• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

بہترين عبادت کيا ہے؟

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

سب سے اچھي عبادت وہ عبادت ہے جو خالص طور پر خدا کے ليے کي جاتي ہے اور اس ميں کوئي چيز اور شخص کي طرف چيز حتي کہ اپنے آپ کي طرف بھي توجہ نہ ہو- علامہ طباطبائي فرماتے ہيں:” عبادت اس وقت حقيقي عبادت ہے جب عبادت کرنے والا بس ايک واحد ذات کي عبادت کرے اور اس کي عبادت ميں پاکي ہو- “

عبادت اس وقت پوري اور کامل ہوجاتي ہے جب انسان خدا کے سواء کسي بھي اور کے ساتھ منسلک نہ ہو اور اس کے اعمال ميں بھي خدا کے ليے کوئي شريک نہ ہو اور عبادت کرنے وقت اس کا دل اور سوچ کہيں اور نہ ہو اور اس کے دل ميں کسي اور کا ڈر اور اميد نہ ہو- وہ عبادت ٹھيک نہيں جو بہشت کي اميد اور دوزخ کے ڈر کي وجہ سے کي جائے- اگر عبادت ميں يہ سب چيزيں ہو تو ہم کہہ سکتے ہيں کہ وہ عبادت خدا کے ليے ہے- اگر کوئي انسان بہشت تک پہنچنے اور دوزخ سے بچنے کے ليے عبادت کر لے تو اس نے بس اپنے آپ کي عبادت کي ہے خدا کي نہيں – (ترجمہ تفسيرالميزان، ج1، ص42)

کچھ لوگوں کا خيال ہے عبادت بس نماز پڑھنا اور دعا اور ذکر کرنا ہے اور کچھ لوگوں نے اپني نظموں ميں بھي ايسا کہا ہے کہ: “عبادت بس لوگوں کي خدمت کرنا ہے-” ان دو خيالوں ميں افراط اور تفريط موجود ہے- ايسے انتہا پسند خيالات ہميشہ اور ہر جگہ موجود ہوتے ہيں- کوئي امام کي شناخت (پہچان) ميں افراط کرتا ہے تو کوئي امام کو ايک عام آدمي مانتا ہے- انبياء کا ايک اہم فرض ايسے افراط اور تفريط کي روک تھام کرنا تھا- اسلام ميں جس کام ميں اللہ ہو اور اللہ کے ليے کيے جانے والے کام کو عبادت کہا جاتا ہے حتي کہ خواہ وہ معماري اور مزدوري ہو، جيسا کہ حضرت ابراہيم اور اسماعيل نے خانۂ کعبہ کي تعمير کے بعد خدا سے يہ درخواست کي کہ ان کي مزدوري کو قبول کر لے- «و اذ يرفع ابراهيم القواعد من البيت و اسماعيل ربّنا تقبّل منّا» (بقره، 127)

ہمارے خيال ميں نماز اور روزہ عبادت ہے ليکن قرآن کي نظر ميں عمارت کي تعمير اور مزدوري بھي خدا کے ليے عبادت مانا جاتا ہے- (جاري ہے)

 

ترجمہ : مہدیہ نژادشیخ

پشکش : شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

سلفیّہ كسے كھتے ھیں؟

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.