• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home مذہب خبر کے مطالعہ

خاندان کے متعلق معصومین کی سفارش

31 شهریور, 1393
در مذہب خبر کے مطالعہ
0

خلاصہ :

 

مام سجاد(ع) نے فرمایا: خدا تعالی سب سے زیادہ اس شخص پر راضی ہوگا جو اپنے اہل وعیال پر سب سے زیادہ خرچ کرتاہے۔امام رضا سے منقول ہے کہ جو شخص اپنے اہل وعیال کے خاطر خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے کسب کرتا ہے تو اس کے لئے اس مجاہد سے زیادہ ثواب ملے گا ،جو راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں۔

متن:

 

خاندان پر خرچ کریں
امام سجاد(ع) نے فرمایا: خدا تعالی سب سے زیادہ اس شخص پر راضی ہوگا جو اپنے اہل وعیال پر سب سے زیادہ خرچ کرتاہے
عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا ع قَالَ الَّذِي يَطْلُبُ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مَا يَكُفُّ بِهِ عِيَالَهُ أَعْظَمُ أَجْراً مِنَ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ-1۔
امام رضا سے منقول ہے کہ جو شخص اپنے اہل وعیال کے خاطر خدا کی دی ہوئی نعمتوں سے کسب کرتا ہے تو اس کے لئے اس مجاہد سے زیادہ ثواب ملے گا ،جو راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں۔آپ ہی سے منقول ہے :
أَبِي الْحَسَنِ ع قَالَ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى عِيَالِهِ كَيْلَا يَتَمَنَّوْا مَوْتَه-2 یعنی جس کو بھی خدا تعالی کی نعمتوں پر دست رسی حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے اہل وعیال پر خرچ کرے، تاکہ اس کی موت کی تمنا نہ کریں۔ امام صادق(ع) نے فرمایا: مؤمن خدا تعالی کے آداب پر عمل کرتا ہے جب بھی
خدا تعالی اسے نعمت اور رزق میں وسعت عطا کرتاہے تو وہ بھی اپنے زیردست افراد
پر زیادہ خرچ کرتاہے۔اور جب خدا وند نعمت کو روکتا ہے تو وہ بھی روکتا ہے-3 اور فرمایا: جو میانہ روی اختیار کرے گا اس کی میں ضمانت دونگا کہ وہ کبھی بھی مفلس نہیں ہوگا۔

پہلے گھر والے پھر دوسرے
ایک شخص نے امامباقر (ع) سے عرض کیا ، مولا !میرا ایک باغ ہے جس کی سالانہ آمدنی تین ہزار دینار ہے۔ جس میں سے دو ہزار دینار اہل و عیال پر خرچ کرتا ہوں ایک ہزار فقراء میں صدقہ دیتا ہوں۔ تو امام نے فرمایا: اگر دوہزاردینار سے اہل و عیال کا خرچہ پورا ہوتا ہے تو بہت اچھا ہے۔ کیونکہ تو اپنی آخرت کیلئے وہی کام کر رہے ہو جو تیرے مرنے اور وصیت کرنے کے بعد وارثوں نے کرنا تھا۔ تو اپنی زندگی میں اس سے نفع حاصل کر رہے ہو۔ 4

اسراف نہ کرو
امام زین العبدین (ع)نے فرمایا: مرد کو چاہئے کہ اندازے سے خرچ کرے اور زیادہ تر اپنی آخرت کیلئے بھیجا کرے۔ یہ نعمتوں کا دوام اور زیادتی کیلئے زیادہ مفید ہے اور روز قیامت کیلئے زیادہ سود مند ہے۔
امام صادق(ع) نے فرمایا؛ میانہ روی ایسی چیز ہے جسے خدا تعالی بہت دوست رکھتا ہے۔ اور اسراف ایسی چیز ہے جس سے خدا تعالی نفرت کرتا ہے ، اسراف ایک دانہ کھجورہو یا بچا ہوا پانی کیوں نہ ہو۔۔ 5

روز جمعہ کا پھل
قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع أَطْرِفُوا أَهَالِيَكُمْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْفَاكِهَةِ كَيْ يَفْرَحُوا بِالْجُمُعَةِ -6 المؤمنین (ع) نے فرمایا: اپنے اہل و عیال کیلئے ہر جمعہ کوئی نہ کوئی تازہ پھل کھلایا کرو تاکہ روز جمعہ سے خوش ہوں۔

خاندان کیساتھ نیکی اورلمبی عمر
امامصادق (ع)نے فرمایا: من حسن برّ ہ باھلہ زاداللہ فی عمرہ ۔جو بھی اپنے خاندان کیساتھ نیکی کرے گا خدا تعالی اس کی زندگی میں برکت عطا کریگا۔اس کے مقابلے میں پیامبر اکرم(ص) نے فرمایا وَ قَالَ ع مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ ضَيَّعَ مَنْ يَعُولُ -7 لعنتی ہے لعنتی ہے وہ شخص جو اپنے زیر دست افراد کے حقوق دینے میں کوتاہی کرتا ہے۔

خاندان اور آخرت کی بربادی
قال علی (ع) : لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لَا تَجْعَلَنَّ أَكْثَرَ شُغُلِكَ بِأَهْلِكَ وَ وُلْدِكَ فَإِنْ يَكُنْ أَهْلُكَ وَ وُلْدُكَ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَوْلِيَاءَهُ وَ إِنْ يَكُونُوا أَعْدَاءَ اللَّهِ فَمَا هَمُّكَ وَ شُغُلُكَ بِأَعْدَاءِ اللَّهِ -8
آپ نے اپنے بعض اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا: اپنے بیوی بچوں کے خاطر اپنے آپ کو زیادہ زحمت میں نہ ڈالو ، اگر وہ لوگ خدا کے صالح بندوں میں سے ہوں تو خدا تعالی اپنے نیک بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور اگر وہ خدا کے دشمنوں میں سے ہوں تو کیوں خدا کے دشمنوں کے خاطر خود کو ہلاکت میں ڈالتے ہو۔ پس ایسا نہ ہو کہ ان کی خاطر ہم خدا اور دین خدا کو فراموش کر بیٹھیں اور حلال حرام کی رعایت کئے بغیر ان کو کھلائیں اور پلائیں۔

محبت خاندان کی کامیابی کا راز
خاندان کی بنیاد ،عشق و محبت پر رکھنا چاہئے کیونکہ محبت کا اظہار میاں بیوی کے درمیان آرام و سکون کا باعث بنتا ہے۔ جس کا نتیجہ دونوں کی سعادت اور خوش بختی کی صورت میں پیدا ہوتاہے۔ اورمحبت کی پہلی شرط ایک دوسرے کی روش اور سوچ کی شناخت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو پہچان لیں کہ کن چیزوں سے خوش ہوتے ہیں اور کن چیزوں سے ناراض۔بیوی کومعلوم ہو کہ اس کا شوہرکس وقت تھکا ہوتا ہے اور کس وقت اس کے ساتھ گفتگو کرنا ہے۔اور یہ ایسے امور ہیں کہ ہر فرد میں مختلف ہیں ۔ معیار محبت یہ نہیں ہے کہ کسی بھی وقت غصہ میں نہ آئے بلکہ اگر گھر کا کوئی فرد غیر اخلاقی کام کربیٹھتا ہے تو سربراہ کو چاہئے کہ اپنی ناراضگی کا احساس دلائے اور نصیحت کرے۔ ہاں جب محبت زیادہ ہوجاتی ہے جسے عشق سے تعبیر کیا جاتا ہے غصّہ کرنے میں مانع بنتا ہے۔ لیکن کبھی بھی میاں بیوی ایک دوسرے سے ایسی گہری اور عمیق محبت کا انتظارنہ رکھے۔ میاں بیوی کے درمیان حد اعتدال میں محبت ہو تو کافی ہے۔ بہر حال جس قدر یہ محبت ارزشمند ہے اسی قدر اس کی حفاظت کرنا بھی ارزشمند ہے۔پس ہمیشہ میاں بیوی کو اس محبت کی مراقبت اور پاسداری کرنی چاہئے ، ایسا نہ ہو کہ گھر کی اندرونی اور بیرونی مشکلات ہمیں اس قدر مشغول کردے کہ صفا اور وفا سے دور ہوجائیں ۔ لذا دونوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کے درمیان پیار و محبت ، صلح و صفا اور مہرووفا کاسماں پیداکرے۔

1 ۔ الکافی ،ج۵، ص۸۸۔
2 ۔ الکافی ، ج۴ ، ص۱۱۔
3 ۔ ھمان، ص ٢٥٩۔
4 ۔ ہمان،ص٢٥٧۔
5 ۔ ہمان،ج٢٥، ص٢٤٩ ۔ ۲۵۰۔
6 ۔ بحار، ج١٠١،ص ٧٣۔
7 ۔ من لایحضرہ ،ج۳، ص ۵۵۵۔
8 ۔ بحار ج ۱۰۱، ص ۷۳۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

مذہب خبر کے مطالعہ

ولایت

28 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

امام ھادی علیہ السلام کی عجیب کرامت اور تدبیر

27 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

آیت اللہ سیستانی کی جانب سے عراق کے بے گھر سنی مسلمانوں کے درمیان امداد تقسیم

27 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

ماہ رمضان، ماہ فضیلت و تربیت

10 تیر, 1394
مذہب خبر کے مطالعہ

رمضان خود شناسی کا مہینہ

30 خرداد, 1394
مذہب خبر کے مطالعہ

ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات

27 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

خاندانی خوش بختی کے کچھ اصو ل

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.