• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

کفیری دہشتگرد شیعہ ۔ سنی اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں:حسن نصر اللہ کے خصوصی نمائندے کا خطاب

3 آذر, 1393
در موجودہ پروگرام
0

 

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا: سیاسی قونصل کے چیرمین اور حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ علامہ سید ابراھیم امین السید نے “علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس سے خطاب کیا۔
انکی تقریر کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
میں خدا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کی توفیق دی ۔ساتھ ہی آپ تمام حضرات اور خصوصا آیۃ اللہ مکارم شیرازی اور آیۃ اللہ جعفر سبحانی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنی  خاص خلاقیت کی بنا پر اس کانفرنس کا انعقاد کیا۔
یہ کانفرنس ہمیں اس ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتی ہے جو اسلام نے مسلمانوں کے دوش پر رکھی ہے اور وہ ہے اسلام کا دفاع۔آج یہ کانفرنس اس لئے منعقد کی گئی ہے  کہ تکفیری طرز فکر اور شدت پسندی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
میں خلاصہ کے طور پر اس تحریک کے خطرات کو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں:
داعشی عناصر کی کوشش یہ رہی ہے کہ وہ اسلام کی تصویر کو بدنما کر دیں۔دور حاضر میں ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ انکی تمام تر کوششیں اس لئے ہیں کہ حقیقی اسلام کے چہرے کو چھپا دیا جائے۔آج پھر اسلام کے تاریخ ساز کردار کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تکفیری تحریک اس بات پر کمر بستہ ہے کہ مسلمانوں کے مشترکات کو نیست و نابود کر دیا جائے اور انکے مشترکہ موقف کو پھیکا کر دیا جائے۔شیعہ ۔ سنی اختلافات کو روز بروز ہوا دے کر شدید کیا جائے تاکہ مختلف علاقوں میں ہو رہے مسلمانوں کے قتل عام کو با آسانی جائز ٹہرایا جا سکے۔
اس کانفرنس کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ یہ چاہتی ہے تکفیری ٹولیوں کی صحیح تصویر اور ماہیت کو اجاگر کرکے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ شروع ہونے والی تحریک ہدایت کو بیان کیا جائے۔
امت مسلمہ کے بڑے قیمتی اغراض و مقاصد ہیں۔وہ مسلمانوں کی قدرت اور انکے اتحاد کو کمزور بنانا چاہتے ہیں۔وہ دشمنان اسلام کے ساتھ مل کر مسلمانوں میں پیدا ہونے والی نیک تحریکوں پر خط بطلان کھینچنا چاہتے ہیں اور یہ عالم اسلام کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
تکفیری عناصر اسلامی جمہوریہ ایران، فلسطین اوار لبنان کی اسلامی مزاحمت کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔وہ باقاعدہ بین الاقوامی دھشتگردی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی اور عربی ممالک کو اپنے مقابلہ  پر لاکر کھڑا کر دیں۔
ان قسم کی تحریکوں سے مقابلہ ایک ٹھوس، بنیادی اور اسلامی نظریہ پر استوار ہونا چاہئے۔وہ تمام مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔تمام علماء، مراجع، دانشور اور اسلامی مراکز کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو آگاہ کریں۔
ہم آیۃ اللہ مکارم شیرازی کے بیان کی حمایت کرتے ہیں اور دنیا کے دیگر خطوں میں اس قسم کے اجلاس کے انعقاد کا استقبال کرتے ہیں۔
ہم تمام اسلامی گروہوں کے اتحاد پر زور دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس کانفرنس کے ذریعہ اتحاد کا پیغام دوسروں تک پہونچے۔ساتھ ہی ہم تاکید کرتے ہیں کہ اسلامی مقدسات اور مسلمانوں کی ناموس کو محترم جانا جائے اور انکی ہتک حرمت کو حرام اور باطل قرار دے کر اس سے مقابلہ کیا جائے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

خبرگزاری نیوهاب: شورای دین پژوهان کرسی های آزاد اندیشی برگزارمی کند

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.