• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

بچّون کا احترام

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا:

سب سے گھٹيا انسان وہ ہے جو دوسروں کى توہين کرے

رسول الله ہميشہ اور ہر جگہ بچوں سے محبت اور شفقت سے پيشآتے جب وہ سفر سے واپسآتے تو بچے ان کے استقبال کے ليے دوڑتے رسول الله ان سے پيار کرتے ، محبت کرتے اور ان ميں سے بعض کو اپنے ساتھ سوار کرليتے اور اپنے اصحاب سے بھى وہ کہتے کہ دوسروں کو وہ سوار کرليں اور اس حال ميں شہر کے اندر لوٹتے بچوں سے يہاں تک شيرخوار بچوں کى توہين سے بھى سختى سے پرہيز کرنا چاہيے ام الفضل کہتى ہيں رسول خدا صلى الله عليہ و آلہ و سلم نے حسين عليہ السلام کو جب کہ وہ شيرخوار تھے مجھ سے لے ليا اور سينہ سے لگايا حسين عليہ السلام نے رسول (ع) کے کپڑوں پر پيشاب کرديا ميں نے حسين (ع) کو رسول الله (ص) سے زبردستى لے ليا اس طرح سے کہ وہ رونے لگے رسول الله (ص) نے مجھ سے فرمايا ام الفضل آرام سے اس پيشاب کو پانى پاک کردے گا ليکن حسين عليہ السلام کے دل سے ناراضى اور ناراحتى کون دور کرے گا ؟

ايک صاحب لکھتے ہيں : ماں باپ کى نظر ميں ميرى کوئي اہميّت نہ تھى نہ صرف وہ ميرا احترام نہ کرتے تھے بلکہ اکثر ميرى توہين اور سرزنش کرتے رہتے کاموں ميں مجھے شريک نہ کرتے اور اگر ميں کوئي کام انجام ديتا تو اسميں سے کپڑے نکالتے دوستوں کے سامنے يہاں تک کہ ميرے دوستوں کے سامنے ميرى بے عزتى کر ديتے مجھے دوسروں کے سامنے بولنے کى اجازت نہ ديتے اس وجہ سے ہميشہ ميرے دل ميں اپنے بارے ميں احساس ذلت و حقارت رہتا ميں اپنے تئيں ايک فضول اور اضافى چيز سمجھتا اب جب کہ ميں بڑا ہوگيا ہوں اب بھى ميرى وہى کيفيت باقى ہے بڑے کام سامنے آجائيں تو ميں اپنے آپ کو کمزور سمجھنے لگتا ہوں کاموں کى انجام وہى ميں فيصلہ نہيں کرپاتا ميں اپنے تئيں کہتا ہوں ميرى رائے چونکہ درست نہيں ہے اس ليے دوسروں کو ميرے بارے ميں اظہار رائے کرنا چاہيے اپنے تئيں حقير و ناچيز سمجھتا ہوں سمجھے اپنے آپ پر اعتماد نہيں ہے يہاں تک کہ دوستوں کى موجودگى ميں مجھ ميں بات کرنے کى ہمت نہيں ہوتى اور اگر کچھ کہہ بيٹھيوں تو کئي گھنٹے سوچتا رہتا ہوں کہ کيا ميرى بات درست تھى اور صحيح موقع پر تھى ۔

بشکريہ : مکارم شيرازي ڈاٹ او آر جي

پيشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

خودشناسى اور بامقصد زندگي

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.