اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اہلبیت عالمی اسمبلی کے سربراہ کا اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ جو شخص بھی مجمع اہلبیت کا حصہ بننا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ احساس حضور پیدا کرے، فعال ہو، ایسا نہیں کہ صرف نام ہو اور کام نہ ہو اور سال میں صرف ایک اجلاس کیا جائے۔ مجمع اہل بیت کے اراکین کو چاہیے کہ لوگوں کے مسائل کو مدنظر رکھیں اور ان کی خدمت کریں۔ ان کے مسائل کو حل کریں۔ مجمع اہل بیت پاکستان کو چاہیے کہ تمام تنظیموں اور موثر شخصیات کو اپنے پرچم تلے جمع کریں۔ ہوسکتا ہے کہ چند لوگ مجمع اہل بیت کو پسند نہ کریں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام مراجع عظام چاہتے ہیں کہ پیروان اہلبیت متحد ہوں، ایک دوسرے سے رابطہ قائم رکھیں۔ مجمع اہلبیت کا قیام اس لئے عمل میں نہیں لایا گیا کہ میں چند کتابیں بھیج دوں اور آپ انہیں تقسیم کر دیں۔ یہ کام تو آپ ویسے بھی کرتے ہیں۔ بلکہ مجمع تو اتحاد کیلئے، مشاورت کیلئے تشکیل دیا گیا ہے اور اس کام کو باہم انجام دینے کیلئے مجمع اہلبیت ایک پارلیمان اور ایک مجلس اعلٰی کی حیثیت رکھتا ہے۔
مجمع اہل بیت (ع) پاکستان (ایم اے پی) کی جنرل باڈی (مجلس عمومی) کا اہم اجلاس اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے اراکین مجمع اہل بیت (ع) نے شرکت کی۔ اس موقع پر اجلاس کے ابتدائی گرما گرم سیشن میں مجمع اہل بیت (ع) پاکستان کا مجوزہ دستور العمل زیر بحث آیا، جسے چند ترامیم کے ساتھ پاس کیا گیا۔ اجلاس کے اختتامی سیشن میں اہل بیت عالمی (ع) اسمبلی کے سربراہ آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری نے خطاب کیا۔ اجلاس سے علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ قاضی نیاز نقوی، علامہ رضی جعفر نقوی اور دیگر نے خطاب کیا۔ ایس یو سی کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ ناصر عباس جعفری سمیت بڑی تعداد میں علماء کرام شریک ہوئے۔ اجلاس کے آخر میں اہل بیت عالمی اسمبلی کے سربراہ نے خطاب کیا جس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔
آغاز میں چند نکتے مجمع اہل بیت کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں، تاکہ مجمع کی فعالیت اور حیثیت روشن ہو جائے۔ اگر فرصت ملی تو موجودہ حالات کے بارے میں بھی ایک نکتہ عرض کروں گا۔ ابتداً انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ کی مناسبت سے ہدیہ تبریک پیش کرتا ہوں اور تبریک بھی اس لحاظ سے کہ یہ انقلاب مراجع عظام کی رہبری خصوصاً امام خمینی (رہ) کی رہبری میں شروع ہوا، یہ اس لئے ذکر کرتا ہوں تاکہ حاضرین علماء متوجہ ہو جائیں کہ حرکت کا نتیجہ برآمد ہونے میں وقت لگتا ہے۔ صبر و استقامت درکار ہوتی ہے۔ تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ دور اندیشی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ہمیں اپنے آئندہ کے بارے میں سوچنا چاہیے اور آئندہ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اگر آپ علماء کرام چاہیے ہیں کہ مجمع اہل بیت پاکستان بنے، جو پاکستان کے لئے اہم بھی ہے، تو یاد رکھیں کہ یہ کام جلد ثمر آور اور نتیجہ خیز نہیں ہوگا۔ یہ کام سخت محنت طلب ہے، وقت صرف کرنا ہوگا، جو شخص بھی مجمع اہل بیت کا حصہ بننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ احساس حضور پیدا کرے، فعال ہو، ایسا نہیں کہ صرف نام ہو اور کام نہ ہو اور سال میں صرف ایک اجلاس کیا جائے۔
مجمع اہل بیت کے اراکین کو چاہیے کہ لوگوں کے مسائل کو مدنظر رکھیں اور ان کی خدمت کریں۔ ان کے مسائل کو حل کریں۔ مجمع اہل بیت پاکستان کو چاہیے کہ تمام تنظیموں اور موثر شخصیات کو اپنے پرچم تلے جمع کریں۔ ہوسکتا ہے کہ چند لوگ مجمع اہل بیت کو پسند نہ کریں، ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تمام مراجع عظام چاہتے ہیں کہ پیروان اہل بیت متحد ہوں، ایک دوسرے سے رابطہ قائم رکھیں۔ مجمع اہل بیت کا قیام اس لئے عمل میں نہیں لایا گیا کہ میں چند کتابیں بھیج دوں اور آپ انہیں تقسیم کر دیں۔ یہ کام تو آپ ویسے بھی کرتے ہیں۔ بلکہ مجمع تو اتحاد کے لئے، مشاورت کے لئے تشکیل دیا گیا ہے اور اس کام کو باہم انجام دینے کے لئے مجمع اہل بیت ایک پارلیمان اور ایک مجلس اعلٰی کی حیثیت رکھتا ہے۔
مجمع اہل بیت (ع) کا اصل مقصد ہم آہنگی، مشاورت اور باہمی تعاون کا فروغ ہے۔ تمام شیعہ ادارے، حوزہ علمیہ، شخصیات اور تنظیمیں مجمع اہل بیت (ع) کی چھتری تلے آجائیں۔ ایسا کرنے سے ملک کے ہر شعبہ میں آپ کی نمائندگی ممکن ہوگی، پارلیمنٹ میں آپ کی آواز موجود ہوگی۔ اہل بیت عالمی اسمبلی کے سربراہ آیت اللہ شیخ محمد حسن اختری نے مجمع اہل بیت پاکستان کی مجلس عمومی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مٹھی بھر صیہونی دنیا بھر کے یہودیوں کے حقوق کا تحفظ کرسکتے ہیں، یہودیوں سے متعلق خبر فوراً پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے۔ بحرینی عوام کئی سالوں سے ظلم و استبداد کی چکی میں پس رہے ہیں، لیکن میڈیا پر کوئی خبر دکھائی نہیں دیتی، چونکہ میڈیا صیہونزم کے کنٹرول میں ہے، ان کی مرضی کے بغیر کوئی خبر نشر نہیں ہوتی۔ اقتصادیات پر بھی صیہونی قابض ہیں۔
آیت اللہ شیخ حسن اختری کا کہنا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنی تعداد میں اضافہ کریں، مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں، مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین اپنی اپنی کمیٹیاں تشکیل دیں، خواتین، مرد، وکلاء ، ڈاکٹرز، انجنیئرز پر مشتمل مختلف انجمنیں بنائی جائیں۔ اگر امام خمینی (رہ) یہ سوچتے کہ میں اکیلا ہوں اور میرے پاس وسائل موجود نہیں ہیں، تو کچھ بھی نہ ہو پاتا، امام خمینی (رہ) نے حوزہ علمیہ قم سے تحریک کا آغاز کیا۔ اس موقع پر مدرسہ فیضیہ پر حملہ ہوا، مراجع کی توہین کی گئی، آیت اللہ گلپائیگانی اسی مجلس میں تھے، اگر رک جاتے تو بات ختم ہو جاتی، لیکن امام نے اس واقعہ کو بنیاد قرار دیا اور اسے عاشورا سے متصل کیا۔
عاشورا کے دن امام خمینی (رہ) نے خطاب کیا تو انہیں زندان میں ڈال دیا گیا۔ ملک میں ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا، امام رہا ہوگئے، اب امام نے اپنے خطاب میں شہنشاہ سے آگے بڑھتے ہوئے امریکا کو للکارا، امام خمینی (رہ) تنہا ڈٹ گئے، لیکن امام تنہا نہ تھے ، امام راحل نے افراد کی تربیت کی تھی۔ امام خمینی (رہ) نے پیغام دیا کہ مدرسہ فیضیہ کے سانحہ کو ہائی لائٹ کیا جائے، اس موقع پر لوگوں کو زندانوں میں ڈالا گیا۔ امام خمینی (رہ) کو نجف بھیج دیا گیا، ملک بدر کر دیا گیا۔ شہنشاہ سمجھا تھا کہ امام خمینی (رہ) اور مراجع نجف کے درمیان اختلافات پیدا ہوں گے اور امام کی تحریک ختم ہو جائے گی۔ امام نے ملک بدری سے استفادہ کیا اور نجف سے علماء کو پیغام بھیجتے رہے۔ حکومت اسلامی کے موضوع پر امام خمینی (رہ) نے نجف میں درس شروع کیا۔ اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا، دشمن امام کے پیغام کو محدود کرنا چاہتا تھا، لیکن امام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچنے لگا۔
رپورٹ: این ایچ نقوی











