• خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
  • خانه
  • مقالات
  • گفتگو
  • دیدگاه
  • بازتاب
  • اخبار
    • اخبار ادیان و مذاهب
    • اخبار دین پژوهی
    • اخبار علمی فرهنگی
    • اخبار موسسه
  • تماس باما
  • درباره ما
Home موجودہ پروگرام

فلسفہ تیمم کیا ہے؟

22 مرداد, 1393
در موجودہ پروگرام
0

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مٹی پر ہاتھ مارنے اور ان کو پیشانی اور ہاتھوں پر ملنے سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟ خصوصاً جبکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اکثر مٹی گندی ہوتی ہے اور اس سے جراثیم منتقل ہوتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے:

الف: اخلاقی فائدہ: تیمم ایک عبادت ہے، اس میں حقیقی عبادت کی عکاسی پائی جاتی ہے، کیونکہ انسان حکم خدا کے پیش نظر اپنے شریف ترین عضو یعنی پیشانی پر مٹی بھرا ہاتھ پھیرتا ہے تاکہ خدا کے سامنے اپنی تواضع اور انکساری کا اظہار کر سکے، یعنی میری پیشانی اور میرے ہاتھ تیرے سامنے تواضع و انکساری کی آخری حد پر ہیں، اور پھر انسان نماز یا دوسری ان عبادتوں میں مشغول ہوجاتا ہے جن میں وضو یا غسل کی شرط ہوتی ہے، اس بنا پر انسان کے اندر تواضع و انکساری، بندگی اور شکر گزاری کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔

ب۔ حفظان صحت کا فائدہ: آج کل یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مٹی میں بہت سے جراثیم (Bacterias ) پائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ بہت سی گندگیاں دور ہوتی ہیں، یہ جراثیم جن کا کام آلودہ کرنے والے مواد کا تجزیہ اور طرح طرح کی بدبو کو ختم کرنا ہے زیادہ تر زمین کی سطح پر معمولی سی گہرائی میں جہاں سے ہوا اور سورج کی روشنی سے بخوبی فائدہ اٹھاسکیں، بکثرت پائے جاتے ہیں، اسی وجہ سے جب مردہ جانور کی لاشیں زمین میں دفن کردی جاتی ہیں اور اسی طرح دوسری چیزیں جو گندگی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں زمین پر پڑی ہوں تو کچھ عرصہ بعد ان کے بدن کے اجزا بکھر جاتے ہیں اور جراثیم کی وجہ سے وہ بدبو کا مرکز نیست و نابود ہوجاتا ہے، یہ طے ہے کہ اگر زمین میں یہ خاصیت نہ پائی جاتی تو کرہ زمین تھوڑی ہی مدت میں بدبو کے ڈھیروں میں بدل جاتا، اصولی طور پر مٹی اینٹی بیوٹک اثر رکھتی ہے، جو جراثیم مارنے کے لئے بہترین چیز ہے۔

اس بنا پر پاک مٹی نہ صرف آلودہ نہیں ہے بلکہ آلودگی کو ختم کرنے والی ہے، اور اس لحاظ سے ایک حد تک پانی کا کام کرسکتی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ پانی جراثیم کو بہالے جاتا ہے اور مٹی جراثیم کو مار ڈالتی ہے۔

لیکن توجہ رہے کہ تیمم کی مٹی مکمل طور پر پاک و صاف ہو جیسا کہ قرآن کریم نے بہترین لفظ استعمال کیا ہے: ”طیباً“

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کریم میں تیمم کے حوالے سے لفظ ”صعید“ استعمال ہوا ہے جو ”صعود“ سے لیا گیا ہے (جس کے معنی بلندی کے ہیں) جو اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ تیمم کے لئے زمین کی سطحی مٹی لی جائے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہو اور جس میں جراثیم کو مارنے والی بیکٹری پائی جاتی ہوں، اگر اس طرح کی پاک و پاکیزہ مٹی سے تیمم کیا جائے تو یہ تاثیر رکھتی ہے اور اس میں ذرا بھی نقصان نہیں ہے۔

وضو میں ہاتھوں کو کس طرح دھویا جائے نیز سر اور پیر کا مسح کس طرح کیا جائے؟

سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶ /میں روح کی پاکیزگی کے طریقہ کی طرف اشارہ ہوا ہے، اور روح کی پاکیزگی کے لئے احکام وضو، غسل اور تیمم بیان ہوئے ہیں، پہلے مومنین سے خطاب ہوا اور وضو کے احکام اس ترتیب سے بیان کئے:

< یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلاَةِ فَاغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَاٴَیْدِیَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُ وٴسِکُمْ وَاٴَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ>

”اے ایمان والو! جب بھی نماز کے لئے اٹھو تو پہلے اپنے چہروں کو اور کہنیوں تک اپنے ہاتھوں کو دھوؤ اور سر اور گٹوں تک پیروں کا مسح کرو“۔

اس آیہٴ شریفہ میں ہاتھوں کے دھلنے کی حد ”کہنی“ تک قرار دی گئی ہے کیونکہ قرآن مجید میں لفظ ”مرافق“ ہے جس کے معنی ”کہنیاں“ ہیں ،لیکن جب کسی انسان سے کہا جائے کہ ”اپنے ہاتھوں کو دھو لیجئے“ تو ممکن ہے کہ وہ شخص صرف کلائیوں تک ہاتھوں کو دھوئے، کیونکہ اکثر اوقات ہاتھوں کو یہیں تک دھویا جاتا ہے، لہٰذا اس غلطی کو دور کرنے کے لئے ارشاد ہوتا ہے کہنیوں تک دھوئیں: < إِلَی الْمَرَافِقِ>

اس تفصیل کی بنا پر یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ آیت میں لفظ ”الیٰ“ (یعنی کہنیوں تک) ہاتھوں کے دھونے کی حد کو بیان کرنے کے لئے ہے نہ ہاتھوں کو دھونے کی کیفیت کے لئے، جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے اور مذکورہ آیت کے اس طرح معنی کرتے ہیں:

ہاتھوں کو انگلیوں کے سرے سے کہنیوں تک دھوئیں، (جیسا کہ اہل سنت کے یہاں پایا جاتا ہے)

اس کی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ اگر آپ کسی پینٹر سے کہیں کہ ہماری دیوار کو فرش سے ایک میٹر تک رنگ کردیں،تو یہ بات واضح ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیوار پر نیچے سے اوپر کی طرف رنگ کیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس مقدار میں رنگ ہونا ہے نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔

اس بنا پر مذکورہ آیت میں ہاتھوں کے دھلنے کی مقدار معین کی گئی ہے، لیکن اس کی کیفیت سنت نبی (ص) میں اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ بیان ہوئی ہے ، کہ ہاتھوں کو کہنیوں سے انگلیوں کے سرے تک دھویا جائے۔

”بِرُءُ وسِکُمْ “ میں لفظ ”ب“ بعض اہل لغت اور بعض احادیث کی بنا پر ”بعض“ کے معنی میں آیا ہے یعنی سر کے ”بعض حصہ“ کا مسح کرو، جیسا کہ احادیث میں ملتا ہے کہ سر کے اگلے حصہ کا ہاتھ سے مسح کیا جائے ، لیکن جیسا کہ بعض اہل سنت کے یہاں رائج ہے کہ پورے سر کا مسح کرتے ہیں، یہ مذکورہ آیت کے مفہوم کے موافق نہیں ہے۔

”بِرُءُ وسِکُمْ “،کے بعد ”اٴرجلِکُم“ کا آنا خود اس بات پر گواہ ہے کہ پیروں کا بھی مسح کیا جائے نہ کہ ان کو دھویا جائے،(اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ”اٴرْجلَکم“کے لام پر زبر آیا ہے تو ”بِرُءُ وسِکُمْ “کے محل پر عطف ہوا ہے نہ کہ ”وُجُوہَکُم“ پر)

بشکریہ اسلام ان اردو ڈاٹ کام

برچسب ها: روانشانسی

مرتبط نوشته ها

موجودہ پروگرام

پشاور، جامعہ شہید عارف الحسینی میں عظمت شہدا و استقبال محرم کانفرنس کا انعقاد

6 مهر, 1395
موجودہ پروگرام

قيامت اور معارف و تعليمات اسلامي ميں اس کا مقام

27 شهریور, 1395
موجودہ پروگرام

عاشورا کا انقلاب اور امام حسین علیہ السلام کے مقاصد

28 آبان, 1394
موجودہ پروگرام

علوم آل محمد(ع) کی گھتیاں وا کرنے والے باقر آل محمد(ص)

30 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

امام محمد تقی علیہ السلام کا قاتل کون تھا؟

23 شهریور, 1394
موجودہ پروگرام

ہمیں حق شناس حق محور اور حق کے معیار پر کھرا اترنا چاہیے

10 شهریور, 1394
نوشته‌ی بعدی

اگر شيعہ حق پر ہيں تو وہ اقليت ميں کيوں ہيں؟

دیدگاهتان را بنویسید لغو پاسخ

نشانی ایمیل شما منتشر نخواهد شد. بخش‌های موردنیاز علامت‌گذاری شده‌اند *

آخرین مطالب

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

تعامل دین و توسعه، امکان یا امتناع

26 آبان, 1404
نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

نامه ای سرگشاده به دختران بی حجاب وطنم

26 مهر, 1404
نكته هايى درباره جهانى شدن

نكته هايى درباره جهانى شدن

12 مهر, 1404
دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

دين و فرهنگ بر پايه متون باستانى ايرانى

10 مهر, 1404
بارگذاری بیشتر
دبيرخانه دين‌پژوهان كشور با هدف تعميق، توسعه و ترويج پژوهش‌هاي ديني، بهينه‌كردن اطلاع رسانى، پشتيبانى از مراكز دين‌پژوهى و پژوهشگران ديني، فعاليت می کند. اين دبيرخانه از نظر تشكيلات و سازماندهي در ابتدا تحت پوشش و حمايت وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي و سپس پژوهشگاه فرهنگ، هنر و ارتباطات قرار گرفت و در ادامه کار با پيشنهاد دبير شورای برنامه‌ريزی دين‌پژوهان و موافقت مسئولان وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامي، به عنوان مؤسسه‌ای غيردولتی و غيرانتفاعی به ثبت رسيد.
 
دفتر مركزى در قم
نشاني: قم ، بلوار ۴۵ متری عماریاسر ، بین کوچه ۴ و ۶ ، مجمع جهانی شیعه شناسی ، دبيرخانه دين‌پژوهان
تلفن : ۳۷۷۱۳۷۷۳ ـ ۰۲۵
آدرس سایت:
www.dinpajoohan.com

پست الکترونيک:
info@dinpajoohan.com

 

نقل مطلب با ذکر منبع آزاد است.

کلیه حقوق مادی و معنوی این سایت متعلق به دبیرخانه دین پژوهان کشور می باشد.