• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

نماز بےمثال اسلامی فریضہ اور دین و دینداری کا مضبوط ستون ہے

11 دی, 1393
در موجودہ پروگرام
0

 

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تئيسویں قومی نماز اجلاس کے نام پیغام میں فرمایا کہ اس بے مثال اسلامی فریضے یعنی نماز کو معاشرے میں رائج کرنے کے لئے بڑی گرانقدر کوششیں کی گئي ہیں اور ان کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جانا چاہیے جوکہ نمازیوں بالخصوص جوانوں کی طرز زندگي پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ آپ نے فرمایا نماز کی ادائيگي اور نماز کی ترویج کے لئے انجام دئے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ نماز اجلاس کے اپنے کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ حقیقت پسندانہ اور دانشمندانہ محاسبہ اور جانچ پڑتال انجام پانی چاہیے اور نتائج پر عمل درآمد اس کام کا اہم مرحلہ ہے۔ واضح رہے تئيسواں قومی نماز اجلاس رہبرانقلاب اسلامی کے  پیغام سے شہر اھواز میں شروع ہوا ہے۔ یہ اجلاس دو دنوں تک جاری رہے گا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کئی برس ہوگئے ہیں کہ  ملک بھر میں ہر سال اس مبارک جذبہ، ہمت اور اجلاس کے ذریعہ ذہنوں اور دلوں میں نماز کے بارے میں غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کا شوق اور جذبہ پیدا کیا جاتا ہےاور اسلام کے اس بےمثال فریضہ اور دین و دینداری کے مضبوط ستون  کے بارے میں نکتوں ،یاد دہانیوں و انتباہات کے بارے میں معاشرے کو آگاہ کیا جاتا ہے اور اجلاس کے منتظمین  ، سامعین اور مصنفین  پر اللہ تعالی کا یہ بہت بڑا لطف و کرم ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ان قابل قدر کوششوں کی محصولات کو حقائق کے ترازومیں تولا جائے ؛ اور دیکھا جائے کہ نماز پڑھنے والے اور نماز کو ہلکا نہ سمجھنے والےمخاطبین بالخصوص نوجوانوں اور نماز کی وادی میں تازہ قدم رکھنے والوں کی رفتار میں اس دعوت کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ نماز کی کیفیت ، خشوع و خضوع کی حفاظت کے بارے میں دیکھا جائے جو اس صالح و رحمانی عمل کا اصلی جوہر اور اصلی روح شمار ہوتی ہے؛ اور پھر ان حکام کی ذمہ داریوں کو بھی دیکھا جائے جنھیں اس سلسلے میں مساجد کی تعمیر یا مدارس اور یونیورسٹیوں میں نماز کے اہتمام یا زمینی اور ہوائی سفر میں نمازیوں کے لئے مواقع فراہم کرنے یا تصویری اور صوتی ذرائع‏ ابلاغ میں نماز کی ترویج کے سلسلے میں ہنری طریقوں سے استفادہ کرنے ، یا اس مختصرو پرمغز  عمل کی خوبیاں  بیان کرنے جیسے امور میں ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں یا کتاب و  مقالہ کی تحریرمیں یا دوسرے میدانوں میں ان کے دوش پر جو ذمہ داریاں رکھی گئی تھیں انھیں انھوں نے کس حد تک پورا کیا ہے۔

اجلاس نماز ایک مبارک ، ماجور اور کارآمد اقدام ہے لیکن اس قابل قدر اقدام کو نقطہ کمال کے قریب پہنچانے میں زیادہ سے زیادہ تلاش کی ضرورت ہے اور اس کے لئے حقیقت پسندانہ اور عقلمندانہ محاسبہ اور اندازے لگانے کی ہمت و کوشش کرنی چاہیے اور اس کے نتائج کے حصول کو اس حصہ کی خلاقیت سمجھنا چاہیے۔

آپ سب کے لئے خصوصا گرانقدر عالم دین حجۃ الاسلام جناب قرائتی کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ سے توفیق طلب کرتا ہوں۔

سید علی خامنہ ای

9/ دی / 1393

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

Two martyred, five injured in ISIS mortar attacks on Samara shrine

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.