• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

توحید افعالی

3 شهریور, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

توحید افعالی سے مراد اس چیز کی معرفت اور ادراک ہے کہ کائنات اپنے تمام تر نظاموں، روایات، عقل و اسباب اور معلومات و مسببات کے باوجود اسی کا فعل اور اسی کے ارادے کا نتیجہ ہے جس طرح موجودات عالم اپنی ذات میں مستقل نہیں ہیں اور سب اسی کے ذریعے قائم اور اسی سے وابستہ ہیں اور وہ قرآن کی اصطلاح میں پوری کائنات کے لئے “قیوم” ہے اسی طرح تاثیر اور علت کے اعتبار سے بھی مستقل نہیں ہے لہٰذا خداوند تعالیٰ کا جس طرح اپنی ذات کے لحاظ سے کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح اپنی فاعلیت کے اعتبار سے بھی شریک نہیں ہے۔ ہر فاعل اور سبب کی حقیقت تاثیر اور فاعلیت نیز اس کا وجود اسی سے ہے اور اسی پر قائم ہے۔ ہر حالت اور قوت اسی پر قائم ہے:

ماشاء اللّٰہ ولاقوة الابہ، لاحول ولاقوة الا باللّٰہ

انسان جو موجودات میں سے ایک ہے اور خدا کی مخلوق ہے، تمام مخلوقات کی طرح اپنے کام کی علت اور اس میں موثر ہے اور اس سے بالاتر یہ کہ اپنی تقدیر میں بھی موثر ہے لیکن کسی طور پر بھی کوئی موجود بھی مفوض نہیں یعنی کوئی ایسا موجود نہیں، جسے سب کچھ تفویض کر دیا گیا ہو۔

بحول اللّٰہ وقوتہ اقوم واقعد

“اللہ کے حول و قوت سے میں کھڑا ہوتا ہوں اور بیٹھتا ہوں۔”

ایک وجود کو تمام اختیارات سونپ دینا (چاہے وہ انسان ہو یا غیر انسان) فاعلیت اور استقلال کے اعتبار سے خدا کے ساتھ اس وجود کو شریک ٹھہرانے کے مترادف ہونے کے ساتھ ساتھ ذات میں استقلال کو بھی لازم گردانتا ہے جو توحید ذاتی کے بھی منافی ہے، چہ جائیکہ توحید افعالی کے منافی ہو، ایک دعا کے الفاظ یوں ہیں:

الحمدللّٰہ الذی لم یتخذ صاحبة ولا ولد اولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل و کبرہ تکبیراً (مفاتیح الجنان، دعای افتتاح)

حمد اس خدا کی جس نے ہمسر اور اولاد نہیں اپنائی اور کائنات پر حکومت کرنے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح کائنات کا نظام سنبھالنے کے اعتبار سے ناتوانی کی بناء پر کوئی اس کا مددگار بھی نہیں ہے اسے اس طرح بزرگ و برتر جانو جس طرح اس کی ذات پاک کے لائق ہو۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

قیامت، قرآن و عقل کی روشنی میں

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.