• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

حفظ قرآن کے فوائد

20 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

حفظ قرآن کا فلسفہ :

آغاز بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں قرآن کو تحریف اور مٹنے سے بچانے کے لئے آیات الٰھی کو حفظ کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا لیکن اب جبکہ قرآن کی نشر و اشاعت بھت زیادہ ھو گئی ھے ،حفظ قرآن کا فلسفہ کیا ھے ؟ اس کے جواب میں یھی کھا جاسکتا ھے کہ کلام الٰھی کو صرف تحریف اور مٹنے سے بچانے کے لئے حفظ نھیں کیا گیاتھا کہ جیسے ھی نشر و اشاعت زیادہ ھوجائے حفظ قرآن کی اھمیت بھی نہ رہ جا ئے اور حفظ کرنا لا حاصل ھو جائے۔ بلکہ اس کے بھت سے اسباب ھیں جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ھیں :

۱۔ تحریف سے حفاظت :

ابتدائے اسلام میں قرآن کی آیات پراکندہ صورت میں جانوروں کی کھال ، ھڈیوں ، اور ان کے دانتوں ، کھجور کے درخت کی لکڑیوں ، سفید پتھروں ، کاغذ اور کپڑوں پر لکھی جاتی تھیں کیونکہ ھمیشہ کلام الٰھی کے مٹنے یا اس میں تحریف ھونے کا احتمال پایا جاتا تھا ۔ ایسی صورت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو قرآن حفظ کرنے کی سفارش کی یھاں تک کہ آپ نے ایک گھر کو اسی کام کے لئے معین کر دیا تھا۔

۲۔ قرآن پر عمل :

قرآن مجید کو حفظ کرنے کے اھداف میں سے ایک ھدف اس کے مضمون پر عمل کرنا ھے ۔ جس وقت انسان کلام وحی کو حفظ کرتا ھے تو لاشعوری طور پر اس کی روح اس کے اثر کو قبول کرتی ھے اور وہ خدا کے احکام پر عمل کرنے میں اس کا سھارا لیتا ھے ۔

بھت سے حافظین قرآن کی جزا جو بعض روایات میں بیان کی گئی ھے اس طرح سے ھے ۔

وہ ھمیشہ آیات الٰھی کی تکرار کرتے رھتے ھیں اور اپنے گوشت و پوست کو اس سے مخلوط کر لیتے ھیں ایسی صورت میں بعید ھے کہ خدا ان کو سعادت و کمال کی طرف ھدایت نہ کرے ۔

آیات الٰھی پر عمل کرنا زمانہ قدیم سے حافظوں اور قاریوں کے مورد توجہ رھا ھے ۔

جیسا کہ عثمان اور عبد اللہ بن مسعود جیسے صحابیوں سے روایت ھے کہ وہ اگر دس آیتیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سیکھتے تھے تو اس وقت تک دوسری آیات نھیں سیکھتے تھے جب تک کہ ان آیتوں کو حفظ نھیں کر لیتے تھے اور ان پر عمل نھیں کر لیتے تھے ۔

۳۔ عبادت سے فیض یابی :

اسلام کے آئین میں آیات قرآن کو حفظ کرنا ایک اھم عبادت شمار کی جاتی ھے اور اس کا ثواب بھی ھے ۔ اکثر روایات جو حفظ قرآن کی ارزش و اھمیت کے بارے میں ذکر ھوئی ھیں آیتوں پر صرف ظاھری نگاہ نھیں رکھتی ھیں اور حفظ کو صرف تحریف سے بچنے والی عبادت شمار نھیں کرتی ھیں ۔ معصومین علیھم السلام کی نگاہ میں آیات الٰھی کا حفظ کرنا عبادت اور باعث ثواب ھے ۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں : اللھم فحبب الینا حسن تلاوتہ و حفظ آیاتہ ۔

پروردگار ا! تلاوت قرآن اورحفظ آیات کو ھمارے لئے محبوب فرما ! اس دعا سے معلوم ھوتا ھے کہ خود تلاوت قرآن اور حفظ قرآن حضرت کی نظر میں محبوب و پسندیدہ فعل ھے ۔

مرحوم طبرسی نے مکارم اخلاق میں “صلاة حفظ القرآن ” کے عنوان سے ایک باب تحریر فرمایا ھے جس سے معلوم ھوتا ھے کہ حفظ قرآن ذاتی طور پر مفید اور عبادتوں میں شمار کیا جاتا ھے ۔

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

اعمال كے مجسم ہونے اور اس كي حقيقت كے سلسلے ميں وضاحت

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.