• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

موت کی ماہیت

3 شهریور, 1393
در موجودہ پروگرام
0

موت کیا ہے؟ کیا موت نیستی‘ نابودی‘ فنا اور انہدام کا نام ہے یا تحول و تغیر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال اور ایک عالم سے دوسرے عالم میں منتقلی کو موت کہتے ہیں؟

یہ سوال شروع سے بشر کے سامنے تھا اور ہے‘ ہر شخص اس کا براہ راست جواب جاننا چاہتا ہے یا دیئے گئے جوابات پر ایمان اور اعتقاد پیدا کرنا چاہتا ہے۔

ہم مسلمان قرآن پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں‘ اس لئے اس سوال کا جواب بھی قرآن ہی سے حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ اس نے اس بارے میں کہا ہے‘ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

قرآن کریم نے موت کی ماہیت سے متعلق ایک خاص عبارت میں خصوصی جواب دیا ہے۔

قرآن کریم نے موت کے بارے میں لفظ توفیٰ استعمال کیا ہے اور موت کو “توفیٰ” قرار دیا ہے۔

توفیٰ اور استیفاء دونوں کا مادہ “وفاء” ہے۔

جب کوئی کسی چیز کو پورا پورا اور کامل طور پر بغیر کم و کاست کے حاصل کر لے‘ تو عربی میں اس کے لئے لفظ توفیٰ استعمال کیا جاتا ہے۔

عربی میں “توفیت المال” کا مطلب ہے کہ میں نے تمام مال بغیر کمی بیشی کے پا لیا۔

قرآن کریم کی چودہ آیات میں موت کے لئے لفظ توفیٰ استعمال ہوا ہے‘ ان تمام آیات سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ موت قرآن کی نظر میں قبضے میں لینا ہے‘ یعنی انسان موت کے وقت اپنی تمام شخصیت اور حقیقت سمیت اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں کی تحویل میں چلا جاتا ہے اور وہ انسان کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔

قرآن کے اس بیان سے ذیل کے مطالب اخذ ہوتے ہیں:

(الف) مرگ ‘ نیستی‘ نابودی اور فنا نہیں بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف انتقال ہے اور ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف منتقلی ہے‘ جس سے حیات انسانی ایک اور شکل میں جاری رہتی ہے۔

(ب) وہ چیز جو انسان کی حقیقی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے اور اس کی حقیقی “میں” (خودی) شمار ہوتی ہے‘ وہ بدن اور اس کے مختلف حصے وغیرہ نہیں کیونکہ بدن اور اس کے اعضاء کسی اور جگہ منتقل نہیں ہوتے بلکہ رفتہ رفتہ اسی دنیا میں گل سڑ جاتے ہیں۔ جو چیز ہماری حقیقی شخصیت کو بناتی ہے اور ہماری حقیقی “میں” سمجھی جاتی ہے‘ وہی ہے جسے قرآن میں کبھی نفس اور کبھی روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(ج) روح یا نفس انسانی جسے انسان کی شخصیت کا حقیقی معیار قرار دیا گیا ہے اور جس کی جاودانی ہی سے انسان جاوداں ہے۔ مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مادہ اور مادیات کے افق سے بہت بالا ہے۔ روح یا نفس اگرچہ طبیعت کے کمال جوہری کا ماحصل ہے‘ لیکن چونکہ طبیعت‘ جوہری تکامل کے نتیجے میں روح یا نفس میں تبدیل ہوتی ہے‘ لہٰذا اس کا مرتبہ اور حقیقی مقام تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ایک اعلیٰ سطح پر قرار پاتی ہے‘ یعنی اس کی جنس کو ماوراء طبیعت عالم سے شمار کیا جاتا ہے‘ موت کی وجہ سے روح یا نفس عالم مادی سے عالم روح کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں موت کے وقت اس ماوراء مادہ حقیقت کو واپس اپنی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی بعض ایسی آیتیں جن میں انسانی خلقت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور وہ معاد اور اخروی زندگی سے متعلق نہیں‘ اس چیز کی نشاندہی کی ہے کہ انسان میں آب و گل کی جنس سے ماوراء ایک اور حقیقت موجود ہے۔ آدم اول کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

ونفخت فیہ من روحی (سورئہ حجر‘ آیت ۲۹)

“ہم نے اپنی روح سے اس میں پھونکا۔”

روح‘ نفس اور موت کے بعد روح کی بقاء کا مسئلہ معارف اسلامی کے بنیادی مسائل سے ہے۔

ناقابل انکار معارف اسلامی کا تقریباً نصف حصہ ‘ روح کی اصالت‘ بدن سے اس کا استقلال اور موت کے بعد روح کی بقاء پر ہے‘ جس طرح سے انسانیت اور حقیقی انسانی قدریں بھی اسی حقیقت پر استوار ہیں اور اس کے بغیر یہ سب چیزیں وہم محض ہی ہیں۔ تمام ایسی قرآنی آیات جو موت کے فوراً بعد زندگی پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں‘ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ قرآن روح کو بدن سے مستقل اور فناء بدن کے بعد اسے باقی تصور کرتا ہے۔ ان میں سے بعض آیات کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ قرآن کی رو سے روح یا نفس کچھ بھی نہیں‘ انسان مرنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے‘ یعنی موت کے بعد شعور‘ ادراک‘ خوشی و تکلیف نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی‘ البتہ جب قیامت کبریٰ کا وقوع ہو گا اور انسان کو نئی زندگی ملے گی‘ تب انسان اپنا اور دنیا کا شعور پائے گا۔

لیکن وہ آیات جو صراحتاً موت کے فوراً بعد کی زندگی کو بیان کرتی ہیں۔ اس نظریے کے باطل ہونے پر قطعی دلیل ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ روح کے قائلین کی دلیل صرف “قل الروح من امر ربی” والی آیت ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن میں کئی جگہ لفظ روح استعمال ہوا ہے‘ اس سے مراد کچھ اور ہے۔ یہ آیت بھی اسی معنی پر دلالت کر رہی ہے۔

یہ لوگ نہیں جانتے کہ قائلین روح کی دلیل یہ آیت نہیں بلکہ تقریباً ۲۰ دوسری آیات ہیں‘ البتہ یہ آیت دوسری آیات کی مدد سے جن میں روح کا ذکر مطلق آیا ہے یا روح کے ساتھ اور کوئی قید جیسے “روحنا”، “روح القدس”، “روحی”، “روح من امرنا” و غیرہ‘ لیکن اسی طرح سے انسان کے بارے میں نازل شدہ آیات “و نفخت فیہ من روحی” بھی نشاندہی کر رہی ہے کہ قرآن کی نظر میں ایک حقیقت ایسی موجود ہے جو ملائکہ اور انسان سے اعلیٰ و ارفع ہے‘ جسے روح کہتے ہیں۔ ملائکہ اور انسان کی واقفیت امری یعنی روح اسی کے فیض اور اذن کا نتیجہ ہے۔

روح سے متعلق تمام آیات اور آیت “و نفخت فیہ من روحی” جو انسان کے بارے میں نازل ہوئی ہیں‘ نشان دہی کر رہی ہیں کہ انسانی روح ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔(تفسیرالمیزان‘ جلد ۱۳‘ ص ۱۹۵‘ آیت: وقل الروح من امر ربی اور جلد ۳‘ ص ۲۷۵‘ آیت: یوم یقوم الروح و الملائکة صفا کی تفسیر دیکھئے)

فقط قرآن ہی متعدد آیات میں اصالت روح پر دلالت نہیں کرتا بلکہ کتب حدیث‘ دعا اور نہج البلاغہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار علیہم السلام نے بھی متواتراً اس بات کی تائید کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ روح کا انکار مغرب کا ایک متعفن اور کثیف خیال ہے‘ جس کا سرچشمہ ان کی مادیت اور محسوسات کی طرف میلان ہے۔

افسوس ہے کہ قرآن کریم کے بعض حسن نیت رکھنے والے پیروکاروں کو بھی یہ خیال دامن گیر ہو چکا ہے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

اسلامي اتحاد کے مقدمات

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.