انہوں نے شیعہ سنی اتحاد کا ایک حقیقی اور بے مثال نمونہ ایران کو قرار دیتے ہوئے پرتگال کے سنی علماء کو ایران سفر کرنے اور قریب سے اس اتفاق اور اتحاد کو مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل جو حالیہ دنوں یورپ کے دورے پر ہیں کے ساتھ چند روز قبل پرتگال کے سنی علماء نے ملاقات کی جب وہ اپنے اس دورے میں پرتگال پہنچے۔
یہ ملاقات جو پرتگال کے دار الحکومت لیسبن میں واقع اہل بیت (ع) اسلامی سنٹر میں ہوئی اس میں حجۃ الاسلام و المسلمین محمد حسن اختری نے تکفیری ٹولے داعش کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس ٹولے نے تو اسلام ناب محمدی کے چہرے کو مخدوش کرنے کی کمر ہمت باندھ رکھی ہے لہذا ایسے میں تمام علماء اسلام اور دین کا درد رکھنے والے مسلمانوں کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ حقیقی اسلام کو دنیا والوں تک پہنچائیں اور غیر مسلمانوں میں متعارف کروائیں کہ حقیقی اسلام وہ نہیں ہے جو داعش جیسے تکفیری ٹولے انجام دے رہے ہیں۔
لیسبن سے ابنا کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ داعش کے ان خوفناک جوائم سے غیر مسلمانوں کے لیے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا حقیقی اسلامی یہی ہے جو داعش کر رہا ہے؟ کہا: یہ بہت اچھا موقع ہے کہ ہم صحیح اور منطقی دلیلوں کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کردار سے غیرمسلمانوں کے لیے حقیقی اسلام کو متعارف کروائیں۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں شیعہ و سنی کے درمیان اتحاد اور اتفاق کو ضروری جانتے ہوئے کہا: شیعوں اور سنیوں کے درمیان موجود اختلافات کا سرچشمہ شیطانی طاقتوں کی چالیں ہیں چونکہ یہ دونوں فرقے ابتدائے اسلام سے اب تک ایک ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔
انہوں نے شیعہ سنی اتحاد کا ایک حقیقی اور بے مثال نمونہ ایران کو قرار دیتے ہوئے پرتگال کے سنی علماء کو ایران سفر کرنے اور قریب سے اس اتفاق اور اتحاد کو مشاہدہ کرنے کی دعوت دی۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے پوری دنیا میں اتحاد و اتفاق کا قیام عمل میں لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: علمائے اسلام کو جزئی مسائل میں پائے جانے والے اختلافات بھول کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہیے تاکہ دین اسلام کو دشمنوں کے شر سے بچایا جا سکے۔


















