• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

حج کا سياسي پھلو

22 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

اسلام کے عظيم فقھاء ميں سے ايک بزرگ فقيہ کے فرمان کے مطابق جيسا کہ حج کے مراسم اور اعمال عميق اور خالص ترين عبادت کو پيش کرتے ھيں وہ ايسے ھي حج اسلامي اھداف و اغراض و مقاصد کي پيش رفت کے لئے ايک مؤثر وسيلہ بھي ھے خدا کي طرق توجہ اور روح عبادت ھے اور خدا کي مخلوق پر توجہ روح سياست ھے، اور حج کي يہ دونوں چيزيں ايک دوسرے سے اس طرح پيوستہ ھيں کہ ايک ھي چيز محسوس ھوتي ھے ۔

حج مسلما نوں کو متحد کرنے کا ايک مؤثر وسيلہ اور عمل ھے ۔ حج تعصبات، نسل پرستي و اختلافات اور جغرافيائي سرحدوں ميں محدود اور منحصر ھونے سے چھٹکارے کا بہترين ذريعہ ھے ۔ حج مسلمانوں کے درد و غم اور مشکلات سے آگاھي اور ان کے حل کي چارہ جوئي کے لئے بہترين ذريعہ ھے۔ حج رکاوٹ اور بندشوں کو توڑنے اور ظالمانہ نظا م کو ختم کرنے کا وسيلہ ھے، اس ظالمانہ نظام کو جو دنيا کي قدرتمند اور ظالم حکومتوں کي طرف سے اسلامي حکومتوں ميں رائج کيا گيا ھے ۔ حج اسلامي ممالک کي سياسي جڑوں کو ايک جگہ سے دوسري جگھوں پر پھونچانے کا بہترين وسيلہ ھے ۔

حج غلامي اور سامراجي زنجيروں کو توڑنے اور مسلمانوں کو غلامي ظالمانہ نظام سے نجات دلانے کا مؤثر وسيلہ ھے يھي وجہ تھي کہ اس زمانہ ميں جب بني اميہ اور بني عباس کے ظالم و جابر حکمراں، اسلام کي مقدس سرزمين پرقابض تھے اور مسلمانوں کے ھر طرح کے ميل جول کو تحت نظر رکھتے تھے تا کہ ھر آزادي کي تحريک کو کچل ديں اور اعتراض کي ھر آواز کو گلوںھي ميں گھونٹ ديں ايسے دردناک زمانہ ميں ايام حج کا آنا آزادي اوراسلامي معاشرے کے ايسے روابط اور مختلف سياسي مسائل کو ايک دوسرے کے سامنے پيش کرنے کے لئے ايک دريچہ کا کام ديتا تھا ۔

اس وجہ سے حضرت علي (ع) حج کے فلسفہ کے متعلق فرماتے ھيں ” اَلحَجُّ تَقوِيَةُ الدِّينِ‘ ‘ خداوند عالم نے حج کو دين کے لئے باعث تقويت بنايا ھے ،ايک غير مذھب اور مشھور سياست داں کا يہ کھنا بلاوجہ نھيں ھے کہ وہ اپني پُر معني گفتگوکے دوران کہتا ھے کہ افسوس ، مسلمانوں کے حال پر کہ اگر حج کے معني نہ سمجھيں اور افسوس اسي طرح مسلمان دشمنوں پر کہ اگر حج کے واقعي معني کو درک کريں?يھاں تک کہ اسلامي روايات ميں حج کو ضعيف اور کمزور افراد کے لئے جھاد کے نام سے يادکيا گيا ھے ، حج ايسا جھاد ھے کہ جس ميں بوڑھے ، ناتوان مرد اور کمزور عورتيں بھي شريک ھو کر اسلام کي عظمت و جلال کودنيا کے سامنے پيش کر سکتے ھيں، اور خانہ کعبہ کے اردگرد نمازيوں کي صفوں ميں کھڑے ھوکر وحدت و تکبير کي آواز بلند کرکے دشمن کي کمر توڑ سکتے ھيں اور دشمنوں کے ايوانوں ميں لرزہ پيدا کرسکتے ھيں ۔

حج اور خانہ کعبہ کا طواف شرک سے نفرت اور مشرکوں سے بيزاري کا بہترين موقع ھے اگرچہ ھر طرح کي عبادت شرک سے نفرت اور طاغوت سے بيزاري ھي کا نام ھے ، اسي طرح حج اور خانہ کعبہ کا طواف بھي نمازھي کے مثل ھے يا يہ کہ اسميں بھي نماز ھے ” اَلطَّوافُ بِالبَيتِ فَاِنَّ فِيہِ صَلاةٌ “

يہ روايت بھي اسي اصل اور بنياد کي حکايت کر رھي ھے ( يعني طاغوت سے بيزاري اور شرک سے نفرت ) چونکہ حج ايک مخصوص عبادت ھے جس ميں سياست کي بھي آميزش ھے اور دنيا کے مختلف طريقوں کا اس عبادت ميں حاضر ھونا ايک بہترين اور مناسب موقع ھے تاکہ الله کي دوسري عبادتوں کي طرح اس قابل ملاحظہ مجمع ميں روح عبادت بہتر طور پر جلوہ گر ھو اور اس خاص عبادت کا جوھر اپني پوري آب وتاب کے ساتھ چمکے لہذا فرمان الھي کے مطابق پيغمبر اسلام (ص) نے اسلامي حکومت کے نمايندے حضرت علي (ع) کو مشرکوں سے بيزاري کے اعلان پر مامور فرمايا تاکہ توحيد کي سرحد شرک و طاغوت کي سر حد سے مکمل اور قطعي طور پر جدا ھو جائے ، اور مسلمانوں کي صفيں کفار ومشرکين کي صفوں سے ممتاز اور عليحيدہ ھوجائيں اور اس طرح سے حج کاسياسي اور عبادي چھرہ جلوہ گر ھو اور بيت الله کے زائر اسلامي حکومت کايہ منشور سن کر جو شرک سے نفرت او رمشرکوں کے سامنے تسليم نہ ھونے پر مشتمل ھے اس پيام توحيد کو اس طرح ( جيسا کہ مسلمان اپني زندگي ميںبہت سے کاموں ميں کعبہ کي سمت متوجہ ھوئے ھيں ) ويسے ھي بيت اللہ کي برکت سے توحيد کا پيغام بھي دنيا کے مختلف گوشوں ميں پھيل جائے۔

”وَاَذَانُ مِنَ اللهِ وَ رَسُولِہِ اِلَي النَّاسِ يَومَ الحَجِّ الاَکبَرِ اِنَّ اللهَ بَريءٌ مِنَ المُشرِکِينَ وَ رَسُولُہُ فَاِن تُبتُم فَہُوَ خَيرٌ لَکُم وَ اِن تَوَلَّيتُم فَاعْلَمُوا اَنَّکُم غَيرُ مُعجِزِيِ الله“

اور حج اکبر کے دن ( جس دن سب حاجي مکہ ميں جمع ھوتے ھيں ) الله ورسول کي طرف سے يہ عام اعلان ھے کہ الله اور اس کا رسول (ص) دونوں مشرکوں سے بيزار ھيں ، لہذا اگرتم لوگ توبہ کروگے( اور اسلام لے آؤ گے ) تو تمھارے لئے دنيا اور آخرت دونوں ميںبہتر ھوگا اور اگر انحراف کيا تو ياد رکھنا کہ تم خدا کي قدرت پر غالب نھيں آسکتے ( بلکہ خدا اور رسول(ص) کي قدرت کے سامنے کمزور رھو گے)۔

قرآن کے اس حکم پر عمل کرتے ھوئے امام زمانہ(عج) کے نائب کبير سيد العلماء والعرفاء و سيد الفقھاء حضرت امام خميني (رہ) ( طاب ثراہ ) نے بپھرے ھوئے شير کے مانند حج کے زمانہ ميں مشرکوں سے بيزار ي کي آواز بلند کي ، اور تمام حاجيوں کومشرکوں سے بيزاري کے لئے دعوت دي ، يھاں پر ھم تبر کاً امام زمانہ(عج) کے نائب کے جامع پيغام اور منشور مقدس کي چند سرخياں پيش کرتے ھيں ۔

بشکريہ الحسنين ڈاٹ کام

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

قرآنِ کریم

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.