• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر تعزیت عرض ہے

29 آبان, 1393
در موجودہ پروگرام
0

 

حضرت امام سجاد(ع) – نام علی القاب زین العابدین، سجاد، سیدالساجدین، کنیت ابومحمد اور ابوالحسن، عمر والد کے برابر 57 سال (ولادت 15 جمادی الاول سنہ 38 اور امیرالمؤمنین (ع) کی شہادت کے دو سال بعد)، 23 سال تک والد کے سائے میں رہے اور آپ کی مدت امامت 34 برس ہے۔ والد ریحانۃ الرسول سیدالشہداء (ع) اور والدہ شاہ ایران کی بیٹی سیدہ شہربانو ہیں جو نو ائمہ معصومین (ع) کی ماں ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں جیسا کہ آپ کے والے امام حسین (ع) نو ائمہ معصومین (ع) کے باپ ہیں۔

امام سجاد (ع) کی ذاتی ہیبت

تھے تو بڑے متواضع لیکن آپ کی ہیبت اپنی جگہ محفوظ تھی۔ تاریخ میں ہے کہ اموی بادشاہ ہشام بن عبدالملک حج کے لئے آیا اور طواف کعبہ کے بعد حجر الاسود تک پہنچنا چاہا مگر حاجیوں کی بھیڑ رکاوٹ بنی اور جاکر ایک کونے میں بیٹھ گیا، حاشیہ بردار بھی ساتھ تھے کہ اسی دوران امام سجاد علیہ السلام طواف کے بعد حجرالاسود کی جانب آئے لوگ ہٹ گئے اور امام علیہ السلام نے کئی مرتبہ حجرالاسود کو چھوا۔ یہ بات ہشام کو گراں گذری۔ حاشیہ برداروں میں سے ایک نے کہا: یہ مرد کون ہے جو لوگوں کے نزدیک اتنا احترام رکھتا ہے؟

ہشام جانتا تھا مگر لاعلمی ظاہر کی؛ عرب کے اس وقت کے مشہور شاعر فرزدق ساتھ کھڑے سن رہے تھے چنانچہ انھوں نے بالبداہہ ایک قصیدے کی صورت میں جواب دیا؛ یہاں اس قصیدے کے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

هــذا الــذي تـعـرف الـبـطحاء وطـأته

والــبـيـت يـعـرِفُـه والــحـلُ والــحـرمُ

مــا قــال : لا قــطٌ إلا فـــــي تــشــهـدهُ

لــــولا الـتـشـهـد كــانــت لاؤه نــعــم

يـغـضي حـيـاءً ويـغضى مـن مـهابتهِ

فـــــلا يُــكّــلَـمُ الإ حـــيــن يــبـتـسـم

مــن مـعـشرٍ حـبـهم ديــن ٌوبـغضهم

كــفــر وقـربـهـم مـنـجـى ومـعـتـصمُ

مـــقــدمٌ بــعــد ذكــــر الله ذكــرهــم

فــي كــل بــدء ومـخـتوم بــه الـكـلمُ

یہ وہ ہیں جس کو سرزمین بطحاء (سرزمین حجاز) جانتی اور پہچانتی ہے

اور بیت اللہ ان کو جانتا اور حل و حرم بھی

کبھی بھی لا نہ کہا سوائے تشہد کے (لاالہ الا اللہ کہتے ہوئے)

اور اگر تشہد نماز میں نہ ہوتے تو وہ صرف نعم ہی کہتے

لوگوں کے سامنے حیاء اور پاکدامنی کی وجہ سے آنکھیں جھکا دیتے ہیں اور لوگوں کی آنکھیں ان کی ہیبت سے جھک جاتی ہیں

پس کوئی بھی ان سے بات نہیں کرسکتا سوائے اس وقت کے جب وہ مسکراتے ہیں

ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کی محبت دین ہے اور ان کا بغض (ان سے دشمنی کرنا)

کفر ہے اور ان کی قربت نجات دینے والی اور بچانے والی ہے

مقدم ہے ان کا ذکر اللہ کے ذکر کے بعد (بالخصوص حالت نماز میں)

اور ان کے نام سے شروع ہونے والا کلام انجام بخیر ہوتا ہے

امام سجاد (ع) کی حیات طیبہ

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی طوفانوں سے بھری ہوئی ہے؛ آپ جنگ صفین کے ایام میں پیدا ہوئے؛ معاویہ کے جرائم بھرے کارناموں کے شاہد تھے اور مدینہ پر اس کے دہشت گردوں کے حملے دیکھے؛ معاویہ کے ہاتھوں شیعیان امیرالمؤمنین (ع) کو گروہ در گروہ قتل عام ہوتے دیکھا؛ معاویہ کے حکم پر سبّ امیرالمؤمنین (ع) کی ترویج دیکھی؛ قیام کربلا دیکھا اور اسارت کاٹی؛ مجلس ابن زیاد اور دربار یزید دیکھا؛ یزید لعین کے ہاتھوں اہل مدینہ کے مال و جان و ناموس کو لٹتا دیکھا جبکہ اس کے صرف بنو ہاشم کو امان دی گئی تھی جس کی وجہ کربلا کے واقعے میں یزید کی جگ ہنسائی اور رسوائی تھی۔ ایک بار یزید کے ہاتھوں اور ایک بار عبدالملک بن مروان کے ہاتھوں کعبہ کی شہادت دیکھی۔

حرہ کا واقعہ

یزید نے اپنے شرمناک دور حکومت کے دوسرے سال ایک شخص کو پانچ ہزار کا لشکر دے کر مدینہ بھیجا اور مدینہ میں قتل عام کا حکم دیا اور مدینہ یعنی رسول (ص) کے شہر کو تین دن تک اپنے جلادوں کے لئے مباح قرار دیا صرف بنو ہاشم کے محلے کو مستثنی قرار دیا کیونکہ کربلا کے واقعے نے ویسے ہی اس کی سلطنت کو رسوا کردیا تھا۔ حرہ کا واقعہ تاریخ اسلام کے دامن پر کربلا کے واقعے کے بعد دوسرا بدنما داغ ہے۔

امام سجاد نے صرف یہی نہیں دیکھا بلکہ عبداللہ بن زبیر کا یہ کارنامہ بھی دیکھا کہ اس نے محمد بن حنفیہ سمیت بنو ہاشم کو شعب ابی طالب (ع) میں اکٹھا کردیا اور انہیں زندہ جلانے کا فیصلہ کیا لیکن چونکہ اسی وقت بدنام زمانہ جلاد حجاج بن یوسف لشکر لے کر مکہ معظمہ پر حملہ آور ہوا لہذا وہ اپنے اس عمل میں کامیاب نہ ہوسکا لیکن حجاج نے عبداللہ بن زبیر ـ جو بیت اللہ میں چھپا ہوا تھا ـ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے کعبہ کو منجنیقوں کا نشانہ بنا کر شہید کردیا اور ابن زبیر کا سر مسجد الحرام میں ہی قلم کردیا اور یہ واقعات سب آپ کے لئے صدمے کا باعث تھے۔ رسول اللہ (ع) نے مروان اور اس کے باپ حکم بن العاص کو مدینہ بدر کردیا تھا لیکن تیسرے خلیفہ نے ان دونوں کو مدینہ میں لوٹایا اور مروان کو اپنا دست راست بنایا جس کے بعد وہ مسلمانوں کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا تھا اور یزید مر گیا اور بیٹا معاویہ بن یزید کچھ ہی دن بعد وفات پاگیا تو اسی مروان نے سلطنت پر قبضہ کیا اور امام سجاد (ع) نے اس شخص کو مسلمانوں کے حاکم کے عنوان سے دیکھا جس کو آپ کے جد امجد رسول اللہ (ص) نے مدینہ آنے سے منع کیا تھا۔ عبدالملک اور اس کے خونخوار گورنر حجاج کی حکومت دیکھی اور شیعیان اہل بیت (ع) کا قتل عام دیکھا۔ حجاج کی زندان میں قید ہوئے جو ایک بے آب و گیاہ صحرا میں واقع تھی اور دمیری نے حیاة الحیوان میں لکھا کہ قیدیوں کو روزانہ دو روٹیاں دی جاتی تھیں جس میں آٹا کم اور راکھ زیادہ ہوتی تھی۔

آپ نے وہ زمانہ بھی دیکھا جب ایک لاکھ افراد حجاج کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ان کا جرم اہل بیت رسول (ص) کی محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ 57 سال اس فانی دنیا میں رہے لیکن اس دنیاوی زندگی کا ہر دن آپ کے لئے ایک قتلگاہ تھا۔

امام سجاد علیہ السلام کی شہادت

امام سجاد کے فرزند، حسین بن علی سے روایت ہے کہ آپ سنہ 94 میں جام شہادت نوش کرگئے ہیں لیکن ابوبصیر نے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ امام سجاد 57 سال کی عمر میں شہید ہوئے ہیں چنانچہ اس حساب سے آپ کی شہادت کا سال سنہ پچانوے ہجری بنتا ہے۔

زندگی کی آخری رات

امام علیہ السلام نے اپنی شہادت کی رات اپنے فرزند ارجمند امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا: بیٹا! پانی لاؤ تا کہ میں وضو کروں۔

امام باقر علیہ السلام اٹھے اور پانی سے بھرا برتن لے آئے۔

امام (ع) نے فرمایا: بیٹا! اس پانی میں ایک مردہ جانور گرا ہوا ہے چنانچہ اس سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔

امام باقر علیہ السلام نے چراغ اٹھا کر پہلے والے برتن میں ایک مرا ہوا چوہا دیکھا اور پانی کا دوسرا برتن لے آئے۔

امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: بیٹا یہ وہی رات ہے جس کا مجھے وعدہ دیا گیا ہے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے گھر والوں کو ہدایت کی آپ کے اس اونٹ کا خوب خیال رکھیں اور اس کو خوب کھلائیں پلائیں جس پر سوار ہوکر آپ کئی بار حج مشرف ہوئے تھے۔[1]

شهادت

کہا گیا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام 18 یا 22 یا 25 محرم کو شہید ہوچکے ہيں لیکن 25 محرم زیادہ مشہور ہے۔

والسلام عليه يوم ولد ويوم استشهد ويوم يبعث حياً

امام سجاد علیہ السلام نے خود فرمایا: میں نے اپنی عمر کے دو سال امیرالمؤمنین علیہ السلام کی امامت میں، 10 سال چچا امام حسن علیہ السلام کی امامت میں اور 10 سال اپنے والد امام حسین علیہ السلام کی امامت میں بسر کئے۔

امام سجاد علیہ السلام کی مدت امامت 35 سال ہے۔ [2]

امام سجاد علیہ السلام کا مدفن

مدینہ والوں نے آپ کی شہادت کے بعد آپ کا جسم مبارک نہایت شان و شوکت سے بقیع میں منتقل کیا اور آپ کو امام حسن علیہ السلام کے پہلو میں سپرد خاک کیا۔ بقیع کے اسی حصے میں عباس بن عبدالمطلب بھی مدفون تھے اور پھر امام باقر اور امام صادق علیہما السلام بھی آپ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ اس قطعے پر قبہ و بارگاہ تھی جس کو وہابیوں نے منہدم کردیا۔ [3]

امام سجاد علیہ السلام کا قاتل

حضرت علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب علیہ السلام ولید بن عبدالملک کی بادشاہی کے زمانے میں شہید ہوئے۔ چنانچہ عمر بن عبدالعزیز بادشاہ بنا تو کہا: ولید ایک جابر و ظالم شخص تھا جس نے خدا کی زمین کو ظلم و جور سے بھر دیا تھا۔ اس شخص کے دور میں پیروان آل محمد (ص)، خاندان رسالت اور بالخصوص امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ مروانیوں اور امویوں کا رویہ بہت ظالمانہ اور سفاکانہ تھا۔

گو کہ مدینہ کا والی ہشام بن اسماعیل مروان کے زمانے سے مدینہ منورہ پر مسلط تھا لیکن ولید کے دور میں اس کا رویہ بہت ظالمانہ تھا اور اس نے امام سجاد علیہ السلام کے ساتھ شدت آمیز برتاؤ روا رکھا۔ اس نے اہل مدینہ پر اتنے مظالم ڈھائے کہ ولید بن عبدالملک نے اس کو منصب سے ہٹا دیا اور اپنے باپ مروان کے گھر کے دروازے کے ساتھ رکھا تا کہ لوگ اس سے اپنے بدلے چکائیں۔ یہ شخص خود کہا کرتا تھا کہ امام سجاد علیہ السلام سے خوفزدہ ہے اور اس کو ڈر تھا کہ امام سجاد (ع) اس کی شکایت کریں گے؛ لیکن امام سجاد علیہ السلام اپنے اصحاب کے ہمراہ مروان کے گھر کے سامنے سے گذرے جہاں ہشام بن اسماعیل کی شکایتیں ہورہی تھیں لیکن امام اور آپ کے ساتھیوں نے ایک گرے ہوئے منکوب شخص کی کسی سے کوئی شکایت نہیں کی اور ہشام چلا اٹھا کہ: “الله اعلم حیث یجعل رسالته” خدا خود ہی جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کس خاندان میں قرار دیں۔ اور روایت میں ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے معزول مروانی گورنر کو اس کے تمام مظالم اور جرائم بھلا کر پیغام بھیجا کہ “اگر تم تنگدست ہو تو ہم مدد کے لئے تیار ہیں”۔

مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے؛ بعض کا کہنا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں مسموم ہوئے اور بعض دوسرے کہتے ہیں کہ آپ کو ولید کے بھائی ہشام بن عبدالملک نے مسموم کیا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ خواہ ہشام ہی امام کا قاتل کیوں نہ ہو، وہ یہ کام ولید کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا تھا چنانچہ ولید بن عبدالملک بن مروان بن العاص روسیاہ ہی امام سجاد علیہ السلام کا قاتل ہے۔ [4]

مدینہ منورہ کے عوام اور امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کا سوگ

امام علیہ السلام کو شدید دور کا سامنا تھا لیکن آپ نے 35 سالہ انسانی اور الہی سیرت و روش کے ذریعے لوگوں کو اپنا مجذوب بنا رکھا تھا اور امامت کی خوبصورت تصویر ان کی نظروں کے سامنے رکھی تھی چنانچہ آپ کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی مانند پورے شہر مدینہ میں پھیل گئی اور لوگ جنازے میں شرکت کے لئے جمع ہوگئے۔

سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ جب امام سجاد علیہ السلام شہید ہوگئے تو مدینہ کے تمام باشندے نیک انسانوں سے لے کر بد کردار انسانوں تک، سب آپ کے جنازے میں شریک ہوئے، سب آپ کی تعریف و تمجید کررہے تھے اور اشکوں کے سیلاب رواں تھے، جلوس جنازہ میں سب نے شرکت کی حتی کہ مسجد النبی (ص) میں ایک شخص بھی نہیں رہا تھا۔ [5]

امام سجاد علیہ السلام کا ایک اونٹ تھا جو بائیس مرتبہ آپ کے ہمراہ سفر حج پر گیا تھا اور حتی کہ امام نے ایک بار بھی اس کو تازیانہ نہیں مارا تھا۔ امام نے اپنی شہادت کی شب سفارش کی کہ اونٹ کا خیال رکھا جائے۔ جب امام علیہ السلام نے شہادت پائی تو اونٹ اٹھ کر سیدھا امام (ع) قبر مطہر پر پہنچا اور قبر پر گرگیا جبکہ اپنی گردن زمین پر ماررہا تھا اور اس کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ امام محمد باقر علیہ السلام اطلاع پا کر اپنے والد کی قبر پر پہنچے اور اونٹ سے کہا: آرام سے ہوجاؤ یا پرسکوں ہوجاؤ، اٹھو خدا تجھ کو مبارک قرار دے۔

اونٹ پرسکوں ہوگیا اور اٹھا کر چلا گیا لیکن تھوڑی دیر بعد واپس لوٹا اور اپنی پہلے والی حرکتیں دہرا دیں۔ اور امام باقر علیہ السلام نے آکر اس کو لوٹا دیا لیکن تیسری مرتبہ وہ پھر بھی قبر پر پہنچا تو امام باقر علیہ السلام نے فرمایا۔ اونٹ کو اپنے حال پر چھوڑو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عنقریب مر جائے گا۔ روایت میں ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی شہادت کے تین دن مکمل نہيں ہوئے تھے کہ اونٹ بھی دنیا سے رخصت ہوگیا۔ [6]

معرفت امام (ع) رکھنے والے اونٹ اور قتل امام کی دوڑ میں شریک انسان نما حکمرانوں کے درمیان فضیلت کس کی ہوگئی؟ آپ ہی فیصلہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1۔ بحارالانوار، ‌ج 46، ص 148، حدیث 4

2۔ بحارالانوار،‌ ص 151، حدیث 10 (به نقل از کشف الغمه ) و ص 152 الی ،154 اصول کافی،‌ ج 1، ص 468، حدیث 6

3۔ بحارالانوار، ‌ج 46، ص 151، حدیث 10

4۔ بحارالانوار،‌ج 46، ص 152، حدیث 12 و ص 153 و 154

5۔ بحارالانوار، ‌ج 46، ص 150

6۔ حارالانوار، ‌ج 46، ص147 و 148، حدیث 2 و 3 و 4 به نقل از بصائر الدرجات و اختصاص و اصول کافی ج 1، ص 467، حدیث 2 و 3 و4

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

چكيده سخنرانى منتشر نشده استاد مرتضى مطهرى(ره)

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.