• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

اگر شيعہ حق پر ہيں تو وہ اقليت ميں کيوں ہيں؟

22 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

اگر شيعہ حق پر ہيں تو وہ اقليت ميں کيوں ہيں؟ اور دنيا کے اکثر مسلمانوں نے ان کو کيوں نہيں ماناہے؟

کبھي بھي حق اور باطل کي شناخت ماننے والوں کي تعداد ميں کمي يا زيادتي کے ذريعہ نہيں ہوتي.آج اس دنيا ميں مسلمانوں کي تعداد اسلام قبول نہ کرنے والوں کي بہ نسبت ايک پنجم يا ايک ششم ہے جبکہ مشرق بعيد ميں رہنے والوں کي اکثريت ايسے لوگوں کي ہے جو بت اور گائے کي پوجا کرتے ہيں يا ماورائے طبيعت کا انکار کرتے ہيں.

چين جس کي آبادي ايک ارب سے بھي زيادہ ہے کيمونيزم کا مرکز ہے اور ہندوستان جس کي آبادي تقريباً ايک ارب ہے اسکي اکثريت ايسے افراد کي ہے جو گائے اور بتوں کي پوجا کرتي ہے اسي طرح يہ ضروري نہيں ہے کہ اکثريت ميں ہونا حقانيت کي علامت ہو قرآن مجيد نے اکثر و بيشتر اکثريت کي مذمت کي ہے اور بعض اوقات اقليت کي تعريف کي ہے اس سلسلے ميں ہم چند آيات کو بطور نمونہ پيش کرتے ہيں:

1- (وَلا تَجِدُ َکْثَرَہُمْ شَاکِرِين)

اور تم اکثريت کو شکر گزار نہ پاۆگے.

2-(ِنْ َوْلِيَاۆُہُ ِلاَّ الْمُتَّقُونَ وَلَکِنَّ َکْثَرَہُمْ لايَعْلَمُونَ)

اس کے ولي صرف متقي اور پرہيزگار افراد ہيں ليکن ان کي اکثريت اس سے بھي بے خبر ہے.

3- (وَقَلِيل مِنْ عِبَادِ الشَّکُورُ)

اور ہمارے بندوں ميں شکر گزار بندے بہت کم ہيں.

لہذا کبھي بھي حقيقت کے متلاشي انسان کو اپنے آئين کي پيروي کرنے والوں کو اقليت ميں ديکھ کر گھبرانا نہيں چاہيئے اور اسي طرح اگر وہ اکثريت ميں ہوجائيں تو فخر ومباہات نہيں کرنا چاہيئے بلکہ بہتر يہ ہے کہ ہر انسان اپناچراغ عقل روشن کرے اور اس کي روشني سے بہرہ مند ہو.

ايک شخص نے حضرت امير المومنين علي ـ کي خدمت ميں عرض کيا يہ کيسے ممکن ہے کہ جنگ جمل ميں آپ کے مخالفين اکثريت پر ہونے کے باوجود باطل پر ہوں؟

امام ـ نے فرمايا :

”اِنّ الحق والباطل لايعرفان باءقدارالرجال . اعرف الحق تعرف اءھلہ . اعرف الباطل تعرف اءھلہ- ”

حق اور باطل کي پہچان افراد کي تعداد سے نہيں کي جاتي بلکہ تم حق کو پہچان لو خود بخود اہل حق کو بھي پہچان لو گے اور باطل کو پہچان لوتو خودبخود اہل باطل کو بھي پہچان لوگے .

ايک مسلمان شخص کيلئے ضروري ہے کہ وہ اس مسئلے کو علمي اور منطقي طريقے سے حل کرے اور اس آيہء شريفہ (وَلاتَقْفُ مَا لَيْسَ لَکَ بِہِ عِلْم ) کو چراغ کي مانند اپنے لئے مشعل راہ قرار دے اس سے ہٹ کر اگر ديکھا جائے تو اگرچہ اہل تشيع تعداد ميں اہل سنت سے کم ہيں . ليکن اگر صحيح طور پر مردم شماري کي جائے تو يہ معلوم ہوجائے گا کہ دنيا بھر کے مسلمانوں ميں ايک چوتھائي افراد شيعہ ہيں جوکہ دنيا کے مختلف مسلمان نشين علاقوں ميں زندگي بسر کرر ہے ہيں.

واضح رہے کہ ہر دور ميںشيعوں کے بڑے بڑے علماء اور مشہور مولفين اور مصنفين رہے ہيںاور يہاں پريہ بھي واضح کردينا ضروري ہے کہ اکثر اسلامي علوم کے موجد اور باني شيعہ ہي تھے جن ميں سے چند يہ ہيں :

علم نحو کے موجد ابوالاسود دئلي

علم عروض کے باني خليل بن احمد

علم صرف کے موجد معاذ بن مسلم بن ابي سارہ کوفي

علم بلاغت کو فروغ دينے والوں ميں سے ايک ابوعبداللہ بن عمران کاتب خراساني

(مرزباني)

شيعہ علماء اور دانشوروں کي کثير تاليفات (جن کو شمار کرنا بہت دشوار کا م ہے) کي شناخت کے لئے کتاب (الذريعہ الي تصانيف الشيعہ) کا مطالعہ مفيد ثابت ہوگا.

بشکريہ الحسنين ڈاٹ کام

شعبہ تحرير و پيشکش تبيان

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

حج کا سياسي پھلو

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.