر نے کےلئے لشکر بھيجا اور لشکر کا سردار ابو بکر کو بنايا، جب وہ قلعہ خيبر کے پاس پھنچے تو وہ شکست کھا کر اور مرعوب ھو کر واپس پلٹ آئے ، دوسرے دن عمر کو لشکر کا سردار بنا کر بھيجا وہ بھي پھلے سردار کي طرح واپس آگئے اور کچھ نہ کر سکے اور قلعہ کا دروازہ يوں ھي بند رھا اور کوئي بھي اس تک نہ پھنچ سکا –

جب لشکر قلعہ کا دروازہ نہ کھول سکا اور دونوں سردار وں کي سردار ي کچھ کام نہ آسکي تو نبي نے اعلان فرمايا کہ اب ميں اس کو سردار بناۆ ں گا جس کے ھاتھ پر اللہ فتح عنايت فر مائے گا چناچہ آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمايا: ”‌ميں کل علم اس کو دوں گا جس کو اللہ اور اس کا رسول دوست رکھتے ھوں گے اور وہ اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ھوگا اور وہ اس وقت تک واپس نھيں آئے گا جب تک اللہ اس کے ھاتھ پر فتح نہ ديدے —“-

لشکر انتھائي بے چيني کے عالم ميںايسے سردار کوعلم دئے جانے سے آگاہ ھوا جس کے ھاتھ پر اللہ فتح عنايت کرے، اس کے گمان ميں بھي نھيں تھا کہ اس عھدہ پرامام (ع) فائز ھوں گے، اس لئے کہ آپ آشوب چشم ميں مبتلا تھے، جب صبح نمودار ھوئي تو نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے علي (ع) کو بلايا جب آپ نبي اکرم (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کي خدمت ميں حاضر ھوئے تو آپ کي آنکھوںميں آشوب تھا آنحضرت (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنا لعاب دھن لگايا تو آنکھيں بالکل ٹھيک ھوگئيں اور آپ (ع) نے علي (ع) سے فرمايا:”‌خذْ ھٰذِہِ الرّايَةَ حَتَيّٰ يَفْتَحَ اللّٰہ عَلَيْکَ —“-”‌يہ علم ليجئے يھاں تک کہ خدا آپ کو فتح عنايت کرے گا—“-

شاعر مو ھوب يزدي نے اس واقعہ کو يوں نظم کيا ھے :

وَلَہ يَوْمَ خَيْبَرفَتکات

کَبرَتْ مَنْظَراً عليٰ مَنْ رَآھا

يَوْمَ قَالَ النَّبِيْ اِنِّيْ لَاعْطِي

رَاَيْتِيْ لَيْثَھَاوَحَامِي حِمَاھَا

فَاسْتَطَالَتْ اَعْنَاق کلِّ فَرِيْق

لِيَرَوْا اَيَّ مَاجِديعْطَاھَا

فَدَعَا اَيْنَ وَارِث الْعِلْمِ وَالْحِدْمِ

مجِيْر الايَّامِ مِنْ بَاسَاھَا؟

اَيْنَ ذوْالنَّجْدَةِ الَّذِيْ لَوْ دَعَتْہ

فِيْ الثّرَيَّامَرَوْعَةً لَبَّاھَا

فَاتَاہ الوَصِيّ اَرْمَدَ عَيْن

فَسَقَاہ مِنْ رِيْقِہِ فَشَفَاھَا

وَمَضيٰ يَطْلب الصّفوْفَ فَوَلَّتْ

عَنْہ عِلْماً بِاَنَّہ اَمْضَاھَا

”‌خيبر ميں آپ (ع) نے ايسے حملے کئے جو ششدر کرنے والے تھے –

جس دن نبي(صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے فرمايا کہ ميں پرچم بھادر اور محافظ شخص کو دوں گا –

اسي لئے ھر فريق يہ ديکھنے کا منتظر تھا کہ پرچم کس کو ملے گا –

ان ھي لمحات ميں نبي (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے آواز دي کہ علم و حلم کا وارث اور ايام کي قسمت پھيرنے والا کھاں ھے ؟

وہ مدد گار کھاں ھے جس کو اگر کو ئي ثريا ميں مدد کے لئے پکارے تو وہ لبيک کہہ دے گا –

اس وقت علي (ع) آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے پاس اس عالم ميں آئے کہ آشوب چشم ميں مبتلا تھے آپ (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) نے اپنے لعاب دھن کے ذريعہ ان کو شفا بخشي-

اس وقت علي (ع) نے کفار کي صفوں پر حملہ کيا يہ ديکھ کر کفار پيٹھ پھرا کر بھاگ گئے چونکہ وہ جانتے تھے کہ علي (ع) انھيں زندہ نھيں چھوڑيں گے “-

اسلام کے بھادر نے بڑي طاقت عزم و ھمت و ثبات قد مي کے ساتھ علم ليااور رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اللہ سے عرض کيا : ”‌اقَاتِلھمْ حَتّيٰ يَکوْنوامِثْلَنَا؟“کيا ميں ان سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ ھماري طرح مسلمان نہ ھو جا ئيں “رسول (صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم) اللہ نے فرمايا: ”‌انفذْ عَليٰ رَسْلِکَ حتّيٰ تَنْزِلَ بِسَاحَتِھِمْ ، ثمَّ ادْعھمْ اِليٰ الاِسْلَامِ ، وَاَخْبِرْھمْ بِمَايَجِب اِلَيْھِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ ، فَوَاللّٰہِ لَاَنْ يَھْدِيَ اللّٰہ بِکَ رَجلاًوَاحِداًخَيْرٌلَّکَ مِنْ اَنْ يَّکوْنَ لَکَ حمْر النِّعَمِ“-

”‌اپنا پيغام لے کر جا ۆيھاں تک کہ ان کے علاقہ ميں پھنچ جا ۆ، ان کو اسلام کي دعوت دو اوران کو خدا کے اس حق سے آگاہ کرو جو ان کے ذمہ واجب ھے ، کيونکہ خدا کي قسم اگر تمھارے ذريعہ خدا ايک انسان کي ھدايت کر دے وہ تمھارے لئے سرخ چو پايوں سے بہتر ھے “-

آج لشکر کا سردار بڑے ھي اطمينان کے ساتھ بغير کسي رعب و خوف کے تيزي سے چلا، جبکہ اس کے ھاتھوں ميں فتح کا پرچم لھرا رھا تھا اس نے باب خيبر فتح کيا اور اس کو اپني ڈھال بناليا جس کے ذريعہ اس نے يھوديوں سے اپنا بچاۆ کيا- خوف کي وجہ سے يھوديوں کے کليجے منھ کو آگئے وہ بہت زيادہ سھم گئے، کہ يہ کون بھادر ھے جس نے قلعہ کے اس دروازہ کوکھول کر اپني ڈھال بناليا ھے جسے چاليس آدمي کھولتے تھے يہ بڑے تعجب کي بات ھے –

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

توحید افعالی

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.