• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

اسلام سے قبل جزیرہ نما عرب کی تعلیمی و تمدنی حالت

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

عہد جاہلیت کے عرب ناخواندہ اور علم کی روشنی سے قطعی بے بہرہ تھے۔ ان کے اس جہل و ناخواندگی کے باعث توہمات و خرافات نے پورے معاشرے پر اپنا سایہ پھیلا رکھا تھا۔ ان کی کثیر آبادی میں گنتی کے لوگ ہی ایسے تھے جو لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے۔

دورِ جاہلیت میں عرب تمدن کے نمایاں ترین مظہر حسب و نسب کی پہچان، شعر گوئی اور تقاریر میں خوش بیانی جیسے اوصاف تھے۔ چنانچہ عیش و عشرت کی محفل ہو خواہ میدان کارزار وہ جہاں بھی جاتے اس میں شعر گوئی یا جادو بیان تقاریر کے ذریعے اپنے قبیلے کی قابل افتخار باتیں ضرور بیان کرتے تھے۔

اس میں شک نہیں کہ اسلام سے قبل عربوں میں شجاعت، شیریں بیانی، مہمان نوازی لوگوں کی مدد کرنا اور حریت پسندی جیسی عمدہ خصوصیات و صفات بھی موجود تھیں مگر ان قابل مذمت عادت و اطوار کے مقابل جو ان کے رگ و پے میں سرایت کرچکی تھیں، ان کی یہ تمام خوبیاں بے حقیقت بن کر رہ گئی تھیں، اس کے علاوہ ان تمام خوبیوں اور ذاتی اوصاف کے محرک انسانی اقدار اور قابل تحسین و ستائش باتیں نہ تھیں۔

زمانہٴ جاہلیت کے عرب طمع پروری اور مادی چیزوں پر فریفتگی کا کامل نمونہ تھے۔ وہ ہر چیز کو مادی مفاد کے زاویئے سے دیکھتے تھے۔ ان کی اجتماعی تہذیب بے راہ روی، بدکرداری اور قتل و غارتگری جیسے برے افعال پر مبنی تھی اور یہی حیوانی پست صفات ان کی سرشت اور عادت و جبلت کا جز بن گئے تھے۔

دورِ جاہلیت میں عربوں کے درمیان جو تمدن رائج تھا اس میں اخلاق کی توجیہ و تعبیر دوسرے انداز میں کی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر غیرت، مروت، شجاعت کی سب ہی تعریف کرتے تھے مگر شجاعت سے ان کی مراد سفاکی اور دوسروں کا قتل و خون کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ طاقت ہوتی تھی۔ غیرت کا مفہوم ان کے تمدن میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینا تھا، اور اپنے اس طریقہٴ کار سے اپنی غیرت کی نمایاں ترین مثال پیش کرتے تھے۔ عہد وفا وہ اسی بات کو سمجھتے تھے کہ ان کے قبیلے کے فرد نے جو بھی عہد و پیمان کیا ہے وہ چاہے غلط ہو یا صحیح وہ اس کی حمایت و پاسداری کریں۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

تاریخ اسلام کو دیگر تواریخ پر فضیلت

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.