• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

قرآنِ کریم

22 مرداد, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

لغت میں قرآن کے معنی قرأت کرنے یا پڑھنے کے ہیں۔ قرآن وحیٔ الٰہی کے الفاظ ہیں جو ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمّد(ص) پر نازل ہوۓ ہیں۔ حضرت محمّد(ص) تیس سال کی عمر میں خواب میں عالمِ غیب کے واقعات دیکھتے تھے اور اُس کے بعد پہلے سے زیادہ روحانی غور و فکر اور خلوت نشینی کی طرف راغب ہوئے۔ اِسی وجہ سے اپنے فارغ اوقات میں وہ شہر مکّہ کے نزدیک ایک پہاڑ میں واقع غارِ حرا میں پناہ لیتے تھے اور شہر کی گہماگہمی سے دور رہ کر مراقبہ اور جمعیتِ خاطر کے ساتھ عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ(ص) کی عمر کے چالیس برس پورے ہوئے تو ایک بار، جب آپ(ص) غارِحرا میں اپنے پروردگار کے حضور غور و فکر میں مصروف تھے، آپ(ص) پر خدا کا ایک فرشتہ ظاہر ہوا اور اُس نے حکم دیا: اقرا (پڑھ)! آپ(ص) نے فرمایا: کیا پڑھوں؟

فرشتہ آپ کے نزدیک اور نزدیک تر ہوگیا اور آپ(ص) کو زور سے اپنی آغوش میں بھینچ لیا۔ دو دفعہ یہ عمل دہرانے کے بعد تیسری دفعہ اُنھیں چھوڑنے کے بعد اُس نے کہا:

اقرا باسم ربك الذي خلق

خلق الانسان من علق

اقرا و ربك الاكرم

الذي علم بالقلم

علم الانسان ما لم يعلم

پڑھ، اپنے پروردگار کے نام سے،

جس نے تخلیق کیا؛ انسان کو جمے ہوئے خون سے ۔

پڑھ !

اور تمہارا پروردگار بہت کریم ہے،

جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی

اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

(96 : 1-5)

حضرت محمّد(ص) نے مذکورہ کلمات دہرائے۔ اُس کے بعد خوف اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں پہاڑ کے دامن سے نیچے اترنے لگے، نصف راستے میں آپ نے دوبارہ ایک آواز سنی جو کہتی تھی:

اے محمّد! آپ خدا کے پیغمبر ہیں اور میں جبرئیل ہوں۔

پیغمبر رک گئے اور اُنھوں نے تعجّب سے اپنےگرد و پیش دیکھا اور خدا کے فرشتے کو دیکھا جس نے سارے افق کی وسعتوں کا احاطہ کیا ہوا تھا اور آپٔ کو دیکھ رہا تھا۔

یہ پیغام جلد ہی ایک دوسرے پیغام کے ساتھ مل گیا جو براہِ راست حضرت محمّد(ص) سے خطاب تھا:

ن و القلم و ما يسطرون

ما انت بنعمة ربك بمجنون

و ان لك لاجرا غير ممنون

و انك لعلى خلق عظيم

“ن ۔

قلم کی اور جو کچھ (اہلِ قلم) لکھتے ہیں،

اُس کی قسم!

تم اپنے پروردگار کے فضل سے دیوانے نہیں

اور تمھارے لیے بے انتہا اجر ہے

اور تمھارے اخلاق بلند و اعلی ہیں۔”

(68 : 1-4)

اِس وحی کے بعد مدّتوں خدا کی طرف سے وحی نازل نہیں ہوئی اور اِس توقف کی مدّت کے بعد نئے سِرے سے آیات کا نزول شروع ہوا اور ۲۳ سال تک، یعنی آپ کی زندگی کے آخری ایّام تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

وحی کے پیغامات کا نزول ابتدا میں گونج کی صورت میں شروع ہوا جو آہستہ آہستہ ایک آواز میں تبدیل ہوتی گئی۔ نزولِ وحی کے دوران حضور (ص) کے چہرے پر واضح تبدیلیاں واقع ہوتی تھیں۔ آپ(ص) کا کہنا تھا کہ الفاظ بہت وزنی تھے۔ آپ(ص) جو آیات وصول کرتے تھے، وہ آپ(ص) کے پیروکاروں اور قریبی شاگردوں کے ذریعے حفظ ہوتی تھیں، اُس کے بعد ہڈّیوں، پتّوں یا چمڑے پر لکھ دی جاتی تھیں۔ پیغمبرِ اسلام حضرت محمّد(ص) قرآنِ کریم کو ایک الٰہی معجزہ گردانتے تھے اور اسے جاوداں الٰہی معجزہ فرماتے تھے۔

ایم ٹی اور ڈاٹ او آر جی

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

حديث ''وسنتي'' کي تيسري سند

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.