• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

حج کا نعرہ

3 شهریور, 1393
در موجودہ پروگرام
0

حج کا نعرہ

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ (ص): اٴَتَانِي جَبْرَئِیلُ(ع) فَقَالَ: اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاٴْ مُرُکَ اَنْ تَاٴْمُرَ اٴَصْحَابَکَ اٴَنْ یَرْفَعُوا اٴَصْوَاتَھُمْ بِالتَّلْبِیَةِ فَإِنَّھَا شِعَارُ الْحَجِّ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”جبرئیل میرے پاس آئے اور کھا کہ خدا وند عالم آپ کو حکم دیتا ھے کہ اپنے ساتھیوں اوراصحاب کو حکم دیں کہ بلند آواز سے لبیک کھیں کیونکہ یہ حج کا نعرہ ھے “۔

معرفت کے ساتھ واردهونا

قَالَ الْبَاقِرُ(ع): مَنْ دَخَلَ ھَذَا الْبَیْتَ عَارِفاً بِجَمیع ما اٴَوْجَبَہُ اللّٰہ عَلَیْہِ کٰانَ اٴَمِناً فِي الآخِرَةِ مِنَ الْعَذَابِ الدّٰائِمِ۔

امام محمد باقر (ع) فرماتے ھیں :

”جو شخص اس گھر میں اس عرفان کے ساتھ داخلهو کہ جو کچھ خداوند عالم نے اس پر واجب کیا ھے اس سے آگاہ رھے تو قیامت میں دائمی عذاب سے محفوظ رھے گا“۔

خدا کے غضب سے امان

عبد اللہ بن سنان کھتے ھیں کہ میں نے امام جعفر صادق ں سے پوچھا :”کہ خدا وند عالم کا ارشاد ”ومن دخلہ کان آمناً“

”یعنی جو شخص اس میں داخلهو وہ امان میں ھے اس سے مراد گھر ھے یا حرم ؟

قَالَ:مَنْ دَخَلَ الْحَرَمَ مِنَ النَّاسِ مُسْتَجِیراً بِہِ فَھُوَ آمِنٌ مِنْ سَخَطِ اللّٰہِ ۔۔۔ ۔

”امام (ع) نے فرمایا: جو شخص بھی حرم میں داخلهو اور وھاں پناہ حاصل کرے وہ خدا کے غضب سے امان میں رھے گا “۔

مکہ خدا و رسول کا حرم

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ: مَکَّةُ حَرَمُ اللّٰہِ وَحَرَمُ رَسُولِہِ وَحَرَمَ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ (ع)،الصَّلاٰةُ فِیھَابِمِائَةِ اٴَلْفِ صَلاٰةٍ، وَالدِّرْھَمُ فِیھَ ابِمِائَةِ اٴَلْفِ دِرْھَم،وَالْمَدِینَةُ حَرَمُ اللّٰہِ وَحَرَمُ رَسُولِہِ وَحَرَمُ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ۔ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمَا۔الصَّلاٰةُ فِیھَا بِعَشَرَةِ آلاٰف صَلاٰةٍ وَ الدِّرْھَمُ فِیھَا بِعَشَرَةِ آلاٰفِ دِرْھَمٍ۔

امام جعفر صادق(ع) فرماتے ھیں :

”مکہ خدا وندعالم ،اس کے رسول(ص) (پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین کا حرم ھے اس میں ایک رکعت نماز ادا کرنا ایک لاکھ رکعت کے برابر ھے۔ ایک درھم انفاق کرنا ایک لاکھ درھم خیرات کرنے کے برابر ھے۔ مدینہ (بھی)اللہ ،اس کے رسول اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کا حرم ھے اس میں پڑھی جانے والی نماز دس ہزار نماز کے برابر اور خیرات کیا جانے والا ایک درھم دس ہزار درھم کے برابر ھے “۔

مسجد الحرام میں داخل هونے کے آدا ب

عَنْ اٴَبِي عَبْدِ اللّٰہِ (ع)قَالَ: إِذَا دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَادْخُلْہُ حَافِیاً عَلَی السَّکِینَة ِوَالوَقَارِ وَالْخُشُوعِ۔۔۔ ۔

امام جعفر صادق (ع)فرماتے ھیں : ”جب تم مسجد الحرام میں داخلهوتو پابرہنہ اور سکون ووقار نیز خوف الٰھی کے ساتھ داخلهو “۔

جنت کے محل

قَالَ اٴَمِیرِ الْمُوٴْمِنِینَ (ع): اٴَرْبَعَةٌ مِنْ قُصُورِ الْجَنّةِ فِي الدُّنْیَا:الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ،وَمَسْجِدُ الرَّسُولِ (ص)، وَ مَسْجِدُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ، وَمَسْجِدُ الْکُوفَةِ؛

حضرت علی ابن ابی طالب (ع)فرماتے ھیں :

”چار جگھیں دنیا میں جنت کے محل ھیں :

۱۔مسجد الحرام ، ۲۔مسجد النبی(ص) ، ۳۔مسجد الاقصیٰ، ۴۔مسجد کوفہ ،

حرمین میں نماز

عَنْ إِبْرَاھِیمَ بْنِ شَیْبَةَقَالَ: کَتَبْتُ إِلَی اٴَبِي جَعْفَرٍ(ع) اٴَسْاٴَلُہُ عَنْ إِتْمَامِ الصَّلاٰةِ فِي الْحَرَمَیْنِ،فَکَتَبَ إِلَیَّ:کَانَ رَسُولُ اللّٰہ یُحِبُّ إِکْثَارَالصَّلاٰةِ فِي الْحَرَمَیْنِ فَاٴَکْثِرْفِیھِمَا وَاٴَتِم َّ۔

ابراھیم بن شیبہ کھتے ھیں کہ:

میں نے امام محمد باقر(ع) کو خط لکھا اور اس میں مکہ اور مدینہ میں پوری نماز اداکرنے کے سلسلہ میں دریافت کیا امام (ع) نے جواب میں تحریر فرمایا:

” رسول خدا (ص) ھمیشہ مسجد الحرام اور مسجد النبی میں زیادہ نماز پڑھنا پسند کرتے تھے پس ان دو جگہوں پر نماز یں زیادہ پڑھو اور اپنی نماز بھی پوری ادا کرو“۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

دين کا ظلم سے مقابلہ

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.