• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

اعمال كے مجسم ہونے اور اس كي حقيقت كے سلسلے ميں وضاحت

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

انسان جتنا عالم نور سے ارتباط بڑھاتا چلاجاتا ہے اتنا ہي پردے اٹھتے چلے جاتے ہيں – اور اپنے اعمال، كردار، عقيدے اور رفتار كو اچھي صورتوں ميں ديكھتا ہے – اور خود كو منزل معراج پر پاتا ہے، ان مذكور مطالب سے دو حقيقت معلوم ہوتي ہے-

1. انسان كے اعمال اصلي اور حقيقي شمائل ميں پائے جاتے ہيں اور يہي انسان كي روح (جو حقيقي ہے) جسم مادي سے قطع تعلق كركے عالم برزخ ميں پہونچتي ہے اور جو كچھ اس كے نظام اور قوانين ہيں روح متحمل ہوتي ہے – انسان كے اعمال اسي كے قانون كے لحاظ سے مشكل و شمائل ميں رونما ہوں گے – يعني ہر عمل كي برزخي صورت انسان كي روح كے مطابق اور اسي كي ديگر خصوصيات كے ساتھ ظاہر ہوگي –

ہر عمل نيك كي برزخي صورت اسي كے موافق اور اچھي آئے گي اسي كے برعكس جتنا برا عمل ہوگا برزخي صورت اتني ہي بري اور انسان كے عادات كے مطابق ہوگي – مثال كے طور پر اگر كوئي انسان بدخلقي كے علاوہ رذيل بھي تھا تو اس كي برزخ ميں عمل كي صورت كئے كے مانند ہوگي يا كوئي انسان بدخلقي كے ساتھ شريف تھا تو اس كا برا فعل شير كي صورت ميں آئے گا – شہوات نفساني كے بھي مختلف العباد ہيں خصائل كے مختلف قسميں ہيں ان ميں كا ہر ايك عمل، كردار، رفتار اور عقيدے ( خواہ اچھے ہوں يا برے ) عالم برزخ ميں مختلف صورت و شكل ميں مجسم ہوگا يہ اس دنيا كے علاوہ ديگر عوالم يعني عالم تجرد، اسماء ميں بھي ہر عمل، عادت، رفتار اور عقيدے ان عوالم كے قوانين و دستورات كے مطابق مجسم ہوتے ہيں اور جتنا ان چيزوں سے دور ہوتا چلاجائے گااتنا ہي پردہ اٹھتا چلاجائے گا اور نظروں كے سامنے تصاوير آنے لگے گيں-

2. جہاں تك انسان كے سارے اخلاقي صفات، اعمال، كردار، اور اچھي رفتار كا مسئلہ ہے تو يہ حقيقت واقعيت (جو باطن ميں موجود ہے) سے قريب ہيں – يعني جس دن سے ہم نے اس دنيا ميں سخاوت كرنا شروع كرديا يہ پہلے بھي اچھي اور بہشت ميں جانے كے لئے ضامن ہے اسي كے مقابلہ ميں جس دن سے ہم نے برائي كرنا شروع كرديا جو روح كي بيماري كا نتيجہ ہے يہ چيز ہمارے ”‌ جہنم “ تك كھينچ لے جانے كے لئے كافي ہے – بعبارت ديگر –

انسان كا ہر عمل، كردار، اور رفتار كا سرا جنت كي طرف ہے يا جہنم كي طرف – كيونكہ ہر برائي كي جڑ جہنم ہے اور ہر اچھائي كي جڑ جنت ہے-

حضرت رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا :

جب ماہ شعبان كي پہلي تاريخ آتي ہے تو خداوند عالم جنت كے دروازے كھول ديتا ہے اور شجرہ طوبي جس كي پہلي شاخين اس دنيا ميں پھيلي ہوئي ہيں منادي ديتي ہيں كہ اے خدا كے بندو !ان شاخوں كو پكڑلو تا كہ جنت كے مستحق بن جاو – اسي طرح ايك اور ندا آتي ہے كہ درخت زقوم كي شاخوں كو نہ تھامنا (اور اس سے دور رہنا) ورنہ تمہيں جہنم ميں ڈھكيل ديں گے – پھر آنحضرت نے فرمايا :

قسم ہے اس ذات كي جس نے مجھے درجہ رسالت پر مبعوث كيا ہے –

در حقيقت اس روز برائي كرنا گويا درخت زقوم كي كسي ايك شاخ كو پكڑنا ہے پس وہ جہنم كي آگ ميں جلے گا اور اس كو اوندھے منھ اس ميں گراديا جائے گا –

بخدا قسم جس نے مجھے پيغمبر بنايا ہے كہ جس شخص نے واجبي نماز ميں تساہلي كي يا اس كو قضا كيا گويا اس نے درخت زقوم كي ايك شاخ كو پكڑليا ہے – جو فقير و غريب كي بد حالي كو ديكھنے كے بعد اس كي مدد نہ كرے گويا وہ ہلاك ہوا پھر ايك ايك برے اعمال كو بيان كيا پھر آسمان كي طرف سر اٹھاتو ہنس پڑے اور جب زمين كي طرف ديكھا تو چہرہ سرخ ہوگيا اس كے بعد اصحاب سے فرمايا –

اس ذات كي قسم جس نے مجھ (محمد) كو نبوت و رسالت پر فائز كيا ہے –

جب ميں نے شجرہ طوبي كي بلند ڈاليوں كو ديكھا تو ہر انسان كواپنے اپنے اعتبار سے اس كي كسي نہ كسي ڈالي كو پكڑا ہوا جو جنت كي طرف جارہے ہيں –

حتي زيد بن حارثہ كو شجرہ طوبي كي ساري ڈاليوں كو پكڑا ہوا ديكھا جس سے ہم خوش و مسرور ہوئے ليكن جب زمين كي طرف ديكھا تو خدا كي قسم جس نے مجھے نبي بناكر بھيجا ہے –

درخت زقوم كو بھيلاہو ديكھا كچھ اپني بد اعمالي كي بناء پر اس كي شاخوں كو تھامے ہوئے ہيں، جہنم ميں جارہے ہيں – حتي بعض منافقين كو بھي ديكھا جو درخت زقوم كي پوري شاخوں كو پكڑے ہوئے ہيں اور ان كو جہنم كے سب سے نچلے طبقے ميں ركھا گيا ہے جس سے بہت رنجيدہ ہو ا۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

سورہ یوسف ۔ع ۔ (43) ویں آیت کی تفسیر

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.