• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

جذبہ شہادت سے سرشارقوم ناقابل شکست ہوتی ہے

9 اسفند, 1393
در موجودہ پروگرام
0

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سولہ فروری کو آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مختلف طبقوں کے شہدا کی یاد میں پروگرام منعقدکرنے والی کمیٹیوں کے ارکان نے رہبرانقلاب اسلامی سے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے ایک اہم خطاب فرمایا تھا جسے جمعرات کو میلاد ٹاور میں تربیتی امور کے محکمے کے شہدا کی یاد میں منعقد کئے گئے پروگرام میں پڑھ کرسنایا گيا۔ رہبرانقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے اس خطاب میں آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران دانشوروں اور اہل علم حضرات کی موثر موجودگی کو معاشرے کے مختلف طبقوں میں اللہ کی راہ میں فداکاری اور شہادت کے جذبے کے موجزن  ہونےکی علامت قراردیا اور فرمایا کہ شہدا کی یاد اور ان کے عظیم کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہئے اور اس بات کی اجازت نہيں دینی چاہئے کہ شہیدوں کی عظیم قربانیوں اور فدکاریوں کو فراموش کردیا جائے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایاکہ شہیدوں کي یاد میں پروگرام کا انعقاد درحقیقت شہادت اور جہاد کے راستے کو جاری رکھنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ معاشرے میں شہدا کی یاد اور ان کی زندگی کے اہم نکات کو روز بروز عام کرنے کی ضرورت ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے اسلام، قرآن اور اسلامی تعلیمات کو زندہ و جاوید بنادینے کے تعلق سے فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی بے مثال قربانی اور شہادت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایاکہ اگرکسی معاشرے میں شہدا کی یاد اور شہادت کاموضوع ایک حقیقت کے طور یاد کیا جاتا رہے تو پھر اس کےلئے شکست کا کوئی مفہوم نہيں ہوگا اور وہ قوم بلاخوف وخطر اپنی ترقی و پیشرفت کے راستے پرقدم بڑھاتی رہے گی۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایرانی عوام کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے دنیا کی دوحصوں یعنی تسلط پسند اور تسلط پذیر ملکوں میں تقسیم بندی کو مسترد کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگرچہ آج تسلط پسند طاقتوں نے اپنے بے شمار ہتھکنڈوں کے ذریعےدنیا کی مظلوم اور کمزور قوموں پر اپنا تسلط زیادہ سے زیادہ جمانے کے مواقع پیدا کر لئے ہیں لیکن اس صورتحال کے مقابلے میں اسلامی انقلاب کے نام کا ایک تشخص الہی اور اخلاقی بنیادوں پر تکیہ کرکے ان کے سامنے سر اونچا کئے ہوئے ہے اور بہادری کے ساتھ تسلط پسندانہ نظام کے مقابلے ميں ڈٹا ہوا ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے ترقی و کمال کے راستے پر اسلامی انقلاب کے مسلسل گامزن رہنے اور اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں دشمنوں کی ناکامی کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران یہ تصور کرتے تھےکہ محاذ جنگ پر یونیورسٹیوں کے طلبا کے جانے سے یونیورسٹیاں خالی ہوجائيں گي اور ملک کی علمی پیشرفت میں خلا واقع ہوجائےگا لیکن یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور شہادت کی برکتیں بے شمار ہيں اور اس دور کے جذبہ شہادت و جہاد کی بدولت ہی آج ایران علمی و سائنسی میدان میں قابل فخرمقام پر کھڑا ہے اور یہ شعبہ ملک کے دیگر شعبوں میں ممتاز نظر آرہا ہے۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

جدول ترجمه قرآن کریم

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.