• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home ثقافتی اور سائنسی خبریں

منتظَر ہونا

3 شهریور, 1393
در ثقافتی اور سائنسی خبریں
0

اگر وصایت پیغمبر (ص) اور جانشینی رسول (ص) کے لئے کوئی معیار غدیر کے بعد بھی طے نہ ہو پایا تھا تو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے لئے بیان کی گئی احادیث رسول صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کافی ہیں اس بات کے تعین میں کہ قیادت امت ، امارت مومنین اور امام الناس ہونے کے لئے ۔ ابن زہرا سلام اللہ علیہا ہونا، اہلبیت (ع) میں سے ہونا ،منیت رسول (ص) پر فائز ہونا، رجل ہونا، عترت میں کا فرد ہونا امر لازم ہے۔ اگر آخری نائب اور خلیفہ راشد اور وصی الرسول صلّیٰ اللّٰہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم ان شرائط کے بغیر ممکن نہیں ہے تو پہلا کیسے ممکن ہو گا۔

اور حدیث ِ ”علیکم بسنتی وسنۃ الخلافاء الراشدین المھدیین من بعدی” (کتاب مذکور۔ ص۸۲ ) کا اطلاق اگر بارہ (۱۲) کی تعداد پر ہوتا ہے جیسا کہ کتاب مذکور ص ۱۷۸ ”یکون اثناء عشر خلیفۃً کلھم من قریش” تو یہ بارہ یا تو ایک جیسے ہونگے یا ایک دوسرے سے مختلف ہونگے اگر ایک دوسرے سے متفاوت ہیں تو تضاد عمل وفکر کے نتیجے میں کون عوام پر حجت ہو گا، کون نہیں ۔؟ اور اگر ایک ہیں یعنی ایک جیسے ہیں تو پھر جو گزر گئے انہیں بھی مہدی (ع) جیسا ہی ہونا چاہئے۔ جبکہ امت کی مانی ہوئی بارہ کی فہرست کے مطابق ایسا نہیں تھا۔

اس کتاب کا دوسرا باب بھی ایک دلچسپ عنوان لئے ہوئے ہے۔

اس میں دو شبھات رفع کئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک ہی رائے سے نمودار ہوئے ہیں۔

وہ رائے یہ ہے:

”قرآن میں مہدی (عج) کے لئے کوئی اشارہ نہیں وارد ہوا اور اسمیں قرآن کے علاوہ کچھ حجۃ نہیں”

مزے کی بات یہ ہے کہ مصنف نے یہ رائے رکھنے والے گروہ کو ” قرآنین ” کے نام سے یاد کیا ہے اور اسے ”الفرقہ الضالۃ” گردانا ہے۔ اور اس رائے کے دوسرے حصہ پر خاصی لے دے کی ہے۔

ان دو لفظوں کے نقل کرنے کے بعد اس دعوے کی رد میں مصنف کے تفصیلی جواب کے نقل کی چنداں حاجت نہیں رہ جاتی۔

اس پر ہم کسی اور مضمون میں انشاء اللہ بات کریں گے۔ مگر یہ نقل کردیں کہ

مصنف نے قرآن میں ذکر مھدی عجل اللہ فرجہ شریف کی بابت دو آیات کا بیان کیا ہے۔

۱۔ ( لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الآخرۃ عذاب عظیم) البقرہ/۱۱۴

”اما خزی لھم فی الدنیا ۔قیام المھدی (عج)”

۲۔وقال الشیخ سید الشبلنجی فی ((نور البصار)) قال مقاتل بن سلیمان ،و من تابعہ من المفسرین ، فی تفسیر قولہ ۔تعالیٰ۔ ( وانہ لعلم للساعۃ ) [الزخرف ۔۔۶۱] ، ((قال ھو المھدی (ع ) یکون فی آخر الزمان ،و بعد خروجہ تکون امارات الساعۃ وقیامھا )) ۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

ثقافتی اور سائنسی خبریں

حدیث غدیر پر علمائے اہلسنت کے اعتراضات اور ان کے جوابات

12 مهر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

شیخ الازہر کے نام آیت اللہ مکارم شیرازی کا اہم خط

14 مرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

نماز عید فطر، ولی امر مسلمین کی اقتداء میں ادا کی جائے گی

25 تیر, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

ماہ رمضان کے پہلے روز رہبر انقلاب کی موجودگی میں محفل انس با قرآن+ تصاویر

30 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام اور ان کے القاب

3 خرداد, 1394
ثقافتی اور سائنسی خبریں

3 شعبان: فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ سلام کا یوم ولادت مبارک ہو

2 خرداد, 1394
نوشته‌ی بعدی

حج کا نعرہ

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.