• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

نظريہ فطرت، اجمالي طور پر

22 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

اس نظريے کے مطابق:

(1) ھر انسان اپني اپني خلقت اور طينت اوليہ کي بنياد پر ايک مخصوص حدود اربعہ کا حامل ھوتا ھے اور ساتھ ھي ساتھ کچھ ايسي مخصوص صفات اس کي ذات سے مربوط ھوتي ھيں جواس پر خارج از ذات حمل نھيں ھوتيں بلکہ درحقيقت يہ تمام صفات اس کي ذات کا خاصہ ھوتي ھيں۔

دوسرے الفاظ ميں، انسان ايک ايسا کورا کاغذ نھيں ھے کہ اس پر کچھ بھي يکساں طور پر لکہ ديا جائے اور وہ اسے قبول کرلے بلکہ انسان کا باطن اور ضمير کچھ مخصوص تمايلات اور اوصاف کے خمير سے خلق ھوا ھے۔

(2) وجود انسان ميں پائے جانے والے تمايلات ميں سے بعض اس کے حيواني جنبہ سے اور بعض انساني جنبہ سے مربوط ھيں فطرت الھي انسان کے فقط ان تمايلات اور رغبتوں سے مربوط ھے جو اس کے انساني جنبہ سے مخصوص ھيں نہ کہ اس جنبہ سے جو انسان وحيوان ميں مشترک ھے مانند غريزہ جنسي۔

(3) يہ تمايلات و غرائز اس کو دوسرے حيوانات سے جدا کرکے ديگر تمام حيوانات سے ممتاز درجہ عطا کرتے ھيں۔ اگر کوئي شخص مکمل طور پر ان تمايلات واوصاف سے بے بھرہ ھوجائے تو بظاھر تو وہ انساني شکل و صورت اختيار کئے ھوئے ھوگا ليکن درحقيقت حيوان ھوگا۔

(4) يہ تمام تمايلات واوصاف نوع انسان سے مربوط ھيں لھذا اس نوع کے تمام افراد ميں مشترک اور سب ميں پائے جاتے ھيں يعني ايسا نھيں ھے کہ کسي خاص زمان يا مکان سے مربوط ھوں يا کسي مخصوص معاشرے، قوم يا نسل سے بلکہ ھر زمانے اور ھرجگہ کے افراد ان اوصاف سے مستفيد ھوتے ھيں۔

(5) يہ تمام اوصاف و تمايلات جنبہ قوة و استعداد رکھتے ھيں يعني انساني وجود ميں پائے تو جاتے ھيں ليکن انھيں بارور ھونے اور ظاھر و بالفعل ھونے کے لئے انساني کوشش و سعي درکار ھے۔

(6) اگر انسان فطري امور کو اپنے اندر بارور اور اجاگر کرلے تو تمام مخلوقات حتي فرشتوں سے بھي بالاتر مقام حاصل کرلے گا۔ ساتھ ھي اپنے کمال کے اعليترين مراتب کو بھي طے کر لے گا اور اگر يہ صفات پژمردہ ھوگئے تو اپنے اندر فطرت انساني کے بجائے حيواني صفات و تمايلات کا ذخيرہ کرلےگا جس کا نتيجہ يہ ھوگا کہ وہ تمام مخلوقات سے پست ھو جائے گا اور جھنم کے آخري مراتب کو اپنا مقدر بنالے گا۔

(7) جيسا کہ اشارہ کيا جا چکا ھے، انساني فطرت، بعض ادراک و شناخت اور بعض تمايل ورغبت کے مقولوں کا مجموعہ ھے۔ منطق ميں بديھيات اوليہ سے جو کچھ مراد لياجاتا ھے وہ فطري شناخت ھي کا ايک جزء ھے اور حقيقت طلبي، عزت طلبي، حسن پرستي جيسے تمام امور، انساني تمايلات فطري کے ذيل ميں آتے ھيں۔

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

معالم التجديد الكلامي

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.