• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

غلط اہداف اور شيطاني راہ

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

وہ لوگ جو کسي ملک يا معاشرے ميں نفوذ کرنا چاہتے ہيں تو وہ افراد اس معاشرے کي ثقافت اور تمدن کو اپنے قبضے ميں لے کر اپني تہذيب و تمدن اور ثقافت کو اس معاشرے پر تھونپ ديتے ہيں ۔ ان کے من جملہ کاموں ميں سے ايک کام گھرانے کي بنيادوں کو متزلزل کرنا ہے جيسا کہ بہت سے ممالک ميں انہوں نے يہ کام انجام ديا ہے۔ انہوں نے معاشرے ميں اس طرح نفوذ کيا ہے کہ مرد اپني ذمہ داريوں کي نسبت غير ذمہ دار اور خواتين بد اخلاق ہو گئي ہيں۔

کسي بھي معاشرے ميں تہذيب و تمدن کي اساس اور بنيادي عناصر کي حفاظت اور آنے والي نسلوں تک ان کي منتقلي بہترين اور اچھے گھرانوں يا خاندانوں کے وجود سے انجام پاتي ہيں۔ اگر ايسے گھر يا خاندان کا وجود نہ ہو تو تمام چيزيں تباہ ہو جائیں گي۔ يہ جو آپ مشاہدہ کر رہے ہيں کہ اہل مغرب کي پوري کوشش ہے کہ مشرق وسطيٰ اور ايشيائي اسلامي اور ديگر ممالک ميں شہوت پرستي اور برائيوں کو رواج ديں تو اس کي کيا وجہ ہے ؟ اس کے جملہ اسباب ميں سے ايک سبب يہ ہے کہ ان کي خواہش ہے کہ اپنے اس کام سے وہاں کے خانداني نظام زندگي کو تباہ و برباد کر ديں تا کہ ان معاشروں کي تہذيب و تمدن اور کلچر کي بنياديں کمزور ہو جائيں اور انہيں ان اقوام پر سوار ہونے کا پورا پورا موقع مل جائے۔ کيونکہ جب تک کسي قوم کي تہذيب و تمدن اور ثقافت کي بنياديں کمزور نہ ہوں تو کوئي بھي اس پر قبضہ نہيں کر سکتا اور نہ ہي اس کے منہ ميں لگام دے کر اسے اپني مرضي کے مطابق چلا سکتا ہے۔ وہ چيز جو اقوام ِ عالم کو لاحق خطرات کے مقابل ميں بے دفاع اور اغيار کے ہاتھوں ميں انہيں اسير بناتي ہے وہ اُن کا اپنے قومي تشخص، تاريخي اور ثقافتي ورثے سے بے خبر ہونا ہے۔ اس کام کے ذريعے سے کسي بھي معاشرے ميں خانداني نظام زندگي کي بنيادوں کو با آساني کمزرو بنايا جا سکتا ہے۔ اسلام، خاندان اور ان کي بنيادوں کي حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ اسي لئے اسلام ميں ان بلند ترين اہداف تک پہنچنے کے لئے اہم ترين کاموں ميں سے ايک کام خاندان و گھرانے کي تشکيل اور اس کي حفاظت کرنا ہے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

مغرب کا گناہ ِ کبيرہ

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.