اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سولہ فروری کو آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مختلف طبقوں کے شہدا کی یاد میں پروگرام منعقدکرنے والی کمیٹیوں کے ارکان نے رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے ایک اہم خطاب فرمایا تھا جسے جمعرات کو میلاد ٹاور میں تربیتی امور کے محکمے کے شہدا کی یاد میں منعقد کئے گئے پروگرام میں پڑھ کرسنایا گيا۔ رہبرانقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے اس خطاب میں آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران دانشوروں اور اہل علم حضرات کی موثر موجودگی کو معاشرے کے مختلف طبقوں میں اللہ کی راہ میں فداکاری اور شہادت کے جذبے کے موجزن ہونےکی علامت قراردیا اور فرمایا کہ شہدا کی یاد اور ان کے عظیم کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہئے اور اس بات کی اجازت نہيں دینی چاہئے کہ شہیدوں کی عظیم قربانیوں اور فدکاریوں کو فراموش کردیا جائے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایاکہ شہیدوں کي یاد میں پروگرام کا انعقاد درحقیقت شہادت اور جہاد کے راستے کو جاری رکھنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ معاشرے میں شہدا کی یاد اور ان کی زندگی کے اہم نکات کو روز بروز عام کرنے کی ضرورت ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اسلام، قرآن اور اسلامی تعلیمات کو زندہ و جاوید بنادینے کے تعلق سے فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور شہادت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایاکہ اگرکسی معاشرے میں شہدا کی یاد اور شہادت کاموضوع ایک حقیقت کے طور یاد کیا جاتا رہے تو پھر اس کےلئے شکست کا کوئی مفہوم نہيں ہوگا اور وہ قوم بلاخوف وخطر اپنی ترقی و پیشرفت کے راستے پرقدم بڑھاتی رہے گی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایرانی عوام کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے دنیا کی دوحصوں یعنی تسلط پسند اور تسلط پذیر ملکوں میں تقسیم بندی کو مسترد کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ آج تسلط پسند طاقتوں نے اپنے بے شمار ہتھکنڈوں کے ذریعےدنیا کی مظلوم اور کمزور قوموں پر اپنا تسلط زیادہ سے زیادہ جمانے کے مواقع پیدا کر لئے ہیں لیکن اس صورتحال کے مقابلے میں اسلامی انقلاب کے نام کا ایک تشخص الہی اور اخلاقی بنیادوں پر تکیہ کرکے ان کے سامنے سر اونچا کئے ہوئے ہے اور بہادری کے ساتھ تسلط پسندانہ نظام کے مقابلے ميں ڈٹا ہوا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے ترقی و کمال کے راستے پر اسلامی انقلاب کے مسلسل گامزن رہنے اور اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں دشمنوں کی ناکامی کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران یہ تصور کرتے تھےکہ محاذ جنگ پر یونیورسٹیوں کے طلبا کے جانے سے یونیورسٹیاں خالی ہوجائيں گي اور ملک کی علمی پیشرفت میں خلا واقع ہوجائےگا لیکن یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور شہادت کی برکتیں بے شمار ہيں اور اس دور کے جذبہ شہادت و جہاد کی بدولت ہی آج ایران علمی و سائنسی میدان میں قابل فخرمقام پر کھڑا ہے اور یہ شعبہ ملک کے دیگر شعبوں میں ممتاز نظر آرہا ہے۔
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com
پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com











