• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

آیۃ اللہ حسینی بوشہری: تکفیریت سے بڑھ کر اس وقت کوئی مصیبت نہیں

4 آذر, 1393
در موجودہ پروگرام
0

 

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا:ایران کے شھر قم میں مدرسہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام میں منعقد ہو رہی “علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس” کے دوسرے دن، آج ایرانی حوزات علمیہ کے مدیر آیۃ اللہ حسینی بوشھری نے کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا:اس وقت مسلمانوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ تکفیریت ہے۔
انہوں نے کہا:تکفیری عنصر ایسا فتنہ ہے جس نے لوگوں کی پر سکون اور امن و چین کے ساتھ گزر رہی زندگی کو نشانہ بنایا ہے۔تکفیریت سے بڑھ کر اس وقت کوئی مصیبت نہیں کہ جو اسلام کے چہرہ کو بگاڑ کر اسلام کے عقیدتمندوں کو اس سے دور دھکیل رہی ہے۔
انہوں نے “مسلمان” کے معنیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والی وسلم نے ۲۳ سال تک جد و جہد کی تاکہ اسلام کو لوگوں تک پہونچا سکیں۔قرآن کریم نے اسلام کو صلح و آشتی کا دین بتایا ہے۔اسلام سے ہمیں جو بات سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اسلام ہمیں جہاد کی دعوت دیتا ہے تو اسکے ساتھ ساتھ جہاد کے معیاروں اور اصولوں کو بھی پیش کرتا ہے۔جس نے بھی زبان سے “شہادتین”  کا اقرار کر لیا تو تمام علماء اسلام کا اتفاق اور اجماع ہے کہ وہ مسلمان ہے اور صرف انہیں دو جملوں کی وجہ سے اسکی جان اور اسکا مال محفوظ ہے اور امان میں ہے۔
ایرانی حوزات علمیہ کے مدیر نے جہالت کو تکفیریت کی بنیادی وجہ بتاتے ہوئے کہا:فکری تعصب، قرآن پر عدم توجہ اور دیگر مذاہب کے بارے میں غلط معلومات پر اطمینان کر لینا،یہ وہ عناصر ہیں جنکی وجہ سے لوگ تکفیری ٹولیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔
تکفیری عناصر روز بروز اسلام کے دائرہ کو محدود کرتے جا رہے ہیں۔اس وقت تکفیری عناصر دشمنان اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں اور باوجودیکہ اسرائیل آجکل فلسطینیوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے،مگر یہ لوگ اسلام اور مسلمین کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔
آیۃ اللہ بوشھری نے تکفیریت کے مسموم نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تکفیری حرکتوں کا ایک نتیجہ (Islamophobia) یعنی اسلام کو ایک خوفناک دین کے طور پر پہچنوانا ہے ۔جس کی بنا پر آج دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں کو مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تکفیریوں کے اعمال سبب بن رہے ہیں کہ اسلامی ممالک میں تفرقہ پھیلے اور مغربی دشمن سکون کے ساتھ اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہ سکے۔ ایک اور تنیجہ جو تکفیری تحریک کے سبب سامنے آیا ہے وہ اسلامی بیداری اور اسلامی ممالک میں پیدا ہونے والے اہم مسائل کو بھلا دیا جانا ہے۔
انہوں نے علماء کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا:اگر علماء اسلام تکفیریوں کے سلسلہ میں اپنے تفکرات میں سنجیدہ نہ ہوئے تو یہ مسموم تحریک اور زیادہ عام ہوگی۔علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جوانوں کو صحیح دین سے آشنا کریں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اھل سنت کے علماء اور مفتیوں کی جانب سے تکفیریت کی نفی پر صریح اور واضح فتوے سامنے آئیں۔ہمیں اسلامی ممالک کے درمیان بردباری اور رواداری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

خبرگزاری ایکنا: نظرخواهی شورای دین‌پژوهان کشور از پژوهشگران علوم اسلامی

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.