• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

خدا، یونانی فلسفیوں کی نگاه میں

3 شهریور, 1393
در موجودہ پروگرام
0

خدا، سقراط کی نظر میں

سقراط دیگر یونانی معاصر کی طرح مختلف خداؤں کے وجود پر ایمان رکھتا تھا۔ تاریخ فلسفہ میں نقل شدہ حقائق کے پیش نظر، سقراط کے مطابق سعادت و کمال حاصل کرنے کے لئے انسان کو خدا اور اس کی ھدایت کی کوئی ضرورت نھیں ھے۔ اگرچہ وہ کمال انسانی کو اصول اخلاقی میں مقید گردانتا ھے لیکن اس نے خدا اور انسانی زندگی میں اس کے رابطے اور دخل کا کوئی تذکرہ نھیں کیاھے۔

خدا، افلاطون کی نگاہ میں

خدا کے عنوان سے دوموجودات کا تذکرہ کرتاھے۔ ایک خیر مطلق اور دوسری صانع۔ اس کی نگاہ میں خیر مطلق ھی حقیقی خدا ھے جس کو وہ پدر یا باپ اور صانع کو پسر یا بیٹا کھتا ھے۔

افلاطون کے مطابق خیر مطلق کی شناخت نھایت مشکل بلکہ دشوار ترین معرفت ھے جو تمام معرفتوں کے حصول کے بعد حاصل ھوتی ھے اور ان دونوں خداؤں کو فقط فلسفی حضرات ھی درک کر سکتے ھیں۔ افلاطون کے مطابق فلسفی حضرات وہ افراد ھیں جو روحی اور ذھنی حتی جسمانی لحاظ سے مخصوص صفات کے حامل ھوتے ھیں البتہ یہ فلسفی حضرات بھی مختلف مراحل سے گزر کر اور اپنی عمر کے پچاس برس گزارنے کے بعد ھی خیر مطلق کا ادراک کرسکتے ھیں لیکن دوسرے افراد جن میں غالباً عوام الناس آتے ھیں ھمیشہ ھمیشہ شناخت و ادراک خدا سے محروم رھتے ھیں۔

خدا، ارسطو کے نقطہٴ نظر سے

کے عقیدے کے اعتبار سے عالم ھمیشہ موجود رھا ھے یعنی ازلی ھے اور کسی نے اس کو خلق نھیں کیا ھے۔ لھٰذا ارسطو کا خدا، خالق کائنات نھیں بلکھ فقط محرک کائنات ھے او رایسا محرک جو خود کوئی حرکت نھیں رکھتا ھے۔ خدائے ارسطو کی روشن ترین صفت یھی عنوان”محرک غیر متحرک“ ھے ۔ ارسطو کی خدا شناسی کا اھم ترین گوشھ یھ ھے کھ ارسطو کے مطابق خدا کی پرستش، اس سے محبت اور اس سے رحم و کرم کی توقع ناممکن ھے۔ خدائے ارسطو کسی بھی طرح محبت انسان کا جواب نھیں دے سکتا۔ ارسطو کا خدا فاقد ارادہ ھے نیزاس کی ذات سے کسی بھی طرح کا کوئی فعل سرزد نھیں ھوتا ھے۔ ارسطو کا خدا ایک ایسا خدا ھے جو ھمیشہ فقط اور فقط اپنے متعلق غور و فکر کرتا رھتا ھے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

وجود خدا ، قرون وسطیٰ کے عیسائیوں کے نزدیک

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.