• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

غدير قرآن

3 شهریور, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

قرآن كريم ميں ارشاد باري تعالي ہے کہ

” اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا”

غدير خم کے بارے ميں آيت کے بارے ميں ايک بحث انگيز مباحث کے متعلق ايک بحث يہ ہے کہ ظاہري طور پر اس آيت اور ما قبل و بعد کے درميان ايک رابطے کا احساس نہيں ہوتا ہے ؟

خواہ ہم اس آيت غدير خم کو غدير خم سے مرتبط سمجھيں جيسا کہ تمام شيعيان اور بہت سے سني بھائي سمجھتے ہيں يا اس کو غدير خم کے واقعہ سے بے ربط جانيں ، ہر دو حالتوں ميں يہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کيونکر آيت ما قبل و ما بعد بے ربط ہے ؟

بنيادي طور پر کيا يہ ضروري ہے کہ قرآن کي آيات سياق و سباق ميں دوسري بشري کتابوں کي طرح مرتبط ہوں ؟

اگر ضروري ہے تو کيا آيات کے درميان يہ رابطہ عام افراد کے ليۓ قابل فہم ہے ؟

مفسرين نے کس حد تک آيات کے باہمي روابط پر توجہ دي ہے ؟

کيا يہ ممکن نہيں کہ خدا نے سورہ مائدہ کي آيت نمبر 3 ميں ان جملات کو جگہ دے کر ان کي طرف ہماري توجہ دلائي ہے جيسا کہ ہم انسان جب کبھي چاہتے ہيں کہ ہمارے جملات ميں کسي جملے کو زيادہ اہميت دي جاۓ تو اسے ايک خاص سرخي دي جاتي ہے – مثال کے طور پر اس جملے کو دوسرے جملات کي نسبت زود دے کر يا بلند آواز ميں پکارتے ہيں يا لکھتے وقت اس کي عبارت کو بڑا کر ديا جاتا ہے يا کسي دوسرے رنگ ميں اسے لکھ ديا جاتا ہے تاکہ دوسري متن سے اسے انفراديت حاصل ہو جاۓ ؟

اگر ضعيف طور پر يہ تصور کريں کہ يہ جملات قرآن ميں سے کسي دوسري جگہ سے ہيں ، تو يہ کونسي سي سورت ہو سکتي ہے ؟

کيا کوئي دوسري مناسب جگہ موجود ہے ؟

کيا ہم يہ دعوا کر سکتے ہيں کہ قرآن کي موجودہ ترتيب ، سورتوں اور آيات کے لحاظ سے نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دور سے ہے ؟

کيونکر غدير کے بارے ميں دوسري آيت يعني سورہ مائدہ کي آيت نمبر 67 سورہ ميں دوسري جگہ پر موجود ہے اور آيت اکمال کے ساتھ کيوں نہيں آئي ہے ؟

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

قرآن امام سجاد (ع) کے کلام ميں

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.