اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی ‘حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای’ کی صدارت میں ماہ مبارک رمضان کے پہلے روز میں تین گھنٹے سے زائد محفل انس با قرآن اور قرائت منعقد ہوئی.
رہبر انقلاب كے دفتر كي ويب سائٹ كے مطابق، يہ نوراني محفل قرآن مجيد كي معنويت اور عطر سے معطر تھي اس نوراني محفل ميں ملك بھر كے 15 حافظوں اور قاريوں نے قرآن مجيد كي آيات كي تلاوت كا شرف حاصل كيا اور گروپ كي شكل ميں بھي بعض گروہوں نے اللہ تعالي كي حمد و ثنا كو بيان كيا.
رہبر انقلاب نے اس تقريب ميں ايراني قراء كي روز افزوں پيشرفت كو مكمل طور پر واضح اور نماياں قرار ديا اور اچھي آواز كو قرآن كے معاني و مفاہيم كو مخاطبين كے ذہن ميں منتقل كرنے كا مقدمہ قرارديتے ہوئے فرمايا كہ: معاشرے ميں قرآن مجيد كو زيادہ سے زيادہ مؤثر بنانے كي راہيں بہت زيادہ ہيں اور قرآن مجيد كي قرائت كے مؤثر ہونے كے لئے ضروري ہے كہ خود قاري بھي جن آيات كي تلاوت كا شرف حاصل كررہا ہے ان كے معاني اور مفاہيم پر دل كي گہرائي كے ساتھ يقين ركھتا ہو.
رہبر انقلاب نے اسي سلسلے ميں فرمايا كہ: قرآن مجيد كے مفاہيم كو منتقل كرنے كے لئے قاري، قرآن مجيد كے بعض كلمات پر چند بار تاكيد كرسكتے ہيں.
رہبر انقلاب نے آيات كے چند بار تاكيد ميں افراط سے پرہيز كرنے پر تاكيد كرتے ہوئے فرمايا كہ: قرآن مجيد كي قرائت كے مؤثر ہونے كے لئے قرائت كے وقت لحن كے حدود كي رعايت بھي ضروري ہے.
رہبر انقلاب نے قرآن مجيد كے تمام دوستوں اور قاريوں كو ايك اور سفارش كرتے ہوئے فرمايا كہ: بعض كلمات اور آيات كو طولاني ادا كرنا ضروري نہيں ہے اور اس كے ساتھ حد سے زيادہ اور عرف سے خارج تشويق كي بھي كوئي ضرورت نہيں ہے.



























































































۔











