• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

سلفیّہ كسے كھتے ھیں؟

20 مرداد, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0
سلفیہ دراصل چوتھی صدی ہجری میں منظرعام پر آنے والے حنبلی مذھب کے ماننے والوں کے ایک گروہ کا نام تھا جو اپنے عقائد میں ” احمد حنبل ” کے پیروکار تھے اور خود کو ” احمد حنبل ” سے نسبت دیتے تھے ۔ لیکن بعض حنبلی علماء نے اس نسبت پر اعتراض بھی کیا ۔

اس زمانے میں دو فرقے وجود میں آ گۓ ۔ ایک کا نام ” سلفی ” اور دوسرا ” اشاعرہ ” تھا ۔ ان دونوں کے درمیان تناؤ پایا جاتا تھا اور دونوں ہی مذھب سلف صالح کی دعوت دیتے تھے ۔

ان دونوں کے عقائد ایک دوسرے سے مختلف تھے ۔ سلفیہ ، فرقہ معتزلہ کے طریقہ عمل کا مخالف تھا کیونکہ معتزلہ کے اسلامی عقائد یونانی منطق سے متاثر فلاسفہ کے طریقوں پر تھے اور سلفیہ اس بات کے حامی تھی کہ اسلامی عقائد کو اسی طریقے سے بیان کیا جانا چاہیۓ جو صحابہ کرام اور تابعین کے زمانے میں رائج تھے ۔ یعنی اسلامی مسائل کو قرآن و حدیث کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیۓ اور قرآن سے باہر کسی بھی دلائل پر غور نہیں کیا جانا چاہیۓ ۔

سلفیہ ، اسلام میں پاۓ جانےوالے جدید عقلی اور منطقی طریقوں پر یقین نہیں رکھتے تھے کیونکہ یہ صحابہ کرام کے زمانے میں رائج نہیں تھے اور یوں وہ صرف قرآن و حدیث کی نصوص اور اس سے سمجھی جانے والی دلیلوں پر ہی یقین رکھتے تھے ۔

ان كا ماننا یہ تھا كہ ھمیں اسلامی اعتقادات اور دینی احكام میں چاھے وہ اجمالی هوں یا تفصیلی، چاھے وہ بعنوان اعتقادات هوں یا بعنوان استدلال قرآن كریم اور اس سنت نبوی جو قرآنی هو اور وہ سیرت جو قرآن وسنت كی روشنی میں هو؛ كے علاوہ كوئی دوسرا طریقہ اختیار نھیں كرنا چاہئے۔

سلفیہ دوسرے فرقوں كی طرح توحید كو اسلام كی پہلی اصل مانتے تھے، لیكن بعض امور كو توحید كے منافی جانتے تھے جن كو دوسرے اسلامی فرقے قبول كرتے تھے، مثلاً كسی مخلوق كے ذریعہ خدا كی بارگاہ میں توسل كرنا یا اس كو وسیلہ قراردینا، حضرت پیغمبر اكرم كے روضہٴ مبارك كی طرف منہ كركے زیارت كرنا، اور روضہٴ اقدس كے قرب وجوار میں شعائر (دینی امور) كو انجام دینا، یا كسی نبی اللہ یا اولیاء اللہ كی قبر پر خدا كو پكارنا ؛ وغیرہ جیسے امور كو توحید كے مخالف سمجھتے تھے، اور یہ اعتقاد ركھتے تھے كہ یہ امور(مذكورہ امور كو توحید كے مخالف سمجھنا) سلف صالح كا مذھب ھے اور اس كے علاوہ تمام چیزیں بدعت ھیں جو توحید كے مخالف اور منافی ھیں ۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

حفظ قرآن کے فوائد

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.