• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

آیت اللہ مکارم شیرازی کا مسجد الحرام کے امام کی ہرزہ سرائیوں پر شدید رد عمل

30 فروردین, 1394
در موجودہ پروگرام
0

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے مسجد الحرام کے امام کی شیعوں کے خلاف ہرزہ سرائیوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسجد الحرام کے امام کی ہزرہ سرائیاں ایسے حال میں سامنے آئیں ہیں کہ چند ہفتہ قبل اس ملک میں تکفیریت کے خلاف اجلاس کا انعقاد کیا گیا جبکہ اب تکفیریت کے خلاف اجلاس کرانے والے خود تکفیریت کے طوفان میں بہتے ہوئے اس جنگ کو شیعہ سنی جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔
انہوں نے  سعودی مفتیوں کو مخاطب کر کے کہا: تم لوگ اسلام کے مرکز سے مسلمانوں کے ایک عظیم فرقے پر کفر کا فتویٰ لگا رہے ہو جبکہ خود تمہارے فرقے کی پوری دنیا میں دجھیاں اڑ رہی ہیں۔
انہوں نے تکفیریت کی شرمناک کارستانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ داعش، النصرہ، القاعدہ اور اس طرح کے دیگر تکفیری ٹولوں کے وجود پانے سے پوری دنیا جان چکی ہے کہ عقل، منطق، قرآن اور اسلام سے کوسوں دور کون ہے اور ان سے قریب بلکہ عقل و منطق اور قرآن و اسلام کے عین مطابق کون سا فرقہ ہے۔
شیعوں کے مرجع تقلید نے کہا: تم نے اسلامی ممالک پر ظلم کی انتہا کر دی اس کے بعد بھی خود کو مسلمان کہتے ہو! تم نے یمن میں کیا کیا؟ ایران، یمنی اور دنیا کے تمام شیعہ یہی تو کہتے ہیں کہ یمن کے مسائل کو سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے خود لوگوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے اس ملک کے شہریوں کو ان کے حقوق دئے جائیں لیکن تم ان پر بموں کی بارش کر رہے ہو۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا: تم نے شام میں مسلمانوں کو اجاڑنے کی کوشش کی اب یمن کو ویران کرنے کی کوشش میں لگے ہو اس کے بعد ایران پر تہمت لگاتے ہو اور کہتے ہو قصوروار ایران ہے! قصوروار وہ ہیں جو لوگوں کے حقوق پامال کرتے ہیں نہ وہ جو انہیں حقوق دلاتے ہیں۔
انہوں نے کہا: کیا عراقیوں، یمنیوں اور شامیوں کو اپنا دفاع کرنے کا حق نہیں ہے؟ آج یمنی کہتے ہیں کہ ہم تیار ہیں مل کر بیٹھیں اور نئی حکومت بنانے کے لیے مذاکرات کریں لیکن تمہارا مفتی اعظم فتویٰ دیتا ہے کہ یمن پر حملہ کرنا اور مسلمانوں کا قتل کرنا شرعی حکم ہے کون سی شریعت؟ کون سا دین؟
آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا: ہم سب کو بھلائی اور نیکی کی طرف دعوت دیتے ہیں ہمارا بار بار یہی کہنا ہے کہ تکفیریت سے پرہیز کریں اور مسلمانوں کی صف میں شامل ہو جائیں ہم مسلمانوں کو دوست رکھتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں عالم اسلام کی مشکلات دور ہونے کے لیے دعا کی اور امید ظاہر کی کہ خداوند عالم امت مسلمہ کو بیدار کرے اور اسے شیاطین کے شر سے نجات دلائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

Ayatollah Javadi Amoli: Saudi regime not qualified as ‘custodian of Harems’

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.