• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home مذہب خبر کے مطالعہ

تولّا اور تبرّا کیوں اور کیسے؟

19 بهمن, 1393
در مذہب خبر کے مطالعہ
0

خلاصہ :

 

جب ہم اورآپ نظام کائنات میــں غور کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ نظام نفی و اثبات (اور -) کے فارمولے پر مشتمل ہے یعنی ہر شی کو اس کی ضد کے ہمراہ خلق کیاگیا ہے جیسے شب و روز ،نور و ظلمت،سرد و گرم․․․․ وغیرہ۔انھیں متضاد اشیاء میں خداوند متعال نے اپنے بندوں کو اظہار محبت و نفرت یا تولا اور تبرا جیسی دو عظیم نعمتوں سے نواز اہے

 

متن:

 

جس طرح تولا یعنی اچھے لوگوں سے محبت کرنا عبادت ہے اسی طرح تبرا یعنی برے لوگوں سے نفرت کرنا بھی عبادت ہے اور یہ ایک فطری امر ہے بالکل اسی طرح جیسے قوت شامہ خوشبو سے محظوظ ہوتی ہے اوربدبو سے کراہت محسوس کرتی ہے،آنکھ حسین مناظر کے ذریعہ احساس نشاط کرتی ہے اور کریہ المنظر اشیاء کو دیکھنا پسند نہیں کرتی،زبان خوش ذائقہ چیزوں سے لذت محسوس کرتی ہے اور بد ذائقہ چیزیں اسے ناگوار لگتی ہیں کان سریلی آوازوں سے لطف اندوز ہوتا ہے اور بھدی آوازیں اس پر گراں گزرتی ہیں۔

تولا اور تبرا سنت الٰہیہ:

قرآن مجید میں اگر مادۂ ـحب و ودّ اور لعن و برأ کو ملاحظہ کیا جائے تو ہم اس حقیقت تک باآسانی پہونچ سکتے ہیں کہ خداوند متعال کی یہ سنت رہی ہے کہ اس نے نیک لوگوں سے اظہار محبت کیا ہے اور ان سے محبت و مودت کا حکم دیا ہے ،برے لوگوں سے اظہار نفرت کیا ہے اور ان سے بیزاری کا حکم دیا ہے اور سنت الٰہیہ پر عمل کرتے ہوئے ہر نبی اور وصی نبی نے بھی نیک کردار لوگوں سے اظہار الفت اور بد کردار لوگوں سے اظہار برأت کیا ہے۔
تولا اور تبرا کیوں کریں:
تولا اور تبرا اس لئے کرنا چاہئے کہ چونکہ یہ خدا ،انبیاء اور اوصیاء کی سنت و سیرت ہے۔ تبرا کے جواز پر قرآنی اور روائی دلیلوں کے علاوہ عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر انسانی عقل کہتی ہے کہ اچھے لوگوں سے محبت اور اظہار محبت کیا جائے اور برے لوگوں سے نفرت اور اظہار نفرت کیا جائے۔دوستان خدا کی محبت کے ساتھ دشمنان خدا سے بیزاری بھی ضروری ہے ورنہ صداقت محبت خطرے میں پڑ جائے گی چونکہ یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔
کیسے کریں؟
یہ بات کسی بھی صاحب علم و عقل سے پوشیدہ نہیں ہے کہ تبرا فحش کلامی اور گالی بکنے کا نام نہیں ہے بلکہ دل و زبان سے اظہار نفرت کے ساتھ ساتھ دشمنان خدا اور اہل بیتؑ کے رفتار و کردا ر سے دوری کا نام ہے جس طرح تولا قلبی اور زبانی محبت کے علاوہ خاصان خدا کے نقش قدم پر چلنے کا نام ہے ۔اسلام کی نظر میں حسب و نسب ،مال و منال اور نام و مقام کی کوئی حیثیت نہیں ہے معیار فقط اخلاق و کردار ہے اگر کردار اچھا ہے تو انسان لائق تولا ہے اور اگر کردار برا ہے تو وہ مسحق تبراہے۔
تولا کی طرح تبرا بھی ایک واجب قابل تحسین اور باعث ثواب عمل ہے لیکن زبانی تبرا کے لئے موقع و محل وغیرہ کا لحاظ لازمی امر ہے ﴿لاتسبواالذین یدعون من دون اﷲ فیسبوا اﷲ عدواً بغیر علمٍ ․․․․﴾(انعام؍۱۰۸)دوسری چیز جس کی رعایت زبانی اظہار برائت میں ضروری ہے ،یہ ہے کہ فحش اور بیہودہ قسم کے الفاظ کا استعمال نہ صرف یہ کہ اخلاقی اقدار کے منافی ہے بلکہ شرعابھی جائزنہیں ہے لہٰذا جشن و سرور کی محفلوں میں ایسے کلموں اور جملوں کا استعمال روا نہیں ہے جو خدا ،رسول اور ائمہ کی ناراضگی کا سبب بنیں﴿ قل اعملوا فسیر اﷲ عملکم ورسوله والمؤمنون․․․․․﴾ (توبہ؍۱۰۵)
آخر میں بارگاہ رب میں دعا کرتے ہیں کہ ہم سب کو صحیح معنوں میں اہل بیتؑ اور ان کے دوستوں سے تولا اور ان کے دشمنوں سے تبرا کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطافرمائے۔(آمین)

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

مذہب خبر کے مطالعہ

ولایت

28 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

امام ھادی علیہ السلام کی عجیب کرامت اور تدبیر

27 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

آیت اللہ سیستانی کی جانب سے عراق کے بے گھر سنی مسلمانوں کے درمیان امداد تقسیم

27 شهریور, 1395
مذہب خبر کے مطالعہ

ماہ رمضان، ماہ فضیلت و تربیت

10 تیر, 1394
مذہب خبر کے مطالعہ

رمضان خود شناسی کا مہینہ

30 خرداد, 1394
مذہب خبر کے مطالعہ

ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات

27 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

Lady Zainab: The Wise Woman of Bani Hashim

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.