• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

مہدویت

3 شهریور, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

چونکہ موضوع امام مہدی ایک اھم موضوع ھے لہٰذا اس سلسلہ میں ایک مستقل باب میں بحث کرتے ھیں اور اس باب میں تین مرحلوں میں بحث کریں گے:

۱۔ نظریہ ”مہدویت“ اوراس کا اسلام سے رابطہ۔

۲۔مسلمانوں کے درمیان متفقہ احادیث نبوی میں امام مہدی کی شناخت اورتعین۔

۳۔ امکانِ غیبت اور اس کے دلائل۔

لہٰذا اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات کے لئے آئندہ باب میں رجوع فرمائیں۔

بحث ”امامت“ عقل و روایات کی روشنی میں آپ نے ملاحظہ فرمائی اور امامت کے سلسلہ میں ”احادیث“ صاف اور واضح طور پر ملاحظہ کیں۔

نیز ائمہ (ع) کی پاک و پاکیزہ زندگی، سیرت اور علمی عظیم آثار پر بھی توجہ فرمائی۔ کیا ان سب حقائق کو پڑھنے کے بعد بھی کوئی شخص یہ کہہ سکتا ھے کہ شیعہ یهودیوں کے پیروکار ھیں اور دائرہ اسلام سے خارج ھیں؟! اسی طرح گذشتہ وضاحت کے بعد بھی کیا کوئی یہ کہنے میں حق بجانب هوگا کہ شیعیت کا ظهور خلافت عثمان بن عفان کے زمانہ میں هوا، اور مسلمانوں کے ایک گروہ نے قیام کیا۔

کیا عبد اللہ بن سبا کو شیعیت کا موٴسس کھا جاسکتا ھے کہ اس نے اسلام کا لبادہ پہن کر اسلام کو نابود کرنے کی کوشش کی؟!

اور کیا تاریخ میں عبد اللہ بن سبا کا وجود ھے جس کی طرف شیعیت کی ایجاد کی نسبت دی جائے؟!

اب ھم اس سلسلہ میں مورخین کے نظریات قلمبند کرتے ھیں:

۱۔ ڈاکٹر برنارڈلویس نے عبد اللہ بن سبا کا وجود صرف خیالی بتایا ھے اور اس بات کی تاکید کی ھے کہ مختلف زمانے میں ابن سبا کی طرف نسبت دینا متاخرین علماء کی من گھڑت کھانی ھے۔

۲۔ ڈاکٹر طٰہ حسین صاحب نے ابن سبا کی طرف منسوب تمام واقعات کو ناقابل قبول مانا ھے اور مورخین کی روایات پر حاشیہ لگاتے هوئے کھا:

”شیعوں پر یہ سب تھمتیں ،شیعہ مخالفین اور شیعہ دشمنوں نے لگائی ھیں“۔

۳۔ ڈاکٹر جواد علی صاحب نے عبد اللہ بن سبا کی تمام باتوں کو مشکوک قرار دیا ھے کیونکہ اس کی تمام روایتیں سیف بن عمر ھی سے ھیں اور اس کے علاوہ کسی نے بھی بیان نھیں کی جبکہ سیف بن عمر خود بھی اور اس کی روایات بھی غیر قابل قبول ھیں۔

۴۔ ڈاکٹر علی الوردی صاحب کا نظریہ ھے کہ اموی حکّام نے جلیل القدر صحابی جناب عمار بن یاسر کو عبد اللہ بن سبا کا لقب دیا ھے اور اس پر بہت سے قرائن وشواہد ھیں۔

۵. استاد احمد عباسی صالح صاحب کی نظر میں عبد اللہ بن سبا کا وجود ایک افسانہ ھے، جیسا کہ موصوف اپنی گفتگو کے دوران فرماتے ھیں:

”اس میں کوئی شک و شبہ نھیں ھے کہ عبد اللہ بن سبا ایک خرافی تصور کا نام ھے اور لوگوں نے اس خرافی شخص کا وجوداس لئے تصور کیاکہ اس کی طرف جو کچھ بھی نسبت دینا چاھیں وہ دے سکیں، چنانچہ عبد اللہ بن سبا کے جو واقعات موجود ھیں وہ سب متاخرین کی من گھڑت کھانیاں ھیں کیونکہ قدیمی منابع اور کتابوں میں اس کے وجود پر کوئی دلیل نھیں ھے چہ جائیکہ اس کے نظریات کا کوئی وجود بھی هو“

پس خلاصہ یہ هوا کہ عبد اللہ بن سبا صرف ایک افسانہ ھے جس کا ذکر تاریخ میں نھیں ملتا تو پھر حقیقت میں شیعیت کی بنیاد رکھنے والا کون ھے؟ اور کس نے سب سے پھلے اس لفظ کو استعمال کیا؟

جواب :

سب سے پھلے اس لفظ کو حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے استعمال کیا جیسا کہ طبری اور حافظ ابن حجر نے اپنے مشهور حفاظ سے اس روایت کو نقل کیا ھے کہ ایک روز پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس آیہ ٴ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

<اِنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اُوْلٰئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ>

”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اچھے کام کرتے ھیں یھی لوگ بہترین خلائق ھیں“

اور اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو مخاطب کرکے فرمایا:

”ھم انت وشیعتک“ (وہ آپ او رآپ کے شیعہ ھیں)

اب جبکہ یہ معلوم هوگیا کہ سب سے پھلے اس کلمہ کا استعمال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کیا اور شیعہ سے مراد حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کو لیا تو پھر خود غرض او ر شک کرنے والوں کے بے جا اعتراضات کا خاتمہ هوجاتا ھے۔

اَلْحَمُدْ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَو لَا اَنْ ہَدَانَا اللّٰہُ۔

والسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العالمین ۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

سلفیّہ كسے كھتے ھیں؟

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.