• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

وقف و وصل

3 شهریور, 1393
در موجودہ پروگرام
0

کسی عبارت کے پڑھنے میں انسان کو کبھی ٹھرنا پڑتا ھے اور کبھی ملانا پڑتا ھے ، ٹھرنے کا نام وقف ھے اور ملانے کا نام وصل ھے ۔

وقف

وقف کے مختلف اسباب ھوتے ھیں ۔ کبھی یہ وقف معنی کے تمام ھو جانے کی بناء پر ھوتا ھے اورکبھی سانس کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے ۔ دونوں صورتوں میں جس لفظ پر وقف کیا جائے اس کا ساکن کر دینا ضروری ھے ۔

وصل

وصل کے لئے آخری حرف کا متحرک ھونا ضروری ھے تاکہ اگلے لفظ سے ملا کر پڑھنے میں آسانی ھو ورنہ ایسی صورت پیدا ھو جائے گی جو نہ وقف قرار پائے گا نہ وصل ۔

وقف کی مختلف صورتیں

حرف ” ت” پر وقف

اس صورت میں اگر” ت” کھینچ کر لکھی گئی ھے تو اسے” ت” ھی پڑھا جائے گا جیسے صلوات اور اگر گول ” ة” لکھی گئی ھے تو حالت وقف میں ” ھ” ھو جائے گی جیسے صلواة ، حالت وقف میں صلواہ ھو جائے گی ۔

تنوین پر وقف

اگر تنوین دو زیر اور دو پیش سے ھو تو حرف، ساکن ھو جائے گا اور اگر دو زبر ھو تو تنوین کے بدلے الف پڑھا جائے گا مثال کے طورپر ” نورٌ ” اور” نورٍ” ” کو ” نورْ ” پڑھا جائے گا اور” نوراً ” کو ” نوراَ ” پڑھا جائے گا ۔

وقف و وصل کی غلط صورتیں

واضح ھو گیا کہ وقف و وصل کے قانون کے اعتبار سے حرکت کو باقی رکھتے ھوئے وقف کرنا صحیح ھے اور سکون کو باقی رکھتے ھوئے وصل کرنا صحیح نھیں ھے ۔

وقف بحرکت

اس کا مطلب یہ ھے کہ وقف کیا جائے اور آخری حرف کو متحرک پڑھا جائے جیسے مالک یوم الدینِ ایاک نعبد

وصل بسکون

اس کے معنی یہ ھیں کہ ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے لیکن پھلے لفظ کے آخر ی حرف کو ساکن رکھا جائے جیسے الرحمن الرحیم ۔ مالک یوم الدین کو ایک ساتھ ایک سانس میں پڑہ کر رحیم کی میم کو ساکن پڑھا جائے ۔

وقف کے بعد ؟

کسی لفظ پر ٹہھرنے کے لئے یہ بھر حال ضروری ھے کہ اسے ساکن کیا جائے لیکن اس کے بعد اس کی چند صورتیں ھو سکتی ھیں :

۱۔ حرف کو ساکن کر دیا جائے اسے اسکان کھتے ھیں جیسے” احد “

۲۔ ساکن کرنے کے بعد پیش کی طرح ادا کیا جائے اسے اشمام کھا جاتا ھے جیسے ” نستعین “

۳۔ ساکن کرنے کے بعد ذرا سا زیر کا اندازپیدا کیا جائے اسے ” روم ” کھا جاتا ھے جیسے ” علیہ” ۔

۴۔ ساکن کرنے کے بعد زیر کو زیادہ ظاھر کیا جائے اسے اختلاس کھتے ھیں جیسےصالح ۔

اقسام وقف

کسی مقام پر ٹھھرنے کی چار صورتیں ھو سکتی ھیں :

۱۔ اس مقام پر ٹھھرا جائے جھاں بات لفظ و معنی دونوں اعتبار سے تمام ھو جائے ۔ جیسے ” مالک یوم الدین” ۔ کہ اس جملہ کا بعد کے جملہ ” ایاک نعبد و ایاک نستعین” سے کوئی تعلق نھیں ھے ۔

۲۔ اس مقام پر ٹھھرا جائے جھاں ایک بات تمام ھو جائے لیکن دوسری بھی اس سے متعلق ھو جیسے” ممّا رزقنا ھم ینفقون ” کہ اس منزل پر یہ جملہ تمام ھو گیا ھے لیکن بعد کا جملہ ” والذین یومنون ” ۔۔۔بھی انھیں لوگوں کے اوصاف میں سے ھے جن کا تذکرہ گزشتہ جملہ میں تھا ۔

۳۔ اس مقام پر وقف کیا جائے جھاں معنی تمام ھو جائے لیکن بعد کا لفظ پھلے ھی لفظ سے متعلق ھو جیسے” الحمد للہ ” پر وقف کیا جا سکتا ھے لیکن ” رب العالمین” لفظی اعتبار سے اس کی صفت ھے الگ سے کوئی جملہ نھیں ۔

۴۔ اس مقام پر وقف کیا جائے جھاں نہ لفظ تمام ھو نہ معنیٰ جیسے ” مالک یوم الدین” میں لفظ ” مالک ” پر وقف کہ یہ بغیر ” یوم الدین ” کے نہ لفظی اعتبار سے تمام ھے اور نہ معناکے اعتبار سے۔ ایسے مواقع پر وقف نھیں کرنا چاھئے ۔

وقف جائز و لازم

وقف کے مواقع پر کبھی کبھی بعد کے لفظ سے ملادینے میں معنی بالکل بدل جاتے ھیں جیسے ” لم یجعل لہ عوجا ۔ قیما ” کہ عوجا اور قیما کے درمیان وقف لازم ھے ورنہ معنی منقلب ھو جائیں گے۔ پروردگار یہ کھنا چاھتا ھے کہ ھمارے قانون میں کوئی کجی نھیں ھے اور وہ قیم ( سیدھا ) ھے۔ اگر دونوں کو ملا دیا گیا تو مطلب یہ ھو گا کہ ھماری کتاب میں نہ کجی ھے اور نہ راستی اور یہ بالکل غلط ھے ۔ ایسے وقف کو وقف لازم کھا جاتا ھے اور اس کے علاوہ جملہ اوقاف جائز ھیں ۔

رموز اوقاف قرآن

دنیا کی دوسری کتابوں کی عبارتوں کی طرح قرآن مجید میں بھی وصل و وقف کے مقامات ھیں ۔ بعض مقامات پر معنی تمام ھوجاتے ھیں اور بعض جگھوں پر سلسلہ باقی رھتا ھے اور چونکہ ان امور کا امتیاز ھر شخص کے بس کی بات نھیں ھے اس لئے حضرات قاریان کرام نے ان کی جگھیں معین کر دی ھیں اور ان کے احکام و علامات بھی مقرر کر دئے ھیں تاکہ پڑھنے والے کو سھولت ھو اور وقف کی جگہ وصل یا وصل کی جگہ وقف کر کے معنی کی تحریف کا خطا کار نہ ھو جائے ۔

ان مقامات کے علاوہ کسی مقام پر سانس ٹوٹ جائے تو آخری حرف کو ساکن کر دیا جائے اور دوبارہ پھلے لفظ سے تلاوت شروع کی جائے تاکہ کلام کے تسلسل پر کوئی اثر نہ پڑے

۔عام طور پر قرآن کریم میں حسب ذیل رموز و علامات ھوتے ھیں :

ظ۔ جھاں بات پوری ھو جاتی ھے وھاں یہ علامت ھوتی ھے ۔

م۔ اس مقام پر وقف لازم ھے لھذا ملا کر پڑھنے سے معنی بدل جائیں گے ۔

ط۔ وقف مطلق کی علامت ھے لھذایھاں وقف کرنا بھتر ھے ۔

ج ۔ وقف جائز کی علامت ھے لھذا ملا کر بھی پڑھا جا سکتا ھے لیکن وقف کرنا بھتر ھے ۔

ز۔ ٹھھرنا جائز ھے البتہ ملا کر پڑھنا بھتر ھے ۔

ص۔ وقف کرنے کی اجازت دی گئی ھے ۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ دوبارہ ایک لفظ کو پھلے سے دھرا کر شروع کرے ۔

صل۔ قد یوصل کا خلاصہ ھے ۔ یعنی یھاں کبھی ٹھھرا بھی جاتا ھے اور کبھی نھیں لیکن ٹھھرنا بھتر ھے ۔

صلی ۔ الوصل اولیٰ کا خلاصہ ھے یعنی ملاکر پڑھنا بھتر ھے ۔ اگر چہ وقف کرنا بھی غلط نھیں ھے ۔

ق۔ قسیل علیہ الوقف کا خلاصہ ھے یھاں نھیں ٹھھرنا چاھئے ۔

قف۔ یہ علامت ھے کہ یھاں وقف ھونا چاھئے ۔

س یا سکتہ ۔ سکتہ کی نشانی ھے کہ یھاں قدر ے ٹھھرکر آگے بڑھنا چاھئے لیکن سانس نہ ٹوٹے ۔

وقفہ ۔ لمبے سکتہ کی نشانی ھے۔ یھاں سکتہ کی بہ نسبت زیادہ ٹھھرنا چاھئے مگر سانس نہ توڑے ۔

لا۔ اگر درمیان آیت میں ھو تو وقف نھیں کرنا چاھئے اور آخر آیت پر ھو تو اختیار ھے ٹھرے یا نہ ٹھرے ۔

.. ۔ معانقہ ھے ۔ یعنی دو لفظوں یا عبارتوں کے قبل یا بعد یہ علامت ھوتی ھے ان میں ایک جگہ وقف کرنا چاھئے اور ایک جگہ وصل ۔

ک۔ کذٰلک کا مختصر ھے یعنی اس وقف کا حکم اس کے پھلے والے وقف کا ھے ۔ وہ لازم تھا تو یہ بھی لازم ھے اور وہ جائز تھا تو یہ بھی جائز ھے ۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

دعوت کا آغاز

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.