• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے منتخب خطبات (39)

20 مرداد, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

میرا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں۔ بلاتا ہوں، تو آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ تمہارا بُرا ہو۔ اب اپنے اللہ کی نصرت کرنے میں تمہیں کس چیز کا انتظار ہے۔ کیا دین تمہیں ایک جگہ اکھٹا نہیں کرتا اور غیرت و حمیت تمہیں جوش میں نہیں لاتی؟میں تم میں کھڑا ہو کر چلاتا ہوں اور مدد کے لیے پکارا ہوں، لیکن تم نہ میری کوئی بات سنتے ہو، نہ میرا کوئی حکم مانتے ہو یہاں تک کہ ان نافرمانیوں کے بُرے نتائج کھل کر سامنے آجائیں۔ نہ تمہارے ذریعے خون کا بدلا لیا جا سکتا ہے، نہ کسی مقصد تک پہنچا جا سکتا ہے۔ میں نے تم کو تمہارے ہی بھائیوں کی مدد کے لیے پکارا تھا۔ مگر تم اس اونٹ کی طرح بلبلا نے لگے۔ جس کی ناف میں درد ہو رہا ہو، اور اس لاغر کمزور شتر کی طرح ڈھیلے پڑ گئے جس کی پیٹھ زخمی ہو پھر میرے پاس تم لوگوں کی ایک چھوٹی سی متزلزل و کمزور فوج آئی۔ اس عالم میں کہ گویا اسے اس کی نظروں کے سامنے موت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔

سید رضی فرماتے ہیں کہ اس خطبہ میں جو لفظ “متذایب” آیا ہے، اس کے معنی مضطرب کے ہیں۔ جب ہوائیں بل کھاتی ہوئی چلتی ہیں، تو عرب اس موقعہ پر “تذائبت الریح” بولتے ہیں اور بھیڑ یئے کو بھی ذئب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی چال میں ایک اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔ معاویہ نے مقامِ مین التمر پر دھاوا بولنے کے لیے دو ہزار سپاہیوں کا ایک دستہ نعمان ابنِ بشیر کی سر کردگی میں بھیجا۔ یہ جگہ کوفہ کے قریب امیرالمومنین کا ایک دفاعی مورچہ تھی۔ جس کے نگران مالک ابن کعب ارحبی تھے۔ گو ان کے ماتحت ایک ہزار جنگجو افراد تھے۔ مگر اس موقعہ پر صرف سو ۱۰۰ آدمی وہاں موجود تھے۔ جب مالک نے حملہ آور لشکر کو برھتے دیکھا تو امیرالمومنین (ع) کو کمک کے لیے تحریر کیا جب امیرالمومنین (ع) کو یہ پیغام ملا ہے، تو آپ نے لوگوں کو ان کی امداد کے لیے کہا، مگر صرف تین سو آدمی آمادہ ہوئے ۔ جس سے حضرت بہت بد دل ہوئے اور انہیں زجر و توبیخ کرتے ہوئے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ حضرت خطبہ دینے کے بعد جب مکان پر پہنچے، تو عدی ابن حاتم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا امیرالمومنین(ع) میرے ہاتھ میں بنی طے کے ایک ہزار افراد میں اگر آپ حکم دیں تو انہیں روانہ کر دوں؟ حضرت نے فرمایا کہ یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ دشمن کے سامنے ایک ہی قبیلہ کے لوگ پیش کیے جائیں۔ تم وادی نخیلہ میں جا کر لشکر بندی کرو۔ چنانچہ انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کو جہاد کی دعوت دی، تو بنی طے کے علاوہ ایک ہزار اور جنگ آزما جمع ہو گئے۔ یہ ابھی کوچ کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ مالک ابنِ کعب کا پیغام آگیا کہ اب مدد کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے دشمن کو مار بھگایا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ مالک نے عبداللہ ابن جوزہ کو قرظہ ابنِ کعب اور مخنف ابنِ سلیم کے پاس دوڑا دیا تھا کہ اگر کوفہ سے مدد آنے میں تاخیر ہو تو یہاں سے بر وقت امداد مل سکے۔ چنانچہ عبداللہ دونوں کے پاس گیا مگر قرظہ سے کوئی امداد نہ مل سکی۔ البتہ مخنف ابنِ سلیم نے پچاس آدمی عبدالرحمن ابنِ مخنف کے ہمراہ تیار کیے، جو عصر کے قریب وہاں پہنچے۔ اس وقت تک یہ دو ہزار آدمی مالک کے سو آدمیوں کو پسپا نہ کر سکے تھے۔ جب نعمان نے ان پچاس آدمیوں کو دیکھا، تو یہ خیال کیا کہ اب ان کی فوجیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔ لہذا وہ میدان سے بھاگ کھڑا ہوا۔ مالک نے ان کے جاتے جاتے بھی عقب سے حملہ کر کے ان کے تین آدمیوں کو مار ڈالا۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

حضرت موسى عليہ السلام اور انذار و بشارت

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.