• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

کانفرنس کی اختتامیہ تقریر میں تکفیریت اور مذہبی شدت پسندی سے مقابلے کے لئے آیۃ اللہ سبحانی کی تجاویز

6 آذر, 1393
در موجودہ پروگرام
0

 

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا:”علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر کانفرنس” عنوان کے تحت قم میں منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے آخری مقرر مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ جعفر سبحانی تھے۔
آیۃ اللہ سبحانی کہ جو کانفرنس کی علمی نگرانی بھی فرمارہے تھے،انہوں نے اپنے بیان کے آغاز میں شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا اور فرمایا:دنیا کے مختلف علماء اور دانشوروں نے ہماری آواز کو سنا اور اچھے مقالات کو اس کانفرنس کے لئے بھیجا۔اگر یہ مقالات دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہو جائیں یقینا مؤثر ثابت ہوں گے۔اسی طرح علماء کے ذریعہ دئے جانے والے فتوے بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔خدا آپ سبھی حضرات کی زحمتوں کا اجر عنایت فرمائے۔
انہوں نے فرمایا:بعض  مقالات میں تکفیریت سے مقابلہ کی روشوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ہم نے بڑی مفید اور اہم تقاریر بھی سنیں۔سبھی تقاریر اور مقالات سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ کانفرنس میں حاضر سبھی علماء کرام نے تکفیریت کی تمام صورتوں کی مذمت کی ہے اور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خداوندعالم اس مسئلے کو بالکل قبول نہیں کرتا۔فقہاء کرام نے بھی اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ان کا بھی یہی خیال ہے کہ صرف “شرعی محکمہ” کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔
آیۃ اللہ سبحانی نے عربی زبان میں حاضرین کو خطاب کیا۔انہوں نے مسئلۂ تکفیریت کو ایک مذموم اور اسلامی قواعد و اصول کے مخالف عمل بتاتے ہوئےکہا: تکفیریت ایک بلا، مصیبت اور ایسی بیماری ہے جس نے مسلمانوں کے درمیان سر اٹھایا ہے۔اس بیماری کا علاج کیا ہے؟
انہوں نے تکفیریت سے مقابلے کے لئے مقالات اورفتاویٰ کو ناکافی بتاتے ہوئے کہا:ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عنصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک لایحۂ عمل پیش کریں۔اسی بنا پر میں تکفیریت سے مقابلے کے لئے کچھ تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آیۃ اللہ سبحانی نے اسلامی ممالک کے باشندوں کو میڈیا اور منبروں کے ذریعہ تکفیریت کے خطرات سے آگاہ کئے جانے کو،اپنی پہلی تجویز کے طور پر پیش کیا اور فرمایا:اگر کوئی منکر (برائی) سماج میں پایا جا رہا ہے تو ہمیں اسکے خلاف کھڑے ہونا چاہئے۔آجکل وہ اہل قبلہ جو نماز پڑھتے ہیں اور حج بجا لاتے ہیں،انہیں کافر قرار دینا،سب سے بڑا منکر ہے۔اس لئے کہ اسکی بنا پر ایک مسلمان بھائی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو شر پسند سمجھ کر قتل کر دیتا ہے،جب کہ ضرورت اس بات کی ہے صہیونیت کو شرپسند سمجھا جائے۔
حقیقی اسلام کی ثقافت عام کرنے کو حوزہ علمیہ قم کے ممتاز مدرس نے اپنی دوسری تجویز کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا:اسلامی ثقافت تمام انسانوں کو محبت و برادری کی دعوت دیتی ہے۔اس ثقافت کے مطابق مسلمانوں کا خون محترم ہے۔ مگر اسکے برخلاف تکفیری فتنے نے اپنے جرائم کے نتیجہ میں اسلامی تصویر کو اس طرح مکدر بنا دیا گویا کہ اسلام ایک خونخوار دین ہے۔
آیۃ اللہ سبحانی نے “علماء کے باہمی اجلاس کے انعقاد” کو بھی تجویز کے طور پر پیش کیا اور اسے تکفیریت کے خاتمہ کے لئے ایک اور علاج بتاتے ہوئے کہا:اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اس قسم کے کانفرنسوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ یہ کانفرنسیں ہر قسم کے انفرادی رجحان اور نفسانی خواہشات سے دور رہیں تاکہ اس کے ذریعہ علماء اسلام آپس میں ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکیں۔اس کانفرنس میں بہت سے علماء تشریف لائے ہیں جو اپنے ملک واپسی پر وہاں کے باشندوں کو این مسائل کے خطرات سے آگاہ کریں گے۔اس اجلاس میں شریک ہونے والے عملاء کو چاہئے کہ تکفیریت مخالف مطالب و مضامین کو میڈیا کے حوالہ کریں تاکہ وہ انہیں ملک کے جوانوں اور دیگر افراد تک پہونچائے اور اس طرح ان گمراہ کن مسائل کا مقابلہ کیا جائے کہ جو تکفیری فتنہ پرور میڈیا کے ذریعہ لوگوں تک پہونچا رہے ہیں۔
کانفرنس کے علمی نگراں نے مذاہب اسلامی کے بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کو اپنی چوتھی تجویز کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا:اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کے درمیان فقہی اور اعتقادی اعتبار سے نظریاتی اختلاف پایا جاتا ہے اور ہرمذہب کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔ لیکن اگر ہم کسی ایک مذہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں تو اسکے لئے لازم ہے کہ ہم اسکے بنیادی مآخذ و مصادر کی طرف رجوع کریں،وہ مصادر جو اس مذہب کے عظیم علماء کے ذریعہ تالیف کئے گئے ہیں۔ہم لوگوں کے ایک دوسرے سے دور ہونے کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ہم مذاہب کی بنیادی کتب اور مآخذ کی طرف رجوع نہیں کرتے۔اس سلسلہ میں ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔
تعلیمی نصاب کو تکفیری رجحانات اور ورغلانے والے مطالب و مفاہیم سے عاری کرنے کو آپ نے تکفیریت سے مقابلہ کا ایک اور طریقہ کار بتایا اور فرمایا:بعض ملکوں کے پرائمری اور ہائی اسکولوں کے نصاب میں فتنہ پیدا کرنے والے مطالب موجود ہیں۔ان ممالک کے دینی مدارس کی کتب میں ہم دیکھتے ہیں کہ لکھا ہوا ہے:”گزشتہ لوگوں کا شرک دور حاضر کے شرک کی ننسبت کم تھا!”
بعض ممالک کی تعلیمی کتب میں لکھا جاتا ہے کہ “انبیاء سے توسل کرنا شرک ہے”۔وزارتیں اور نگراں ادارے بھی فتنہ پیدا کرنے والے اس قسم کے مطالب کو چھپنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل ان گمراہ کن مطالب سے متأثر ہوتی ہے اور پھر دھشتگردی کا سلسلہ اسی طرح قائم رہتا ہے۔
تکفیریت کو وجود میں لانے والے محرکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمان، کفر، توحید، شرک اور بدعت جیسے الفاظ سے غلظ مفہوم سمجھنے سے تکفیری افکار وجود میں آئے ہیں۔انہوں نے ان پانچ موضوعات پر کانفرنسوں کے انعقاد کو اپنی آخری تجویز کے طور پر پیش کیا اور فرمایا:یہ کام بہت ضروری ہے۔اس لئے کہ تکفیری فتنہ کے سرکردہ افراد مشرکین کے لئے نازل ہونے والی آیات کو اہل قبلہ مسلمین کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے دھشتگردی سے مقابلے میں عالمی سامراج کے دوغلے پن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:ہمارے دور کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ ایک طرف تو مغربی ممالک آئے دن کسی ملک میں دھشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام سے بیگانہ بتاتے ہیں تو دوسری طرف اسی وقت ایک دوسرے ملک میں دھشتگرد ٹولیوں کے کرتوتوں کو صحیح ٹھہراتے ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں آیۃ اللہ جعفر سبحانی نے فرمایا:خدا سے میری دعا ہے کہ کانفرنس میں شریک ہونے والے آپ تمام حضرات  کو خدا اپنے حفظ و امان میں رکھے۔یقینا خدا ہم سب کی نیتوں سے با خبر ہے۔
واضح رہے کہ “علماء اسلام کے نقطۂ نظر سے انتہا پسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرس” عنوان کے تحت ۲۳ اور ۲۴ نومبر کو قم میں دو روزہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس آیۃ اللہ  مکارم شیرازی اور آیۃ اللہ جعفر سبحانی کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کے انعقاد میں ،اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی،اتحاد بین المذاہب اسلامی کی عالمی اسمبلی،ایران کے حوزات علمیہ کی مدیریت، دار الاعلام فاؤنڈیشن، اور المصطفیٰ(ص) انٹرنیشنل یونیورسٹی کا تعاون حاصل رہا۔اس کانفرنس کا مقصد یہ تھا کہ تکفیریت کی ماہیت،اسکے اہداف اور خطرات بیان ہوں اور ساتھ ہی اس فتنے سے نجات حاصل کرنے کی راہوں پر غور و خوض کیا جائے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

انتہاپسند اور تکفیری تحریکوں پر عالمی کانفرنس" کے اختتام پر علماء کا اہم مشترکہ بیان

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.