اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے تکفیری وہابیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ میں پیغمبر اکرم کی جائے ولادت کو مسمار کئے جانے کے منصوبے کی نسبت خبردار کیا ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کر کے سعودی عرب کی حکومت کو خبردار کیا ہےکہ وہ ہرگز پیغمبر اکرم (ص) کی جائے ولادت کو مسمار کرنے کی کوشش نہ کرنے، اسمبلی کے بیان میں آیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت وہابی علماء کے فتووں کی آڑ میں اس ملک میں پائے جانے والے اسلامی آثار، اولیاء اللہ کے مزاروں اور صحابہ کرام کے روضوں کو منہدم کرتی ہی آئی ہے لیکن اب اس نے پیغمبر اکرم (ص) کے مقام ولادت کو بھی منہدم کر کے اس کی جگہ شاہی قصر بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
بیان میں مزید آیا ہے کہ آل سعود نے اپنے دور حکومت میں ۹۵ اسلامی اور تاریخی آثار کو مٹا دیا ہے اور ان کی جگہوں پر بڑے بڑے ہوٹل اور شاپنگ مال بنا دئے ہیں جبکہ مسجد الحرام میں توسیع کے بہانے پیغمبر اکرم(ص) سے منسلک تمام آثار کو مٹا دیا ہے۔
اسمبلی نے اپنے بیان میں تاکید کی ہے کہ رسول اسلام(ص) کی جائے ولادت کو مسمار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ اسلام کے اہم ترین اثر کو مٹا دیا جائے اور یہ وہ عمل ہے جس سے تمام مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوں گے۔
بیان میں مزید آیا ہے کہ آل سعود نے اس سے پہلے بھی ۱۳۴۴ ہجری قمری میں جنت البقیع کو مسمار کیا، اس سے پہلے کربلا پر حملہ کیا ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اب ایک بار پھر اتنا گھناونا اقدام کرنے کی سازش رچائی جا رہی ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ تکفیریوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے جائے ولادت پر اس سے پہلے بھی لائبریری تعمیر کر رکھی ہے جبکہ اب اسے منہدم کرکے اس کی جگہ پر آل سعود کے بادشاہ کے لیے قصر تعمیر کئے جانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو رسول اسلام(ص) سے اس خاندان کی انتہائی دشمنی کا ثبوت ہے۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی نے اپنے بیان میں مراجع عظام، علماء کرام، دینی اداروں اور مذہبی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دینی اور شرعی فریضے پر عمل کرتے ہوئے سعودی حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں اور اس عظیم اسلامی تاریخی اثر کو نابود ہونے سے بچایا جائے۔
…………











