• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

دعا کے تربیت آموز آثار

20 مرداد, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

مذہب اہلبیت علیہم السلام کی ایک مہم خصوصیت یہ ہے کہ اس مذہب میں ائمہ علیہم السلام سے ما ثور ایسی دعائیں موجود ہیں جس کے مضامین و محتوی عالی و ارفع اور تربیت آموز ہیں، مثال کے طور پر دعا ے کمیل ، دعاے صباح، دعائے ندبہ دعاے ابو حمزہ و دعاے عرفہ و غیرہ ایسی شاہکار دعائیں جن سے دیگر مذاہب و فرق محروم ہیں، یہ دعائیں اسلام کی تعلیمات کا ، الہام بخش سرچشمہ ہے، یہ دعائیں ہمیں تزکیہ نفس کی روش اور سیروسلوک الٰہی کا طریقہٴ کار بتاتی ہیں، چنانچہ انسان دعا کے وقت، خدا سے مخاطب ہوتا ہے لہٰذا اسقدر بلند پروازی کرتا ہے کہ فکر کی بلندی سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔

بے شک دعائیں انسان کے نفوس کی ترتیب اور انہیں مراتب کمال تک پہنچانے کے لئے موثر ترین نقش ایفاء کرتی ہیں، ممکن ہے کہ بہت سے دعا کا ورد کرنے والے لوگ اس امر سے غافل ہوں۔

خداوند عالم انسان سے بہت نزدیک ہے لیکن انسان ہے جو غفلت اور بے توجہی کی وجہ سے اس سے دور ہوجاتا ہے اور صرف دعا و اس کا ذکر ہے جو خدائے متعال اور اس کے درمیان سے حجاب اور فاصلہ کو برطرف کرتا ہے اور انسان خدا کی نزدیکی کو پورے وجود سے حس کرتا ہے۔

دعا بالکل باران رحمت کے شبیہ ہے جس طرح باران رحمت زمین کے دلوں کو سیراب اور گل و بوٹوں کو شکوفا کرتی ہے اسی طرح دعا بھی لوگوں کے ایمان اور اخلاص کو تازگی بخشتی ہے اور محبت و عبودیت اس کی روح پر نمایاں ہوجاتی ہے۔

دعا وہ پاکیزہ و روح بخش نسیم ہے کہ حضرت مسیح کی پھونک کی طرح، خدا کے اذن سے بوسیدہ ہڈی کو حیات عطا کرتی ہے۔

دعا وہ موج مارتا سمندر ہے جو اپنے اندر اخلاقی فضائل کے گوہروں کو پرورش دیتا ہے۔ ہر وہ سانس جو دعا کے ہمراہ ہے وہ ضامن حیات و باعث نشاط ذات ہے، اور ہر وہ دل جو نور دعا سے منور ہے تقوائے الٰہی سے مملو ہے، دعا کرنے والا اپنی ذاتی خواہشوں کو خدا سے طلب کرتا ہے اور خدا اس دعا کے ذریعہ اس کی روح کی پرورش و تربیت کرتا ہے اور اس کی نگاہ میں دعا دیگر حاجتوں کو مستجاب کرنے کے لئے صرف ایک بہانہ ہے۔

اب یہ کہنا بجا ہے کہ دعا ایک نایاب گوہر، سعادت کی ضامن، حیات بخش پانی اور عبادت کی روح ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے،”الدعاء مخ العبادہ“یعنی دعا عبادت کی روح ہے،اور تعجب کی بات یہ ہے کہ قرآن کے مطابق، انسان کی اہمیت خدا کی بارگاہ میں، اس کی دعاوٴں کے طفیل میں ہے،”قل یعبنوٴ بکم لولا دعائکم“پیغمبر (ص) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمہاری پروا بھی نہیں کرتا۔

مختصر یوں عرض کرسکتے ہیں کہ۔ دعا انسان کی روح کی تربیت اور پرورش کے لئے مہم ترین عامل ہے۔ دعا نا امیدی و مایوسی کو مہار اور دل میں امید کے نور کی ضو فشانی کرتی ہے۔ دعا مشکلوں اور پریشانیوں میں قوت بخشتی ہے اور ناگوار حادثات و واقعات میں مقاومت کا درس دیتی ہے۔ دعا روح و دل کی شادابی و نشاط کی ضامن ہے اور انسان کو افسردگی سے نجات بخشتی ہے۔ دعا زندگی کے مصائب و الام پر تحمل کرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔

اردو خامنه ای ڈاٹ آئی آڑ

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

''محمد امين (ص)''

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.