• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

صفات خدا

22 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

صفات ذاتی و صفات فعلی

صفات خدا سے متعلق مختلف تقسیمات بیان کی گئیں ھیں جن میں سے اھم ترین صفات ذاتی (یعنی توحید ذات) اور صفات فعلی (توحید فعلی) ھیں۔

صفات ذاتی

صفات ذاتی سے مراد یہ ھے کہ خدا کی ذات کے ماوراء کسی شےٴ کا تصور کئے بغیران صفات کو خدا سے متصف کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ان صفات کو خدا سے متصف یا مرتبط کرنے کے لئے صرف خدا کی ذات ھی کافی ھے یعنی کسی خارجی امر کو مدنظر رکھنے یا ذات خدا کا ان سے تقابل کرنے کی کوئی ضرورت نھیں ھے۔ حیات وقدرت جیسی صفات اس زمرے میں آتی ھیں۔ اگر اس کائنات اور عالم ھستی میں ذات خدا کے ماسوا کوئی بھی موجود نہ ھو یعنی فقط اور فقط خدا تنھا ھو تو بھی خدا کو حی اور قادر کھا جاسکتا ھے۔

صفات فعلی

صفات ذاتی کے بالمقابل، صفات فعلی ھیں کہ جب تک خدا کی ذات سے خارج کسی امر یا شیء کو مدنظر نہ رکھا جائے، ان صفات کو خدا کی ذات کے ساتھ نھیں جوڑا جا سکتا۔ لھٰذا صفات فعلی وہ صفات ھیں کہ جن کے اتصاف کے لئے ذات خدا کے علاوہ کوئی شیٴ ھو تاکہ اس کی ذات سے اس شیٴ کا رابطہ قائم کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھی موجود کائنات میں وجود نہ رکھتا ھو تو خدا کو خالق نھیں کھا جاسکتا۔ اسی طرح اگر کسی بھی مخلوق پر تکالیف واحکام الٰھی کی انجام دھی واجب نہ ھو تو خدا کوشارع نیز اگر کوئی بھی بندہ معصیت ونافرمانی خدا انجام نہ دے تو خدا کو غفور بھی نھیں کھا جاسکتا۔

یھیں سے یہ بات بھی واضح ھو جاتی ھے کہ خالق، شارع اور غفور جیسی صفات، صفات فعلی میں شمار کی جاتی ھیں۔ صفات فعلی وذاتی میں اھم ترین امتیاز وفرق مندرجہ ذیل ھیں:

(۱) صفات فعلی وہ صفات ھیں جو ذات سے صادر ھونے والے فعل کو مدنظر رکھتے ھوئے اس کے ساتھ تقابل کے ذریعہ ذات سے متصف ھوتی ھیں یعنی یہ صفات فعل خدا سے انتزاع اور اخذ کی جاتی ھیں جب کہ صفات ذاتی فقط اور فقط دائرہٴ ذات کے ذریعہ ھی اخذ کی جاسکتی ھیں۔

(۲) صفات فعلی قابل نفی و اثبات ھیں ،اس معنی میں کہ بعض شرائط میں ان کی نفی کی جاسکتی ھے اور بعض میں اثبات۔ دوسرے الفاظ میں ،ان میں سے ذات خدا سے ھر صفت کی نفی یا اثبات ممکن ھے مثلاً خدا زمین کو خلق کرنے سے قبل ”خالق زمین“ نھیں تھا لیکن خلقت زمین کے بعد کھا جاسکتا ھے کہ ”خدا خالق زمین ھے۔“

اسی طرح بعثت رسول اکرم سے پھلے خدا قرآن کا نازل کرنے والا نھیں تھا لیکن بعثت کے بعد ”منزِّل قرآن“ ھوگیا۔

اس کے برخلاف ، صفات ذاتی ھمیشہ اور تمام شرائط و اوقات میں ذات اقدس خدا سے پیوستہ اور آمیختہ ھیں یعنی کسی بھی صورت میں خدا کی ذات سے ان کو خارج نھیں کیا جاسکتا نیز خدا از ازل تا ابد ان صفات کا حامل و و اجدرھے گا۔

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

عصر بعثت اور الله پر ایمان و اعتقاد

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.