• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

شب قدر کو کیوں مخفی رکھا گیا؟

17 تیر, 1394
در موجودہ پروگرام
0

بقلم: سید افتخار علی جعفری

شب ہائے قدر کے ایام میں یہ سوال ہر انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے شب قدر کو کیوں مخفی رکھا ہے؟ جب شب قدر کی اتنی فضیلت ہے اس میں عبادت کا اتنا ثواب ہے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ خداوند عالم ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے معین کر دیتا تاکہ لوگ اس میں پورے اطمینان و سکون کے ساتھ اس کی عبادت اور بندگی بجا لاتے اور ہزار مہینوں کا ثواب ایک شب میں آسانی سے حاصل کر لیتے؟
عبادتیں اللہ کی رحمت اور اس کے فیض کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ انسان عبادت اور بندگی کے ذریعے اس بات کا مستحق بنتا ہے کہ خداوند عالم اس کو اجر و ثواب عنایت کرے۔
خداوند عالم تمام صفات کمالیہ کا حقیقی مالک ہے اور انہیں صفات کمالیہ کی بنا پر اس کا فیض عالم ہستی پر جاری و ساری ہے۔ خداوند رحیم کی ایک صفت رحمت ہے چونکہ خداوند عالم کی ہر صفت ایک خاص سبب کی وجہ سے بندوں تک پہنچتی ہے اسی بنا پر اس کی رحمت بھی خاص راستوں سے اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کو حاصل ہوتی ہے۔
شب قدر اللہ کی رحمت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ اس شب خداوند عالم اپنی رحمت کو بندوں پر جاری و ساری کر دیتا ہے جیسا کہ بعض دوسرے اوقات بھی اس کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہیں جیسے خود ماہ رمضان، ایام عید یا وہ ایام جن میں اللہ کے خاص بندوں کی ولادتیں ہوئی ہیں اللہ کی رحمت انسانوں کے شامل حال ہوتی ہیں۔
لہذا خداوند عالم نے اپنی مصحلت اور حکمت کی بنا پر سال میں ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے قرار دیا ہے تاکہ اس شب اس کے بندے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کریں اور مشمول رحمت قرار پائیں۔
لیکن شب قدر کون سی شب ہے؟ ماہ رمضان کی راتوں میں سے کون سی رات ہے؟ آیا ماہ رمضان کی پہلی رات ہے، سترھویں رات ہے، انیسویں رات، اکیسویں رات، تیئسویں رات، ستائیویں رات یا انتیسویں رات ہے؟ اللہ نے اسے معین نہیں کیا۔
لیکن روایات میں مشہور و معروف یہ ہے کہ ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے اکیسویں یا تیئسویں رات ہے ۔ اسی لیے ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ مبارک کی آخری دس راتوں میں تمام راتوں کا احیاء فرماتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔
ایک روایت میں امام جعفر صاق علیہ السلام سے آیا ہے کہ شب قدر اکیسویں یا تیئسویں رات ہے، یہاں تک کہ جب راوی نے اصرار کیا کہ ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات ہے اور یہ کہا کہ اگر میں ان دونوں راتوں میں عبادت نہ کر سکوں تو پھر کون سی رات کا انتخاب کروں“۔ تو بھی امام  نے تعین نہ فرمایا اور مزید کہا: ”ماالیسر لیلتین فیما تطلب“اس چیز کے لیے جسے تو چاہتا ہے دو راتیں کس قدرآسان ہیں ؟
لیکن متعدد روایات میں جو اہل بیت(ع) کے طریقہ سے پہنچی ہیں زیادہ تر تیئسویں رات پر تکیہ ہوا ہے ۔ جب کہ اہل سنت کی زیادہ تر روایات ستائیسویں رات کے گرد گردش کرتی ہیں ۔
ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپ  نے فرمایا:
”التقدیر فی لیلة القدر تسعة عشر، و الابرام فی لیلة احدی و عشرین، و الامضاء فی لیلة ثلاث و عشرین“۔
”تقدیر مقدرات تو انیسوں کی شب کو ہوتی ہے، اور ان کا حکم اکیسویں رات کو، اور ان کی تصدیق اور منظوری تیئسویں رات کو ملتی ہے۔
لیکن بہر کیف شب قدر کا کسی ایک شب میں تعین نہیں ہوا۔
بہت سے علماء کا نظر یہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں شب قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں ۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کو مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کررکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رخ کریں ۔ اور اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پر ہیز کریں اور دعاوٴں کی قبولیت کو مختلف دعاوٴں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دعاوٴں کی طرف رخ کریں۔ اسم اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ و تیار رہیں۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے ۔
 شیخ عباس قمی فرماتے ہیں کہ ائمہ اطہار نے جو شب قدر کو معین نہیں کیا اس کا ایک راز یہ ہے کہ مومنین ماہ مبارک رمضان کی راتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اور کم سے کم ان تین راتوں کو شب بیداری کریں اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر اللہ ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے معین کر دیتا تو اللہ کی رحمت صرف اسی شب نازل ہوتی اور جو لوگ کسی وجہ سے اس شب کا ادراک نہ کر پاتے وہ اس شب کی مخصوص رحمت سے ایک سال تک کے لیے محروم ہو جاتے۔ لہذا اللہ نے ایک شب کو معین نہ کر کے اپنے بندوں پر احسان اور لطف کیا ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کی رحمت اتنی وسیع و عریض ہے کہ اگر اس کے بندے تینوں شب اس کی بارگاہ میں محو عبادت ہوں گے تو اس کی رحمت تینوں شب اس کے بندوں کے شامل حال ہو گی جبکہ اگر اس نے ایک شب کو معین کیا ہوتا تو صرف ایک ہی شب رحمت الہی سے فیضیاب ہو پاتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

احياى شب قدر

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.